اسلام آباد( آن لائن)سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران درخواست گزار سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ 25کروڑ عوام کہاں جائیں گے،اس پر جسٹس سردار طارق مسعود نے کہاکہ پہلے سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوتا رہا اس وقت آپ کہاں تھے،جب 25کروڑ عوام کا کیس آئے گا پھر دیکھیں گے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے کو یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے کیس سننے سے انکار کردیا ہے،میراموقف ہے پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ کیا جائے۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں 9رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود بنچ سے الگ ہو گئے، جس پر لارجر بنچ تحلیل ہو گیا،جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے فیصلے تک بنچ کو کورٹ ہی نہیں مانتا،ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں،چیف جسٹس صاحب اور دیگر ججز سے گزارش ہے بیٹھے رہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ابھی اس کا کچھ کرتے ہیں،تمام ججز اٹھ کر کمرہ عدالت سے چلے گئے ۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری رائے کو یہ نہ سمجھا جائے کہ میں نے کیس سننے سے انکار کردیا ہے،میراموقف ہے پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا فیصلہ کیا جائے۔
0