گنجے اور گنجیاں ، تحریر: ڈاکٹر عارفہ صبح خان کی طنز و مزاح پر معرکة الآرا تخلیق
کینسر کی حالت میں زندگی اور موت کے درمیان لکھی گئی کتاب
موت میرے سر پر پنجے گاڑے کھڑی تھی اور میں طنز و مزاح تخلیق کررہی تھی۔ ڈاکٹر عارفہ صبح خان
– مردوں کیلئے خوشی کا مقام ہے کہ خواتین میں ایک پطرس بخاری پیدا ہو گئیں۔ کرنل محمد خان مرحوم
– ڈاکٹر عارفہ صبح خان پاکستان کی پہلی مزاح نگار خا تون اور پہلی کرائم لیڈی رپورٹر ہیں۔
لاہور (بی بی سی) سامنے موت کھڑی تھی اور میں مزاح تخلیق کر رہی تھی۔ میں اپنی زندگی سے مکمل نا امید اور مایوس تھی کیونکہ موت میرے سر پر پنجے گاڑے کھڑی تھی۔۔ میری کینسر کی دوسری سٹیج تھی تب میں نے شدید ڈیپریشن کی حالت میں طنز و مزاح تخلیق کیا ” خیابان ادب کی چیئرپرسن، نامور ادیبہ شاعرہ صحافی دانشور ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے بتایا کہ گزشتہ برس انھیں کینسر جیسی جان لیوا بیماری ہوگئی۔ وہ اس موذی مرض سے لڑتے لڑتے نڈھال ہو کر ڈیپریشن میں چلی گئیں۔ انہوں نے کرب اور مایوسی کی حالت میں طنز و مزاح لکھنا شروع کر دیا۔ گنجے اور گنجیاں” کے نام سے انہوں نے ایک معرکتہ الآراءشاہکار تخلیق کیا۔ ڈاکٹر عارفہ کی کتاب “گنجے اور گنجیاں انتہائی پر لطف ، دلچسپ ، انہونی اور مزاح سے بھر پور کتاب ہے۔ پبلشر اور رائٹر سید وقار معین کا کہنا ہے کہ یہ اس صدی کا سب سے خوبصورت مزاح ہے۔ اس کتاب کے مزاح پارے، ادب کی دنیا میں مزاح نگاری کو بلندیوں پر لے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ نے یہ مزاح ایسی حالت میں لکھا ہے جب لمحہ لمحہ موت انکی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ کینسر کی دوسری سٹیج پر تھیں۔ انکی کیموتھیراپی مکمل فیل ہو گئی تھی۔ انھیں دو مرتبہ سرجری کے طویل عمل سے گزرنا پڑا۔ وہ اٹھنے بیٹھتے، لکھنے پڑھنے اور بولنے کے قابل بھی نہیں تھیں۔ ڈاکٹر عارفہ کا کہنا ہے کہ میری 300 راتیں اپنی ممکنہ موت پر روتے سسکتے گزریں جبکہ 300 دن انہوں نے مسلسل یہ کتاب لکھی۔ ریڈی ایشن کے بعد ابھی وہ ٹارگٹیڈ ڈ تھیراپی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ صبح خان اپنے فن کی داد پاکستان ،بھارت، مصر کے مایہ ناز نقادوں ادیبوں دانشوروں اورمزاح نگاروں سے وصول کر چکی ہیں۔ وہ پاکستان کی پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کے علاوہ پاکستان کی پہلی کرائم لیڈی رپورٹر ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ معروف اور صف اول کے مزاح نگار کرنل محمد خان مرحوم نے انھیں خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب دیا اور انکی مزاح پر شائع ہونیوالی مشہور زمانہ کتاب شٹ اپ کے فلیپ میں لکھا کہ ہم مردوں کے لئے خوشی کا مقام ہے کہ خواتین میں بھی ایک پطرس بخاری پیدا ہوگئیں۔ مشتاق یوسفی، شفیق الرحمان، اشفاق احمد ، احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، ڈاکٹر وزیر آغا ، ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر مجید نظامی جیسی جید شخصیات نے انہیں دادو تحسین سے نوازا ہے۔ مجید نظامی نے ڈاکٹر عارفہ کو ” صحافت کی شیرنی” کا خطاب دیا۔ پرویز مشرف ، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف، کلثوم نواز اور بیشمار سیاستدانوں نے انکے قلم کی طاقت کو سراہا۔ ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے پندرہ کتابیں، درجنوں افسانے ،سینکڑوں مضامین ، ہزاروں کالمز لکھے ہیں صرف مزاح نگاری پر ان کی چار کتابیں شٹ اپ، مابدولت،کرکرے کردار،گنجے اور گنجیاں ہیں وہ پاکستان کی واحد صحافی خاتون ہیں جن کے کریڈٹ پر 12 گولڈ میڈلز اور 70 ایوارڈز ہیں ۔گنجے اور گنجیاں جس قدر مزاح سے بھر پور ہے، اس کا دیباچہ اسی قدر رلا دینے والا ہے جو خون کے آنسوؤں سے قلمبند کیا گیا ہے۔ انکے شاندار مزاح کا اندازہ چند مزاح پاروں سے ہو سکتا ہے ،مثلاً فرمالوجی یا ٹر خالوجی ، کا نپیں ٹانگ جاتی ہیں ، لہوڑلہو رہے ، چھچھوراا ایسوسی ایشن، سیاستدانوں کے سائیڈ ایفیکٹس ، بونگیاں، ایج کمپلیکس ، ویلی قوم ، ایزی لوڈ والی صبا ، محبت بھی بوڑھی ہو جاتی ہے، انجمن ستائش باہمی ، ساس نہیں راس، سائیں قائم علی شاہ و غیرہ
0