لاہور ( آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈیفالٹ سےبچنا بہت بڑی کامیابی ہے،پوری قوم کوپتا ہونا چاہیےہم کن مراحل سےگزررہےہیں۔لاہور میں تاجروں اور صنعت کاروں سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دوارب ڈالرسعودی عرب،ایک ارب ڈالرمتحدہ عرب امارات سےآچکےہیں،چین نے5بلین ڈالرکےکمرشل لون رول اوورکیے، اگرچین کی طرف سے5بلین ڈالررول اوورنہ ہوتے توڈیفالٹ کرجاتے،اب آئی ایم ایف معاہدے کےبعد ہمیں اسپیس ملی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا وجہ ہےبنگلادیش ایکسپورٹ میں ہم سےآگےنکل گیا،یہ حکومت سمیت ہم سب کی مشترکہ ناکامی ہے،پاکستان میں صرف گنا لگاؤاورچینی بیچنےپرکام ہوا، نوے کی دہائی میں نوازشریف نےاکنامک ریفارمزکی تھیں جن کےزبردست نتائج نکلےتھے، آج نواورنیوروالی صورتحال ہے۔بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر وضاحت کرتےہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی منظوری کےبعد بجلی کےنرخوں میں بدقسمتی سےاضافہ کرنا پڑا، سرکلرڈیٹ کوکہاں لیکرجائیں، کوئی شک نہیں ٹرانسمیشن،لائن لاسزہیں، اہلکارملی بھگت سےملک کا بیڑہ غرق کررہا ہے۔وزیراعظم نے آئی ایم ایف معاہدےکے بعد لگنے والے ٹیکسز سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ نئےٹیکسزکی بھرمارکا آپ ٹھیک کہتےہیں، یا تونوٹ چھاپیں گے یا پھرٹیکسزلگائیں گے، بیسک ریفارمزاورٹیکس نیٹ کوبڑھانا ہوگا، یہ کام ہمیں کرنےہیں اوپرسےکوئی من وسلوا نہیں اترےگا،ہم بھارت،بنگلادیش سےپہلےآگےتھے، یہ ہےوہ چیلنج جس پرسنجیدگی سےغورکرنا ہوگا، ہمیں بنیادی اسٹرکچرمیں اصلاحات لاناہوں گی، آئی ایم ایف معاہدہ کوئی کھیرنہیں، امیرآدمی رولزرائس خرید رہےہیں غریب آدمی کےپاس نائیکل نہیں،غریب کا تنخواہ سےگزارہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ملک میں ایکسپورٹس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگرایکسپورٹ نہیں بڑھائیں گے توکباڑہ ہوجائےگا،تین بلین ڈالرکےقرضے بڑے بڑے کاروباری لےگئے، چھوٹا کاروبارکرنےوالوں کوکوئی پوچھتا نہیں،ہمارے پاس چیلنج کوقبول کرنےکےعلاوہ کوئی آپشن نہیں، شبانہ روزمحنت کےلیےہمیں تیارہونا ہوگا، اشرافیہ کواللہ نےبےشماروسائل سےنوازا ہے، بیوروکریسی پرگزشتہ حکومت میں بے بنیاد الزامات لگائےگئے، نوازشریف نےجب اقتدارسنبھالا تو20،20گھنٹےلوڈشیڈنگ ہوتی تھی، آج جھنگ میں 1200میگاواٹ بجلی کا منصوبہ مکمل ہوگیا ہے، گزشتہ چھ سال میں جھنگ میں منصوبے کی لاگت بڑھنےکا کون ذمہ دارہے۔
0