
عنوان :پاک دامنی
صغری یامین لاہور
حنا کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ باہر چھاجوں چھاج مینہ برس رہا تھا۔ تھوڑی دیر پہلے پڑنے والی گرمی کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ ان کی کھڑکی کا شیڈ ٹوٹا ہوا تھا جس سے بارش کے قطرے ٹپ ٹپ کر کے گر رہے تھے۔ “ہنی! بارش کے قطرے بھی کتنے معصوم اور پاکیزہ ہوتے ہیں۔ کسی پر برستے ہیں تو بغیر نقصان پہنچائے پاک صاف کرتے ہوئے فنا ہو جاتے ہیں۔ نہ تو کسی کو چوٹ لگاتے ہیں نہ ہی شور مچاتے ہیں۔” اس کے پاس سے سرگوشی ابھری۔ یہ اس کی عزیز از جان سہیلی صبا کی آواز تھی۔ اسے یاد آ گیا کہ صبا پانچ سال پہلے اس کے ساتھ یہیں کھڑی تھی۔ اس کے بارش میں بھیگتے ہوئے ناگن جیسے بال پورے بدن پر لہرا رہے تھے۔ کبھی کبھی وہ عجیب باتیں کرتی تھی۔ پھر اس کی یادوں کی پھوار حنا یعنی ہنی پر برسنے لگی۔ اس کے دل کے زخموں سے درد سسکیاں بن کے رسنے لگا۔ جب بھی ساون آتا اس کی یادوں اور درد کے دریچے کھول دیتا،جس وقت ساون کی بارشیں دھرتی کو جل تھل کرنے لگتیں ،اس کے ویران دل کی زمین میں صباء کی یادوں کا نہ تھمنے والا سیلاب آجاتا ، سوچتے سوچتے وہ ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو جاتی۔ اسے یاد آیا ٹھیک دسمبر کی پانچ تاریخ تھی، جب ایک دن صبح کے وقت اچانک اس کی کال آئی ، وہ کہہ رہی تھی:” ان کے سکول کا ٹریپ لاہور چڑیا گھر آئے گا۔ میں اس کے ساتھ کل لاہور آرہی ہوں” ساتھ ہی اس نے حنا کو منع کردیا تھا کہ وہ اس کے آنے کی خبر کسی کو نہ دے۔ بقول اس کے وہ سب کو حیران کرنا چاہتی تھی۔ اس نےبتایا سیر کرنے کے بعد میں آپ لوگوں کے پاس آ جاؤں گی، اس کے بعد اماں جان کو بتاؤں گی کہ میں کہاں تھی۔”
حنا یہ ساری منصوبہ بندی سن کر بہت خوش ہوئی، اس نےاپنے وعدے کے مطابق کسی سے اس بات کا تذکرہ تک نہیں کیا ، ان دونوں کا واٹس ایپ پہ وائس میسج کے ذریعے رابطہ تھا۔ اسکول کی میڈم سے اس نے اجازت مانگی تو اس نے دے دی کیوں کہ ان کے اماں جان سے اچھے تعلقات تھے۔پھر وہ سب کو الودع کہہ کرماڈل ٹاؤن کے لیے روانہ ہوگئی، وہ سڑک پر رواں دواں گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی، اچانک کہیں سے ایک گاڑی نے آکر اسے ٹکر مار دی۔ صبا موقع پر ہی بے ہوش ہوگئی، اس کا سیل فون سڑک کے پاس جھاڑیوں میں کہیں گر گیا، گاڑی والا ٹکر مار کر بھاگ گیا۔
پھر اک خدا ترس شریف نوجوان نے لوگوں کی مدد سے اسے قریبی ہسپتال داخل کروا دیا ۔مگر اسے ہوش نہیں آ رہا تھا ۔صباء کے پاس اس کا بیگ اور موبائل فون کچھ بھی تو نہیں تھا، جس سے معلوم ہو سکتا کہ وہ کہاں کی رہنے والی تھی؟ مجبورا اس نوجوان کو اس کے پاس رکنا پڑا ، یوں رات کا ایک بج گیا، اچانک صبا کی ہلکی سی آواز گونجی۔ گویا اسے ہوش آ گیا تھا، اس نے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا ، وہ یک دم گھبرا گئی
” میں کہاں میں کہاں ہوں؟”
قریب کرسی پر بیٹھا نوجوان اس کی جانب متوجہ ہوا۔ خیر خیریت معلوم کرنے کے بعد اس کا اتا پتا پوچھا۔ پھر اس کے والد کو کال ملائی۔ نیز انہیں سارا واقعہ سنا کر اطلاع دی کہ ان کی بیٹی ہسپتال میں داخل ہے۔ اسے ابھی ہوش آیا ہے، جلد آ جائیے! لڑکے کی آواز سنتے ہی اس کاباپ دم بخود رہ گیا، کیوں کہ برادری والے لوگ انہیں یہی کہہ رہے تھے وہ کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ، اب توان کاشک یقین میں بدل گیا کہ واقعی وہ کسی لڑکے کے ساتھ گئی تھی۔ وہ گاڑی لے کر اسی وقت روانہ ہوئے اور صبح تین بجے ہسپتال پہنچ گئے۔ صبا کو بغیر ڈسچارج کروائے اپنے ساتھ لے آئے۔ اس کے ماموں کو بھی اطلاع نہ دی، جو اس کی وجہ سے پریشانی کے عالم میں بار بار فون کر رہے تھے، انھوں نے اس سے عجیب و غریب سوال کرنا شروع کر دیے۔ لڑکے کے بارے میں تو اس نے انہیں ساری بات بتا دی کہ حادثہ کے وقت اس نے اس کی جان بچائی، وہ نہیں جانتی وہ کون تھا؟ اسے ہوش آتے ہی وہ چلا گیا تھا۔ مگر اس کا بھائی اس کی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے دل ہی دل میں اسے جان سےمارنے کا پختہ ارادہ کر لیا تاکہ لوگوں کے ان طعنوں سے بچ جائیں کہ ان کی لڑکی ایک رات باہر کسی مرد کے پاس رہ کر آئی ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کے رویے دیکھ کر بہت خوف زدہ تھی۔ اسے اپنے بھائی کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔پھر یہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اس کے بھائی نے رات کے کسی پہر موقع غنیمت جان کر اس کے منہ پر تکیہ رکھ دیا ۔ وہ ہلکی سی تڑپی، پھر آہستہ آہستہ ساکن ہو گئی۔ صبح ہوتے ہی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر منہ پر ایک ہی بات تھی کہ ارشاد نے اپنی بہن صبا کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ اس کی بہن کے لچھن اچھے نہ تھے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اسی صبح کوئی شریف النفس انسان جسے صبا کا سیل فون ملا تھا، چارجنگ کرکے دو دن بعد آن کیا اور اس میں محفوظ نمبرز کی بدولت اس کے والد تک پہنچا دیا۔ سارے گھر نے واٹس ایپ پر آئے میسجز سننے شروع کیے۔ لیکن یہ کیا؟؟؟ یہ میسجز تو کوئی اور کہانی سنا رہے تھے۔ صبا کی گم شدگی تو پری پلان منصوبہ تھا۔ پر اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت!!!
بلا شک و شبہ ایک معصوم کلی شک کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔ وہ بھی بغیر شور مچائے زمین میں فنا ہو چکی تھی۔ حنا سوچ رہی تھی کہ معصوم صبا اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اپنے دامن پر لگے داغ تو دھو گئی ہے لیکن اس داغ دھلنے کا کیا فائدہ؟ جب وہ خود ہی نہ رہی۔
* * *
0