اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 15مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،فارمیشن کانفرنس کا بیان بھی موجود ہے،جی پریس ریلیز میں یہ ہی کہا گیا، لطیف کھوسہ نے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدلتوں سویلین ٹرائل کیخلاف کیس کی سماعت دوبارہ ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل ہیں،جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں۔سردار لطیف کھوسہ نے دلائل کا آغاز کردیا،دوران سماعت لطیف کھوسہ نے آرٹیکل 245کے تحت فوج طلب کرنے کا حوالہ دیا۔جسٹس یحییٰ آفرید ی نے کہامیرے خیال میں آرٹیکل 245کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹیفکیشن واپس ہو گیا ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جواب میں کہا کہ یہ درست ہے۔سردار لطیف کھوسہ نے کہاکہ 15مئی کو کور کمانڈر میٹنگ میں کہا گیا 9مئی کے واقعات کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں،فارمیشن کانفرنس کا بیان بھی موجود ہے،جی پریس ریلیز میں یہ ہی کہا گیا، لطیف کھوسہ نے پریس ریلیز پڑھ کر سنا دی۔
0