0

اولڈ ہاوس قسط چہارم ، تحریر: مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ

اولڈ ہاوس قسط چہارم ، تحریر: مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ

بیگم کلثوم کو تشویش لاحق ہونے لگتی ہے اور وہ سوچتی ہیں کہ ماہم کو کیا ہوگیا ہے۔ آج سے پہلے تو وہ کبھی اتنے غصے میں نہیں آئی، وہ تو میرے روک ٹوک کرنے پر بھی اتنا غصہ نہیں کیا کرتی۔ رات کو کھانے پر بیگم کلثوم کھانے کی میز پر اکیلی بیٹھی ماہم اور زبیر کا انتظار کرتی رہتی ہیں مگر کوئی بھی کھانا کھانے نہیں آتا۔ زبیر رات کو دیر سے گھر واپس آتا ہے ماہم اسکا کمرے میں بیٹھی انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہورہی ہوتی ہے ماہم جانتی تھی کہ زبیر اور ہمنا یونیورسٹی میں اچھے دوست تھے اور ہمنا زبیر کو پسند کرتی تھی۔ اور ہمنا زبیر سے شادی بھی کرنا چاہتی تھی۔ یہ سب سوچ کر ماہم کو اور بھی غصہ آتا ہے۔ رات کو زبیر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ماہم زبیر پہ برس پڑتی ہے اسی بات پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوجاتا ہے۔ اگلی صبح جب زبیر اور بیگم کلثوم ناشے پر ماہم کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، زبیر کی اچانک نظر سیڑھیوں پر پڑتی ہے۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اس کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگتے ہیں اسکے چہرے پر دھیرے دھیرے غصہ آنے لگتا ہے۔بیگم کلثوم حیرت سے زبیر کیطرف پھر وہ سیڑھیوں کی طرف دیکھتی ہے اور اٹھ کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ ماہم تیزی سے اپنا سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے آتی ہے اور لاؤنچ کے دروازے کی طرف بھڑنے لکتی ہے۔ ماہم،ماہم! بیگم کلثوم جلدی سے ناشتے کی میز سے اٹھ کر ماہم کے پیچھے بھاگتی ہے۔ ” ارے کیا ہوا؟ کہاں چلی تم اتنی صبح، ناشتہ تو کرلو۔۔۔۔۔۔۔ ماہم پلٹ کر بیگم کلثوم کو دیکھتی ہے،اور پھر زبیر کی طرف دیکھتی ہے۔ ” یہ آپ اپنے بیٹے سے پوچھیں “وہ یہ کہ کر منہ پھیر لیتی ہے۔ بیگم کلثوم سوالیہ نظروں سے زبیر کی طرف دیکھتی ہے، اتنے میں زبیر بھی بیگم کلثوم اور ماہم کے قریب آجاتا ہے۔ زبیر ہاتھ بڑھا کر ماہم کا بیگ پکڑنے لگتا ہے، ماہم اسکا ھاتھ جھٹک دیتی ہے اور اپنا بیگ پیچھے کرلیتی ہے۔ بند کرو یہ ناٹک تم نے زندگی کو مزاق سمجھ رکھا ہے، مگر میں اپنی زندگی کو مزاق نہیں بننے دوں گی، ماہم زبیر پر چیختی ہے۔ دھوکہ دیا ہے تم نے مجھے، برباد کردیا ہے تم نے مجھے۔ تم اپنی ماں کے ساتھ مل کر جو کھیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی جملہ مکمکل نہیں کرپاتی کہ، زبیر طیش میں آکر ماہم پر ھاتھ اٹھاتا ہے، ماہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر بیگم کلثوم ماہم کا ھاتھ روک لیتی ہے۔ ماہم کو اور بھی غصہ آتا ہےاور وہ غصے میں تیزی سے بیگ گھسیٹتی ہوئی گیٹ سے باہر چلی جاتی ہے، ڈرائیور چاچا ماہم کو اس کے ماں باپ کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔ ادھر بیگم کلثوم سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ زبیر ماں کو تسلی دیتا ہے۔ وہ اتنا کیوں بگڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔؟ بیگم کلثوم سوچنےلگتی ہی، پھر اچانک چونک جاتی ہے اور اٹھ کر زبیر کے پاس آتی ہے۔”ادھر دیکھو زبیر“ وہ پھر زبیر سے مخاطب ہوتی ہیں۔” دیکھو زبیر! ٹھیک ہے تمہارے اور ماہم کے تعلقات شروع سے ہی اتنے اچھے نہ تھے مگر اب ایسا کیا ہوگیا کہ ماہم گھر ہی چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔؟ دیکھو زبیر مجھے سچ سچ بتاؤ کہ آخر بات کیا ہے۔“
” جی مما وہ دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زبیر ہچکچاتا ہے۔“
بیگم کلثوم تجسس اور پریشانی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھتی ہے۔۔۔۔
ہمنا امریکہ سے وااپس آگئی ہے اور وہ آج کل میرے ساتھ میرے آفس میں کام کر رہی ہے۔ بس یہی وہ بات ہے جو ماہم کو بری لگی ہے، وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بیگم کلثوم کی طرف دیکھتا ہے جو بت بنے زبیر کے چہرے کو تک رہی تھیں شاید وہ جانتی تھیں کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔
ادھر ماہم اپنے ماں باپ کو سب کچھ بتا دیتی ہے اور وہ اپنی بیٹی کو گھر بٹھا لیتے ہیں۔زبیر اور ماہم کے تعلقات اتنے خراب ہوجاتے ہیں کہ ماہم علیحدگی کا فیصلہ کریتی ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں