0

آزادی رائے کا ڈھونگ مصنفہ : عزیز فاطمہ ساہیوال پنجاب


آزادی رائے کا ڈھونگ
مصنفہ : عزیز فاطمہ
ساہیوال پنجاب
یہ آزادی رائے کا ڈھونگ اب ختم ہونا چاہیئے- یہ آزادی رائے——– آزدی اظہارے رائے نہیں ہے بلکہ یہ توہین ہے،تحقیر ہے،یہ ایک شرارت ہے،مسلمانوں کو کھلا چیلنج ہے،یہ اسلام کے خلاف اعلان جنگ ہے اظہار اور توہین میں فرق ہوتا ہے – گستاخانہ خاکے بنانا، گستاخانہ خاکے شائع کرنا ، کارٹونز بنانا ،توہین آ میز مواد سوشل میڈیا پہ ڈالنا ،گستاخا نہ الفاظ اور جملے استعمال کرنا ، سرے عام للکار کے گستاخی کرنا یہ کونسی آزادی رائے ہے ، یہ کیسا freedom of speech ہے -Professor of Europeans Studies University of Oxford 0کے ایک پروفیسر Timothy Girton Aish جس نے آزای رائے کا نعرہ لگایا،جس نے آزادی اظہار ے رائے کی اصطلاح ( Term) پہلی دفعہ استعمال کی- اس نے بھی اس کے کچھ اصول بتائے ہیں ، یہ نہیں کہ جہاں چاہا منہ کھول دیا، جس کو چاہا للکار دیا جس کو چاہا لتاڑ دیا- Timothy نے جو Freedom of speech کے اصول بیان کیئے اس میں چھٹے اصول میں Religion کی Heading کے نیچے وہ لکھتا ہے کہ ” In religion we respect the believers but belif not necessarily the content of belief” یہاں وہ Beliversکی respect کی بات کرتا ہے،مگر Believers کی تو respect دور ،ان آزادی اظہارے رائے کا نعرہ لگانے والوں ان گستاخوں نے تو ہر حد ہی پار کرڈالیPrinciples کی تو دھجیاں ہی بکھیر ڈالیں ،ان ناسمجوں نے لفظ اظہار رائے کو تو پکڑ لیا مگر اظہار راۓ کا ڈھنگ نہ سیکھا، ان نادانوں ،ان مورخوں کو اظہار رائے،اظہارخیال کا سلیقہ نہ آیا ۔ ان کی راۓ اور ان کے خیال پر ان کا بغض اور ان کی اسلام دشمنی ہی غالب رہی- لیکن جب بات ہو ،ہولو کاسٹ کی ،ہٹلر کی ،( کہ کس طرح اس نے یہودیوں کا قتل عام کیا )، اور جب بات کی جائے غیر مسلم قوموں کی طرز زندگی پر ،ان کی جنسی بے راہ روی پر،ان کے مذہبی تعصب پر یا اسی طرح کا کوئی بھی موضوع سوشل میڈیا پر ڈال دیا جائے تو انہی آزادی رائے کا نعرہ لگانے والوں کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں ، فوری فوری تمام مواد سوشل میڈیا سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے ایسی پوسٹ ( Posts) کو ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے – احترام مذہب،احترام قومیت کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں، عالمی امن کو، دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے لگتا ہے- اور دوسری طرف ہمارے پیارے نبی کی شان میں گستاخی کر کے آزادی رائے کا ڈھول پیٹتے ہیں- واہ صاحب واہ، کیا خوب انصاف ہے، کیا دوہرا معیار ہے؟ کیا دوغلی پالیسی ہے——- مگر اب ایسا نہیں چلے گا، اب یہ آزادی رائے کا ڈھونگ،یہ آزادی رائے کا ڈرامہ مزید نہیں چلے گا- ہر مزہب اپنے ماننے والوں کو دوسرے مذہب کا احترام سکھاتا ہے،دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو دوسرے مذہب یا اس کے پیروکاروں کی توہین اور بے ادبی کی اجازت دیتا ہو- اور جہاں تک بات ہے دین اسلام کی تو ہمارا دین پیارا دین اسلام ایک خوبصورت مذہب اور امن پسند دین ہے، جس میں دیگر مذاہب کا احترام سکھایا جاتا ہے جس میں یہاں تک کہا گیا کہ
