0

چھوٹی چھوٹی نیکیاں،،تحریر: آپامنزہ جاوید.. اسلام آباد


آپامنزہ جاوید.. اسلام آباد
(چھوٹی چھوٹی نیکیاں)
آپکی تعلیم کسی کام کی نہیں اگر آپ نے اپنے علم سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا
آپکی دولت کسی کا کی نہیں اگر کسی کی مدد نہیں کر سکے
آپکی قابلیت کسی کام کی نہیں اگر اس سے کسی کی بھلائ نہیں ھو سکی
یہ دولت یہ علم یہ عہدے آپکے لیے ہیں دوسرے کا اس سے کوئ تعلق نہیں تو پھر دوسروں پر
اپنی تعلیم
اپنی دولت
اپنے عہدے کا رعب مت جھاڑیں
ھو سکتا ہے
وہ بندہ آپ سے زیادہ قابل اور اچھا ھو پس اسے موقعہ نہیں ملا
کون ہے جسکا دل نہیں چاہتا وہ خوب پڑھے بڑی بڑی ڈگریاں لے
لیکن وقت اور حالات سے مجبور کچھ کلاسیں پڑھ کر وہ روزی روٹی کمانے میں لگ جاتا ہے اور کچھ تو حالات کے اگے اتنے مجبور ھوتے ہیں کہ اسکول جانے کا خواب آنکھوں میں دباۓ زندگی گزار دیتے ہیں
چلتے پھرتے اسکول کی عمارت دیکھتے ہیں اور اس سے نکلتے بچوں کو حسرت سے دیکھ کر سواۓ ایک دبی سی آہ کے کچھ نہیں کر پاتے
یہی خواب انہیں زیادہ محنت کرنے پے آمادہ کرتے ہیں اور انہی خوابوں کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو اسکول ڈالتے ہیں تاکہ وہ خواب جسکی تعبیر کبھی نہیں پا سکے
وہ انکے بچے وہ تعبیر کی شکل میں پا سکیں لیکن ہاۓ مہنگائ تو کتنی ظالم ہے
اور اے معاشرے تیرے یہ ظالم دولت کے بچاری ڈگریوں کے نیچے دبے لوگ اسکول کی فیس ہی اتنی کر دیتے ہیں کہ غریب یا تو روٹی کھا لے یا بچوں کی اسکول کی فیس دیے کر انکو اسکول پڑھا لے کتابوں کا خرچہ کپڑے جوتے……. غریب تو چاہ کر بھی اپنے خواب پورے نہیں کر سکتا
کیا غریب خواب ہی دیکھتا رہے گا کمانے والی چکی بنکر کر سارا دن کام کرے کھانا کھاۓ اور کبھی
کھانا کھاۓ بغیر آنکھوں میں ننید سجاۓ صبح کمائ کی امید پے چارپائ پر کروٹیں بدلتا دن کا انتظار کرتا رہے
خالی پیٹ ننید بھی کہاں آتی ہے
پر یہ وہی جانتے ہیں جنکو کبھی خالی پیٹ رہنا پڑا ھو خالی پیٹ کام کرنا پڑا ھو بھرے پیٹ والا خالی پیٹ کی تکلیف کہاں جانتا ہے جب خالی پیٹ پانی پینا پڑے تو یہ پانی پیٹ میں کتنی درد کرتا ہے
ہاۓ غریب تیرے دن اور رات کے خواب تیری تکلیف کون جانے یہ تو ایسی کہانی ہے جب تک خود پر نہ بیتے اسکی تکلیف محسوس ہی نہیں ھوتی
کتنے چھوٹے چھوٹے خواب ھوتے ہیں جو انکی آنکھوں میں ابھرتے ہی دل کی گہرائیوں میں دفن ھوجاتے ہیں
یہ چھوٹے چھوٹے خواب پورے کرنا غریب کے لیے ایسے ہے جیسے ننھے بچے کے لیے ایک چھوٹی سی نالی عبور کرنا کیا غریبوں کے دکھوں کو کوئ جان نہیں پاۓ گا کیا انکے خواب کبھی پورے نہیں ھونگے
سب ھو سکتا ہے اگر ہم اپنے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو بانٹنا شروع کریں اپنے مال سے جتنی زکوة بنتی ہے اسے نکالیں کسی ایک خاندان کی سرپرستی کر لیں انکے بچوں کی فیس اسکول کا خرچہ اپنے ذمہ لے لیں. صدقه خیرات کرتے وقت کسی سفید پوش کم آمدنی والے کے گھر کبھی گوشت کبھی گھی کبھی انڈے بھیج دیں
جیسا کہ اب سردیاں آچکی ہیں کئ گھروں میں گرم کپڑے جوتے جرابیں کمبل رضائ کی ضرورت ھوگی
تو کیا جنکو اللّٰہ نے نعمتیں دیے رکھی ہیں اس میں غریبوں کا حصه نہیں ہے جب میرے اللّٰہ نے زکوة صدقه خیرات کا حکم دیا ہے تو ہماری کمائ میں غریبوں کا حصہ بنتا ہے.اگر ہم کم کم بھی مدد کریں تو کچھ تو دکھ کم ھونگے کچھ تو پیٹ بھر کر سو سکیں گے کچھ تو بھوک کی اذیت سے نجات پا لیں گے
علم کا بھی تو صدقه ھوتا ہے اپنے علم کا بھی صدقه نکالیں
کسی کے بچے کو کچھ دیر پڑھا دیا کریں اگر اردو آتی ہے تو اردو ہی لکھنی سیکھا دیں یہ مت سوچیں کہ میرے پاس تو زیادہ علم نہیں میں کیا سیکھاؤں جنکے پاس زیادہ علم ہے وہی بچوں کو پڑھا سکتے ہیں آپ کو جتنا آتا ہے کوشش کریں اسے دوسرے کو سیکھا دیں چاہیں کچھ لفظ ہی کیوں نہ ھوں پس مقصد رکھیں آپ نے بانٹنا ہے اسطرح غریبوں سے آپکا تعلق بنا رہے گا جس سے آپکا دل نرم رہے گا
آپ کے اندر نعمتوں کا شکر پیدا ھو گا.نعمتوں کی قدر آۓ گی
اسلام میں صدقه خیرات زكوة کا بہت ذکر ہے ہمیں یہ بھی بتایا گیا غلاموں کو آزاد کروانے پے بے بہااجر ہے ہم سوچتے ہیں اس دور میں غلام کہاں. ہیں جو ہم غلام کو آزاد کراویں
تو سوچیں یہ غربت غلامی ہی تو ہے مجبوری غلامی ہے. بےبسی غلامی ہے.
