آپا منزہ جاوید اسلام آباد
عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت
* {وَالْفَجْرِ• وَلَيَالٍ عَشْرٍ•} (الفجر: 1-2)
“فجر کی قسم، اور دس راتوں کی قسم”
سلف سے مروی ہے کہ دس راتوں سے ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں (عشرہ اولی) مراد ہیں۔ اللہ تعالی کا کسی چیز کا نام لے کر قسم کھانا اس شے کی عظمت و مرتبت کو ظاہر کرتا ہے۔
* {وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ} (الحج:28)
“اور وہ ان مقررہ ایام میں اللہ کے نام ذکر کریں”
ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان مقررہ ایام سے مراد یہ دس دن ہیں۔
•- ان دنوں میں اعمال کی فضیلت:
* ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال سے بڑھ کر کوئی بھی عمل افضل نہیں” صحابہ نے پوچھا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ فرمایا: “جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال سب لے کر نکلا اور ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لایا۔” (بخاری)
4- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ان دس دنوں سے بڑھ کر اللہ کے ہاں کوئی دن عظمت والا نہیں، اور نہ ان دنوں کیے گئے اعمال سے زیادہ کوئی عمل محبوب ہے۔ لہذا تم ان ایام میں زیادہ سے زیادہ تہلیل، تکبیر اور تحمید کیا کرو۔” (طبرانی/ المعجم الکبیر)
*تہلیل: لاالہ اللہ پڑھنا؛ تکبیر: اللہ اکبر پڑھنا؛ تحمید: الحمدللہ پڑھنا۔
•- یومِ عرفہ کا روزہ:
* عرفہ کے دن (نو ذی الحجہ) کے روزے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کےلیے کفارہ ہوگا۔” (مسلم)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ، عاشورا اور ہر مہینے کے تین دن (تیرہ چودہ پندرہ) روزہ رکھا کرتے تھے۔ (احمد، ابوداود، نسائی)
•- تکبیرات کا اہتمام:
* ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ان دس دنوں میں تکبیر بلند کرتے ہوئے بازاروں میں نکل کھڑے ہوتے۔ ان کی تکبیر سن کر لوگ بھی تکبیر پڑھتے۔ (بخاری)
* عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان دنوں مِنٰی میں اپنے خیمے میں تکبیر بلند کرتے۔ مسجد میں بیٹھے لوگ ان کی آواز سن کر تکبیر پڑھنے لگتے۔ پھر بازاروں میں پھرتے لوگ بھی تکبیر بلند کرنے لگتے۔ حتی کہ تکبیر کی آواز سے مِنٰی کا میدان گونجنے لگتا۔ (بخاری)
تکبیر کے الفاظ:
“الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلاّ الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد. الله أكبر كبيرًا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا.
0