0

“قومی زبان اور تلفظ و املا”تحریر محمداکمل فخری

“قومی زبان اور تلفظ و املا”
تحریر محمداکمل فخری
(دوسری قسط)
دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔مختلف بولیوں والے ممالک میں باہم رابطے کی ایک ہی زبان ہوتی ہے جسے قومی زبان کہتے ہیں۔یہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ ملکی و قومی شناخت بھی ہوتی ہے۔جن ممالک نے قومی زبان کو ترجیح دی انہی ممالک نے ترقی کی اور وہی قومیں زندہ ہیں۔اور جن اقوام نے اپنی قومی زبان کو مٹایا دراصل خود کو مٹایا۔لیکن بدقسمتی کے ساتھ میرے پیارے وطن میں قومی زبان غریب الوطنی کا شکار ہےاس کے ساتھ سوتیلی ماں سا سلوک کیا جارہا ہے۔نا صرف حکمران و افسران بالا اس کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں بلکہ قوم خود اس کا حلیہ بگاڑنے میں پیچھے نہیں ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قومی زبان کو رابطے کی زبان کے ساتھ ساتھ دفتری زبان بھی ہوتی مگر ایسا نا ہوسکا۔کئی دفعہ حکومت کی طرف سے نفاز اردو کے وعدے کیے گئے اور عدالتی فیصلے بھی ہوئے مگر یہ سب ہوا ہوئے۔غریب الوطن زبان یہاں ایسی اجنبی ہوئی کہ آج ہمارے نوجوان اردو بولنے اور لکھنے کا حق ادا نہیں کر سکتے ہیں یہ بات بھی نہیں کہ نفاز اردو یا صحت تلفظ و املا پر کام نہیں ہوا ۔کام ہوا بھی ہے اور ہو بھی رہا ہے اور یہ بات بھی نہیں کہ حکومتی سطح پر اردو کی خدمت نا کی گئی ہو۔جہاں سراہنے والی بات ہو سراہی جائے کہ حکومت نے لغت تیار کر کے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا دیا ہے لیکن یہاں دوش صرف حکومت کو ہی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ قوم نے اس کی کتنی آبیاری کی۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ اس کا تشخص مٹانے کی ذمہ دار بھی قوم ہے۔اس کی مثالیں آپ ٹیلی ویژن پر ملاحظہ کر چکے ہوں گے مجھے محترم غلام محی الدین صاحب کی بات یاد آرہی ہے جو اکثر کہا کرتے تھے میں ٹیلی ویژن نہیں دیکھتا کیونکہ وہاں بھونڈی زبان بولی جاتی ہےٹیلی ویژن پر فنکار کیا ،نیوز کاسٹر کیا ،میزبان کیا اور اچھے بھلے دانشور بھی زبان کے ساتھ نا انصافی کرتے نظر آتے ہیں جنہیں کوئی سمجھانے والا نہیں ۔بس انہیں بولنا آنا چاہیے اور بولی نہیں۔ٹیلی ویژن کے علاؤہ کئی کالم نگار بھی انگریزی کے ساتھ احساس تفاخر جتاتے اورقومی زبان کی بغیر صحت تلفظ کے خدمت کرتے نظر آئیں گے اور جب ان سے کہا جائے کہ صحت زبان کا کچھ تو خیال کیجیے تو جواب آتا ہے کہ ہم اہل زبان ہیں اور معترضہ الفاظ زبان زد عام ہیں حالنکہ علمی الفاظ کےاستعمال کے لیے اہل زبان کا تلفظ سند نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے علمی تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔بہرحال راقم نے یہاں چند ایسے الفاظ کا انتخاب کیا ہے جو عام بول چال میں استعمال ہوتے ہیں بولنے والے یا تو ان کا تلفظ درست نہیں بولتے یا پھر املا میں اغلاط کر جاتے ہیں۔ایک پرنسپل صاحب کا تکیہ کلام تھا” گو کہ” اگر دیکھا جائے تو گو کے بعد کہ کا اضافہ فصاحت کے خلاف ہے اسی طرح غرضیکہ میں بھی یا کا اضافہ درست نہیں ہے آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔جبکہ درست ہے میری سمجھ میں نہیں آتا ۔اسی طرح آپ نے سنا ہو گا کہ فلاںشخص گالی نکال رہا ہے جبکہ درست ہے گالی دینا یا گالی بکنا۔ایک دوست کے منھ سے سنا کہ میں فلاں کتاب سے استفادہ حاصل کروں گا جس کا مطلب ہے فائدہ حاصل کرنا جبکہ فائدہ کے بعد حاصل اضافہ ہے اور بلکل اسی طرح جیسے ماہ رمضان کا مہینا کہیں یا لیلتہ القدر کی رات کہیں۔اکثر والدین بچوں کو کہتے ہیں کہ جوتا ڈالو جوتا ڈالنے کی بجائے جوتا پہننا درست ہے اسی طرح کہا جاتا ہے کہ برا نہیں منانا ۔جبکہ درست ہے برا ماننا ۔بعض دوست ہائے ملفوظ کی جگہ ہائے مخلوط لکھتے ہیں جیسے بہاول نگر کو بھاولنگر کہنا یا بہاول پور کو بھاول پور لکھنا جو سراسر غلط ہے۔عربی میں بہت سے الفاظ کے آخر میں حمزہ ء کا اضافہ آتا ہے مثلا علماء ،انبیاء وغیرہ جبکہ ایسے الفاظ کے ساتھ اردو میں حمزہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ کہتے ہیں کہ “جمال الانسان فی اللسان “یعنی انسان کا جمال اس کی زبان ہے لیکن قربان جاؤں ایک اسکالر پر جو مہمان کا تعارف کراتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوئے کہ یہ فلاں دان شؤر ہیں( دانش ور) ہیں انگریزی کے ویسے تو کئی الفاظ اردو میں مستعمل ہیں لیکن یہاں صرف دو کا ذکر کروں گا کیپٹن اور بوس کا جب یہ اردو میں آئیں گے تو کپتان اور باس بولے جائیں گے حالنکہ ان کے نعم البدل بھی اردو میں الفاظ موجود ہیں۔مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا وہاں قوم کے معمار کو عراق کو اوروق بولتے سنا تو مجھےبالکل حیرت نہیں ہوئی کیونکہ
اردو کو مٹا دیں گے ہم اک روز جہاں سے
یہ بات بھی کم بخت نے اردو میں کہی تھی
اکثر آپ نے سنا ہو گا کہ دروازہ باہِر کھولیں جبکہ درست تلفظ ہے باہَر ہ پر زبر کے ساتھ۔اسی طرح واپِس آئیں کی جگہ واپَس آئیں کہیں۔اَبلاغ کی جگہ اِبلاغ کہا جائے غلط ل پر زبر ہے کو غلط ل پرجزم ہے کہنا بھی غلط ہے ۔اور مَذَمت بولنے پر تو مُذمت بنتی ہے ہمارے ایک گاؤں کا نام نادِرشاہ ہے جبکہ درست تلفظ نادَرشاہ ہے اسی طرح قادِرآباد کی جگہ قادَرآباد درست ہے۔ایک دوست جو کسی سرکاری محکمہ میں ملازم ہیں ان کے منھ سے سنا حاکم مَجَاز حالنکہ وہ حاکم کے ساتھ مَجاز کہنے کا مُجاز نہیں تھے یعنی درست مجاز میں میم پر پیش ہے ۔لہجے زبان کو بگاڑبھی سکتے ہیں اور سنوار بھی ۔ایک دوست جس پر انگریزی کا بھوت سوار تھا اس کے منھ سے پاکپتن کو پاکپٹن سنا تو اس بگاڑ پر حیرانی ہوئی ۔ٹیلی ویژن میں سنا کہ ایک جیب کُترا ک پر پیش ،پکڑا گیا ہے جبکہ درست تلفظ تھا جیب کَترا ک پر زبر کے ساتھ۔اسی طرح ایک لفظ مڈبھیڑ ہے جسے ے ۔ڑ سے پڑھنا چاہیے ۔افعُل کے وزن پر آنیوالے الفاظ بھی مظلوم نظر آئے جیسے گندُم کو گندَم کہنا اور مردُم کو مردَم کہنا بھی سراسر غلط ہے۔ایک مجلہ نظر سے گزرا وہاں علانیہ کو اعلانیہ لکھا ہوا پایا تو حیرانی ہوئی۔ہماری مسجد کے خزانچی کو میں نے اکثر جامع مسجد کی جگہ جامعہ مسجد تحریر کرتے دیکھا ۔اکثر درخواست کنندہ کو برائے کرم لکھتے دیکھا جبکہ درست املا ہے براہ کرم ۔اسی طرح ایک لفظ ہے تماشا ، کچھ اہل قلم کو تماشہ لکھ کر اس کا تماشا کرتے دیکھا ۔بے پروا کو بے پرواہ لکھنا بھی دراصل صحت املا کے ساتھ بے پروائی ہے۔
“بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ”
(جاری ہے)
تحریر محمد اکمل فخری بہا ول نگر پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں