ساجدہ سحر فیصل آباد
ذہنی سکون کیسے حاصل ہو؟
سلامتی ہو آپ سب پر احباب جن کی بصارت سے میری تحریر گزرے گی۔۔۔۔۔۔
جیسا کے اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ
آلاء بذکر اللہ تطمئن القلوب @
(ترجمہ)خبر دار اللہ کے ذکر میں ہی دلوں کا سکون ہے۔
دل کا سکون تو اللہ پاک کی یاد میں ہے
مگر ذہن کو پر سکون کیسے بنایا جائے ؟
تو پھر میری سوچ اور سمجھ کہتی ہے کہ ذہن کو سکون تب ہی مل سکتا ہے جب ہم ہر حال میں خود کو خوش رکھنے کی کوشش کریں اور جیسے بھی حالات ہوں اللہ کے شکر کو زبان پے رکھیں کیونکہ کچھ لوگ ہی نہیں بلکہ ذیادہ تر لوگ ناشکری کی وجہ اپنا ذہنی سکون کھو دیتے ہیں جبکہ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھیں کہ جن کے پاس وہ سہولتیں نہیں ہیں جو ان کے پاس ہیں اگر کسی بندے کے پاس دو تین مرلے کا گھر ہو مگر وہ بس اپنے اوپر والے کو دیکھ دیکھ کر ذہن کو بے سکون کیے رکھتا ہے تو یہ غلط بات ہے ناشکری بہت بڑی وجہ ہے ذہن کو بے سکون کرنے کی ۔شکر سے ذہن پر سکون رہتا ہے اور کوشش کریں کہ زندگی سے پے مقصد اور فضول کاموں کو نکالنا بھی سکون دیتا ہے تو کوشش کریں کہ خود کو بامقصد اور اچھے کاموں میں مصروف رکھیں مصروف رہنے سے بھی انسان ڈپریشن بے سکونی سے بچ سکتا ہے نماز کی باقاعدگی تو ذہن کو کیا روح تک کو تقویت سکون عطا کرنے کا بہترین عمل ہے روز مرہ کے معاملات میں ہر کام کا وقت مقرر کرنے سے بھی ذہنی کوفت سے بچا جاسکتا ہے اور میرے نزدیک جن کے گھر میں ماں باپ ہیں ان کی خدمت کرنا۔بھی سکون کا باعث بنتا ہے ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ اجر بھی بہت ہے صبح کسی پارک میں چہل قدمی کرنا بھی اپنے اوپر لازم کر لیں اس سے بھی ذھن اچھا رہنے لگتا ہے دیر تک سونا بھی ذہنی بے سکونی کا سبب بنتا ہے اس لیے صبح جلدی اٹھنا صحت کے ساتھ ذہن کو سکون دیتا ہے آفس یا گھر کے کاموں سے خود کو فری کر کے کبھی کبھار کسی پارک میں جانا اللہ پاک کے بنائے خوبصورت مناظر کو دیکھنا اور وہاں جا کر کچھ دیر فریش ہوا میں آنکھیں بند کر کے خود کو ریلیکس محسوس کرنا بھی ذہن کے سکون کا باعث بنتا ہے بس یقین رکھیں کہ ہمارے سوچنے پریشانی لینے سے ہمارے کام نہیں ہوں گے بلکہ ذہن کو ہم بیمار کریں گے کام تو تب ہوں گے جب اللہ پاک نے وقت لکھ رکھا ہے نا وہ وقت سے پہلے ہوں گے نادیر میں ہوں گےوہ تو وقت مقررہ پر ہوں گے جو وقت لکھ رکھا ہے اللہ پاک نے۔تو اپنا۔ ذہنی سکون مت خراب کریں اس اللہ پر کامل یقین رکھیں تاکہ ذہن پر سکون رہے۔
اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے
(وکل شیء عندہ بمقدار)
(ترجمہ)اور اس کے ہاں ہر چیز کی پیمائش اور مقدار ہے۔القران
مجھے آپ سب کی رائے درکار ہے تنقید برائے اصلاح
ساجدہ سحر فیصل آباد
0