عید قرباں اور نیت
تحریر ساجدہ سحر(فیصل آباد)
سلامتی ہو آپ سب پر احباب۔۔
شروع اللہ کے نام۔پر جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔۔۔۔
عید قرباں آرہی ہے
مطلب عیدالضحی!
تو یہ بھی بہت بہترین موقع ہے جانتے ہو بھلا کس چیز کا موقع ؟ تو سنیں اللہ پاک کو راضی کرنے کا موقع ۔ عید الضحی پے خوشیاں بانٹیے محبتیں بانٹیے دیکھیں قربانی کا مقصد بھی یہی ہے اللہ پاک کی رضا کا حصول قربانی ریاکاری کا نام نہیں ہے اور نہ ہی گوشت کھانے کا نام ہے بلکہ عید اور قربانی کے مقصد کو سمجھیے.عید قرباں آتو رہی ہے فریج صاف کریں گے مگر اس سے ذیادہ نیت کو صاف رکھنا ہے لوگ بہت ریاکاری کرتے ہیں جانور لاٹے ہیں تو نمائش کرتے دکھاوا کرتے ہیں جو کہ اللہ پاک کو بہت ہی ناپسند ہے توخدارا مسلمانوں ایسے کاموں سے خود کو بچائیے گا۔صاف نیت کے ساتھ سنت ابراہیم علیہ السلام ادا کیجیے گا۔ کیونکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں گوشت بوٹیاں نہیں بلکہ وہاں ہم سب کی نیتیں پہنچیں گیں اور اللہ پاک کی دی ہوئی عقل سے فیصلہ کیجیے کہ جناب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کیا بیٹے کا گوشت کھانے کے لئے تھی؟ اللہ اکبر کبیرا ۔۔ ہرگز نہیں یہ تو اللہ پاک کا حکم تھا اس کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود تھا ۔اور لوگ بس فریج بھرتے جبکہ قربانی کے تین حصے ہوتے ہیں ایک غربا کا حصہ ایک رشتےداروں کا اور ایک حصہ خود قربانی کرنے والے کا ہوتا ہے قربانی اللہ کے نام پر دی جاتی ہے توجتنا ہو سکے گوشت ضرورت مندوں تک پہنچایا جائے اور قربانی خالصتا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کی جائے۔ویسے تو قربانی صرف جانوروں کو ذبح کڑنے کا نام نہیں ہے سوچیے قربانی تو صبح فجر کی نماز کے لیے اٹھنا بھی قربانی ہے نماز ظہر کام کو چھوڑ کر پڑھنا بھی قربانی ہے۔ عصر مغرب عشاء پڑھنا سب قربانی ہے گناہوں سے کنارہ کرنا اور خود کو اللہ کی راہ میں لگا لینا بھی قربانی ہے مطلب قربانی بس جانوروں کر گردنوں کو ذبح کرنے کا نام ہرگز نہیں ہے مہنگےجانور ذبح کر کے لوگ اتراتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ جی قربانی ادا ہو گئی قربانی کا فلسفہ سمجھیے۔عید خوشی مسرت اور شکر گزاری کرنے کا نام ہے۔ محبتون عقیدتوں کا نام ہے دلوں کوصاف کرکے ملنے کا نام ہے تحفے تحائف دینے کا نام ہے..
0