جان لو ہر کام کا وقت مقرر ہے
تحریر ساجدہ سحرفیصل آباد
{وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهٝ بِمِقْدَارٍ}
“اور اس کے ہاں ہر چیز کی پیمائش اور مقدار ہے(القران)
سلامتی ہو آپ سب پر جن کی بصارت سے میری تحریر گزرے گی
تو محترم احباب
باتیں میری سچی مگر شائد کڑوی بھی ہو سکتی ہیں مگر حقیقت یہی ہے جو میں لکھ رہی ہوں اگر
ایک لڑکی نے 22سال کی عمر میں شادی کی لیکن اس کے خاوند نے اسے خوش نہ رکھا۔۔۔
جبکہ ایک دوسری لڑکی نے 34 سال کی عمر میں شادی کی اور اس کے خاوند نے اسے بہت خوش رکھا ہوا ہے۔
اگر ایک شخص نے 20 سال کی عمر میں شادی کی لیکن 10 سال بعد بچہ پیدا ہوا، جبکہ ایک دوسرے شخص نے 30 سال کی عمر میں شادی کی اور ایک سال بعد ہی بچہ پیدا ہوگیا۔۔۔
اگرایک لڑکے نے 23 سال کی عمر میں یونیورسٹی سے فراغت حاصل کی اور جاب کے لیے اس نے پانچ سال انتظار کیا، جبکہ ایک دوسرے لڑکے نے 28سال کی عمر میں یونیورسٹی سے فراغت حاصل کی اور اسی دن اس کو جاب مل گئی، ۔۔
اگر ایک شخص 25 سال کی عمر میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا سربراہ بنا اور 45سال کی عمر میں فوت ہوگیا، جبکہ ایک دوسرا شخص 50 سال کی عمر میں کمپنی کا سربراہ مقرر ہوا اور 90 سال کی عمر میں فوت ہوگیا ۔۔
تو اپنے ٹائم فریم میں رہ کر کام کیجیے، بلاشبہ آپ کی ٹائمنگ بہت اچھی چل رہی ہے، اور خوب جان لیجیے کہ کوئی بھی شخص نہ آپ سے آگے ہے اور نہ پیچھے، ہر شخص اپنے اپنے درست وقت میں ہے، فقط آپ اپنے اس دائرے میں رہ کر اطمینان سے کام کیجیے جو اللہ سبحانہ وتعالی نے آپ کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔۔۔
وقت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے، کتنی خوبصورت بات اللہ نے بیان فرمائی:
,تو بس پھر اپنے رب پر یقین رکھو کیونکہ
زیادہ سوچنا انسان کو ختم کردیتا ہے،بس دعا کرو اور سب کچھ اپنے رب العالمین پر چھوڑ دو۔جو اتنی بڑی کائنات کو رنگوں سے بھر سکتا ہے۔تو کیا اسے تم نظر نہیں آتے؟ کیا اسے تمہاری بے بسی نظر نہیں آتی؟تمہیں کیا ایسا لگتا ہے کہ وہ تمہیں بے یارو مددگار چھوڑ دے گا۔کیا وہ تمہاری زندگی ایسے ہی بے رنگ رہنے دے گا؟ بس اپنے رب العالمین پر یقین رکھو بلکہ یقین کامل رکھو،ان شاءاللّٰه وہ تمہاری زندگی بھی تمہارے پسندیدہ رنگوں سے بھر دے گا۔وہ تمہاری ہر دعا پر کن فرما دے گا۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
0