ساجدہ سحر( فیصل آباد)
۔﷽
السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَـرَكـَاتــهُ
قربانی کی فضیلت اور اس کا حکم
قربانی دین اسلام کی اہم ترین عبادت ہے،اس ماہ مبارک میں لاکھوں مسلمان اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں اور ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں جانور اللہ کی رضا کی خاطر ذبح کیے جاتے ہیں، قربانی کی عبادت بندے کی اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ عشق و محبت کا مظہر ہے، ہونا یہ چاہیے تھا کہ بندہ خود اللہ تبارک و تعالی کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا؛ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اللہ تعالی نے جانوروں کو ذبح کرنا اس کے قائم مقام قرار دے دیا، اور جس شخص کو بھی اللہ تبارک وتعالی نے مالی وسعت عطا فرمائی ہے وہ شخص قربانی کرنا اہم دینی فریضہ سمجھتاہے اور بہت بد نصیب ہے وہ آدمی کہ جو باوجود مالی وسعت کے اس عظیم عبادت سے محروم رہے، بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آرہا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی نے سورت المائدہ میں سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالی کے حضور قربانی پیش کی ،ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا ۔اس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ آ کر قربانی کو کھا لیتی؛ چنانچہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا کیا اورقابیل کی قربانی وہیں پڑھی رہ گئی،یوں وہ قبولیت سے محروم ہو گئی۔
قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا؛ البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔انھیں میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالی نے امت محمدیہ…کو عیدالاضحی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے جوکہ حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے ۔احادیث مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بہت زیادہ اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی ہے؛چنانچہ حضرتِ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، ”یا رسول اللہ!یہ قربانیاں کیا ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،”تمہارے باپ ابراہیم علیہِ السَّلام کی سُنَّت ہیں “۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ،”یارسول اللہ !ان میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟“ فرمایا، ”ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے “۔عرض کیا ، ”اور اُون میں“؟ فرمایا، ”اس کے ہرہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے“۔(ابن ماجہ ،کتاب الاضاحی)
اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کرنے کا کتنا عظیم ثواب بیان فرمایا ہے کے جانوروں کے بالوں کے بقدر جو کہ گنناناممکن ہے بندے کو اللہ تبارک و تعالیٰ نیکیاں عطافرماتے ہیں،دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،ایام قربانی میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے، اور قیامت کے روز قُربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں سمیت حاضر ہوگا، اور بلاشُبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے ،تو اے مومنو!خُوش دِلی سے قُربان کیا کرو۔ (تِرمِذی)ایک اور روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ارشاد فرمایا:اے فاطمہ! اُٹھو اپنی قُربانی کے جانور کے پاس جاؤ اور اسے لے کر آؤ؛ کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرنے پر تمہارے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اُنہوں نے عرض کیا:”یا رسول اللہ !یہ انعام ہم اہلِ بیت کے ساتھ خاص ہے یا ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟“تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:”بلکہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے“۔(المستدرک،کتاب الاضاحی)
ایک اورروایت میں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الأضاحی)حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم … دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتے تھے۔ (سنن ترمذی )
حضور نبی کریم …کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت ، فضیلت اور تاکید کے لیے کافی ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم …سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرما کرتے تھے اور اپنے پاؤں کو ان کی گردن کے پاس رکھ دیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری)
قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضورنبی کریم…نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی،ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم …نے خود اپنے دستِ اقدس سے سومیں تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا؛جب کہ باقی کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔(صحیح بخاری)
اللہ پاک ہم۔سب کی قربانی قبول اور منظور فرمائے ہم اللہ پاک سے راضی ہیں اللہ پاک ہم سے راضی ہو۔۔۔ آمین ثمہ آمین
0