کسی بےبس کی مدد کریں
کتنے بے گناہ قیدی قید ہیں یا چھوٹے موٹے جرم میں جیلوں میں بند مجبور لوگ جنکے پاس بیل کرنے مقدمہ لڑنے یا پولیس کی کاروائ کرنے کے پیسے نہیں اور سالوں سے جیل میں بند اللہ سے مدد کی امید لگاۓ زندگی کے دن گن رہے ہیں آپ انکی مدد کر کہ انکو آزادی دلا سکتے ہیں .بچھڑوں کو ملا سکتے ہیں انکی آنکھوں کی روشنی بن سکتے ہیں
تعلیم والے ڈگری والے وکیل فری فی سبیل اللہ انکا کیس لڑکر انکو قید سے رہائ دلا سکتے ہیں
یہ غلام ہی تو ہیں آپ غلام آزاد کروانے جتنا ثواب کما سکتے ہیں.
کوئ ڈاکڑ ہے تو کسی غریب کو بغیر فیس چیک کر سکتا ہے اسکا علاج کر کہ اسے تکلیف سے رہائ دیا سکتے ہیں.
سوچیں یہ میرے رب کی عطا ہے کہ آپکے پاس اتنے وسائل ہیں آپ پڑھ سکے ایک مقام حاصل کر سکے.شکر کریں اللہ نے آپکو کسی کی مدد کرنے کے قابل کیا ہے
ورنہ ذہین تو ہر بندہ ہی ھوتا ہے پس کچھ کی دہانت کو پھلنے کا موقعہ مل جاتا ہے اور کچھ دن رات روزی کمانے کی تدبیر میں ہی دن سے رات رات سے دن کا سفر تمام کرتے ہیں…
اپنے علم اپنی ڈگری کا صدقه خیرات کیجیۓ.
ہم کہتے ہیں امیر دولت کی زکوة اور صدقه خیرات میں کنجوسی کرتا ہے تو سوچیے اپکے ذمہ جو ڈیوٹی ہے وہ آپ نے پوری کی اگر آپ صاحب علم ہیں
تو آپ نے کتنے بچوں کو فری علم سکھایا
اگر آپ ذہین تھے تو کتنے بندوں کی راہنمائ کی
کتنے لوگوں کے مسئلے حل کیے
اگر آپ اچھی باتیں کر سکتے ہیں
تو کتنے بندوں کے دکھ کا مرہم بنے
کتنے بندوں کو حوصله دیا
اگر آپ خوش اخلاق ہیں تو آپکی وجہ سے کتنے بندے چڑچڑے پن سے نکل سکے
.اگر آپ کے پاس کوئ ہنر ہے تو آپ نے اپنا ہنر کتنے بندوں کو سیکھایا.
ہم سب پر ایک ذمہ داری ہے جب تک ہم اپنے ذمہ داری کو اپنے مقصد حیات کو نہیں سمجھتے ہم سب اللّٰــــــــــــــــــہ کے حضور جواب دہ ہیں اگر ہم سب اپنی اپنی خوبی میں سے کچھ بانٹنا شروع کردیں
تو اِن شآءاللّٰہ تعالی ہماری کمیاں خامیاں ختم نہیں تو کم ضرور ھو جائیں گی
یاد رکھیے ہر بندہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسرے کا محتاج ہے کتنے بھی امیر ھو جائیں آپ گھر کی الماری خود نہیں بنا سکتے
آپ کتنے بھی ہنر مند ھو جاؤ آپ کسی چیز کو پڑھنے کے لیے علم والے کے محتاج ھو آپ کتنے بھی علم پڑھ جائیں تدبیر کرنے کے لیے ذہانت کے محتاج ھو اور تو اور اگر معاشرے میں غریب نہ ھوں تو آپ اپنی زکوة صدقه خیرات کسے دیں گے
احسان مانیں کہ کوئ آپکی مہربانی اور توجہ کا منتظر ہے
اپنے زندہ ھونے کا ثبوت دیجیۓ
اپنے فرائض ادا کیجیۓ آپکو حقوق ملنے لگیں گے..
خدا راہ آج سے بانٹنا شروع کر دیجیۓ آپکے علم میں دولت میں اخلاق میں محبت میں سکون میں برکت ہی برکت ھو جاۓ گی اِنشآاللّٰہ
سب کا بھلا سب کی خیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں