اسلام آباد ( بی بی سی)صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یٰسین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بحال رکھنے سے جہاں سپریم کورٹ کا وقار بلند ہوا ہے وہاں پارلیمان کا قانون سازی کا اختیار تسلیم کیا گیا ہے فل کورٹ کے فیصلے سے آئین اور جمہوریت کی فتح ہوئی ہے سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو بحال رکھنے کے فیصلہ کے ملک جمہوریت اور عدل وانصاف کے حوالے سے بہترین اثرات مرتب ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عدلیہ انصاف کے لیے عوام کی آخری امید ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ سے پارلیمان کی بالادستی قائم ہوئی ہے اب پارلیمان کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی میں آسانی ہو گی انہوں نے کہا کہ ان ہی قوموں نے ترقی کی ہے جہاں پارلیمان کی بالادستی قائم رہی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمان بھی کی بالادستی بھی اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب سیاسی فیصلے پارلیمان میں ہوں ہر سیاسی فیصلہ کے لیے جب سیاسی قوتیں عدالتوں کا رخ کریں گی اور سیاسی معاملات عدالتوں میں طے کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو پھر خرابی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ گذشتہ عرصہ میں سیاستدانوں نے پارلیمنٹ کے بجائے فیصلے عدالتوں کے سپرد کر دیے تھے جس کے اثرات أج بھی سیاسی نظام پر موجود ہیں اور رہیں گے
0