” ان کے جھوٹے خداؤوں کو بھی گالی مت دو, ان کو بھی برا بھلا مت کو”
دین اسلام ایک امن پسند دین ہے جو احترامِ مذہب کے ساتھ ساتھ احترامِ انسانیت کا بھی درس دیتا ہے،یہ وہ مذہب ہے جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی اور حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں سکون اور آزادی کے ساتھ عبادت کر سکتے ہیں،دین اسلام ان کو اور ان کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے- کیا کبھی دیکھا یا سنا کہ کسی مسلم ملک میں کسی مندر،کلیسا یا کسی گردوارے پر کوئی خودکش حملہ ہوا ہو یا کسی مسلمان نے ان کے اندر گھس کر ان کی عبادت کے دوران فائرنگ کرکے غیر مسلموں کو موت کے گھاٹ اتارا ہو، کسی گردوارے،مندر کو آگ لگائی ہو یا کسی کلیسا پر حملہ کیا گیا ہو—————- ہاں مگر غیر مسلم ممالک میں مساجد کو شہید بھی کیا گیا،زندہ مسلمانوں کی کھالیں بھی کھینچی گئیں ،مساجد کے اندر گھس کر نمازیوں کو گھسیٹا بھی گیا, نماز کے دوران نہتے نمازیوں پر فائرنگ کرکے ان کو موت کی نیند بھی سلایا گیا اور مسلامانوں کو زندہ بھی جلایا گیا، مگر ان کا قصور کیا تھا صرف اتنا کہ وہ مسلمان ہیں، وہ محمد عربی ﷺ کے نام لیوا ہیں- اور صرف یہی نہیں اسلام کی مقدس اور آخری کتاب قرآن مجید کو شہید بھی کیا گیا، اس کو جلایا بھی گیا اسکی بار بار بے حرمتی و بے ادبی بھی کی گئی اور جب اس سب سے بھی دل نہیں بھرا تو ہمارے پیرے نبی آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں بار بار گستاخی کر کے مسلمانوں کی دل آزاد کی گئی- پھر بھی دہشت گردی کا الزام صرف مسلمانوں پر، پھر بھی دہشت گرد قوم صرف اور صرف مسلمان۔؟؟؟ اور یہ امن کے ٹھیکیدار جو چاہیں کرتے پھریں،یہ چاہے ساری حدیں پار کرلیں مگر پھر بھی یہ لوگ امن پسند اور امن قائم کرنے والے کہلاتے ہیں، کو ئی ان کو روکنے والا نہیں کوئی ان کا منہ توڑنے والا نہیں- یہ مغرب والے، یہ مغربی قوم اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا میں اتنی آگے نکل چکی ہے کہ یہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا شعور بھی کھو چکی ہے- یہ اخلاقی پستی میں گری قومیں کیا جانیں اسام کی عظمت کو،اس کی شان کو،یہ کیا جانیں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ کریم کی عظمت و بلندی کو ان کے ارفع و اعلیٰ اور بلند مقام و مرتبے کو————–

قدر پھولاں دا بلبل جانے پاک دماغاں والی
قدر پھولاں دا گدھ کی جانے مردے کھاون والی
قدر نبی دا جانن والے سوگئے وچ مدینے
قدر نبی دا اے کی جانن دنیادار کمینے
قدر یوسف دا معلوم ہویا بھائیاں مصر گیا نوں
قدر نبی دا معلوم ہوسی قبراں وچ پیا نوں
یہ غیر مسلم، غیر مہذب قومیں،یہ اخلاقی پستی میں گری ہوئی بد اخلاق قومیں یہ کس کا مقابلہ کرنے چلے ہیں،یہ کس کے بارے میں داعویٰ کرتے ہیں کہ ( معاز اللہ) یہ ان کے خاکے بناتے ہیں- اے فرانس والو، اے ڈنمارک والو، اور اے پوری دنیا کے گستاخو! بتاؤ تو زرا کیا تم نے اس ذات مبارکہ کو دیکھا ہے جن کی شان میں گستاخی کا داعوہ کرتے ہو، جن کے خاکے بنانے کا تم داعوایٰ کرتے ہو،نہیں نہ،نہیں دیکھا،تو پھر کس کے خاکے بناتے ہو کیا تمہاری اتنی اوقات ہےکہ تم ان کو دیکھ بھی سکو، ان کی زیارت کا تم کو شرف بھی مل سکے- ارے ان کاتو تصور بھی محال ہے- ان کا تو خدا نے سایہ بھی نہیں بنایا کہ ان کا سایا زمین پر نہ پڑے اور تم ان کے خاکے اور تصویر بنانے کی بات کرتے ہو-( معاذ اللہ)- تمہاری اتنی اوقات، اتنی حیثیت نہیں ہے کہ تمہیں ان کا دیدار بھی کبھی نصیب ہو، ارے تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہاری ناپاک زبانوں سے ان کا اسمِ پاک، اسمِ محمد ﷺ جاری ہو- خدا نے تمہیں تمہاری اوقات میں اوقات میں رکھا ہے،خدا نے، تم ننگے خلائق کو اتنی اجازت ہی نہیں دی کہ تم ان کا ذکر بھی کرسکو،خدا نے تمھیں کفرو شرک کے اندھے گھڑوں میں اس طرح اوندھے منہ پھینکا ہوا ہے کہ تمھارے دلوں اور زبانوں کو کفرو شرک کے تالوں سے مقفل کیا ہوا ہے، آنکھیں،کان اور زبان رکھنے کے باوجود بھی اندھے، گونگے اور بہرے ہو،حق تمھیں دکھائی نہیں دے سکتا کیونکیہ تمھیں تمہارے کفر اور اسلام دشمنی نے اندھا کر رکھا ہے- تم بد بخت اور گستاخ لوگ! تم، نبی پاک کا مقابلہ کرنے چلے ہو( معاذاللہ)- ارے تم کافر لوگ ہو کیا، تمھاری حقیقت کیا ہے، پہلے تم اپنے گریبان میں جھانکوتم پہلے اپنی طرف دیکھو کہ تم ہو کیا؟تم لوگوں میں نہ کوئی اخلاق ہے،نہ کوئی تمیز،نہ تہذیب،نہ شرم و حیا اور نہ ہی کوئی غیرت،بہت ہی بے شرم اور بے غیرت قوم ہو تم- تم لوگ سر سےلےکر پاؤں تک غلاظت میں ڈوبی ہوئی قومیں ہو،تم لوگ غلاظت سے شروع ہوکر غلاظت پہ ختم ہوجاتے ہو- تم لوگ کیا جانو کسی کی عزت کرنا،یا کسی کا ادب بجا لانا- تم لوگ صرف شیطان کے پیروکار اور اپنی نفسانی خواہشات کے غلام ہو تم میں جنسی بے راہ روی اس قدر ہے کہ تمھارے ھاتھوں سے کوئی رشتہ محفوظ نہیں،عورت چاہے کسی بھی روپ میں ہو وہ تمھاری حوس کا نشانہ بنتی ہے، عورت چاہے کسی بھی رشتے میں ہو، تمھاری غلیظ اور گندی نگاہوں سے وہ محفوظ نہیں- مغرب نے عورت کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا، پوری دنیا میں بے شرمی اور بے حیائی کو فروغ دینے والی اور معاشرے کو جنسی بے راہ روی کا شکار کرنے والی یہ مغربی قوم ہے, معاشرے میں فحاشی اور عریانی کو عام کرنے کی ذمہ دار بھی یہ مغربی قوم ہے- عورت کو کھلونا مغرب نے بنایا،عورت کی تذلیل مغرب نے کی عورت کو گھر اور گھر کی چاردیواری سے نکال کر،اسے بے پردہ کرکے بازاروں کی زینت مغرب نے بنایا- عورت کو حقوق اور عورت کی آزادی کی آڑ میں عورت کو نمائش کے طور پر فحاشی کے اڈوں پر لا بٹھایا- عورت کو بے پردہ کرکے بازاروں میں اس کی نمائش کردینے سے اس کو کونسے حقوق اور کونسی آزادی مل گئی؟ ہاں مگر اس کا تماشہ ضرور بنا، اس کی تذلیل ضرور ہوئی- تم عورت کو عزت، آزادی، تحفظ اور برابری کے حقوق کیا دو گے۔؟؟؟؟؟
ارے عورت کو آزادی،عزت،تحفظ اور برابری کے حقوق جیسی نعمتیں آج سے چودہ سو سال پہلے ہی پیارے نبی پاک نے عطا فرمادیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی،تو کہیں بیٹی کو رحمت قرار دیا،کہیں بہن اور بیٹی کو باپ کی وراثت میں حصہ دلوایا،تو کہیں بیوی کو عزت اور برابری کے حقوق دیئے اور کہیں بیوہ کو اپنی زندگی گزارنے اور دوبارہ شادی کرنے کا حق دیا لوگوں کو بتایا کہ وہ بھی ایک سانس لیتی اور جیتی جاگتی انسان ہے اور اس کو بھی زندہ رہنے اور اپنی زندگی گزارنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ دوسرے لوگوں کو- اگر عورت کی عزت اور احترام کی بات کرتے ہو تو ہمارے پیارے نبی پاک کی سیرت طیبہ اٹھا کر دیکھو اگر دشمن کی بیٹی بھی بارگاہ اقدس میں آگئی تو اس کو بھی تحفظ اور عزت دی آقا کریم نے اپنی چادرمبارک اس کو اڑادی (سبحان اللہ)- تو تم کافر اور منکر لوگ اس ذات پاک،رحمت عالم، محبوب خداﷺ کے بارے میں بکواس کرتے ہو ان کی شان میں گستاخی کرتے ہو، جو سراپہ رحمت ہیں- ان کی شان میں گستاخی کرتے ہو جن کے صدقے حضرت آدم( علیہ اسلام ) کی توبہ قبول ہوئی۔ جن کا نام عرش پہ لکھا ہے، وہ جو محبوب خداﷺ ہیں۔ ارے وہ تو وہ ہیں جو الٹے سورج کو لوٹا دیں، جن کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوجائے، جن کے آنے سے خزاں جائے اور بہار آ جائے، تاریکیوں کے بادل چھٹ جائیں اور مردہ دلوں اور جسموں میں جان پڑ جائے۔ جن کا اسمِ مبارک سن کر، لے کر ان کے امتی اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگاتے ہیں اور جب نام محمدﷺ لیا جاتا ہے تو اسکی ادائیگی یوں ہوتی ہے کہ محمدﷺ کہتے وقت جب دونوں ہونٹ ملتے ہیں تو وہ نام محمد ﷺ کو چومتے ہوئے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ ارے تم بدبخت لوگ،تم بدبخت اور گستاخ لوگ بھی انکا اسم پاک چومِ بنا اپنی ناپاک زبانوں سے ادا نہیں کرسکتے۔ ارے نام محمدﷺ کی تو وہ شان ہے کہ رات کو جب سونے کے لیئے لیٹو، سونے کا جو اسلامی طریقہ ہے اس کے مطابق جب لیٹتے ہیں تو اسکی جو شکل لیٹتے ہوئے بنتی ہے، وہ اسم محمدﷺ بنتا ہے۔(اللہ کے ایک بہت ہی برگزیدہ، بہت بڑے ولی جو مقبول بارگاہ بھی تھے وہ بہت بڑے او ر سچے عاشق رسول بھی تھے جو ان کے قول اور فعل دونوں سے ثابت تھا، امام احمد رضا خان بریلوی، ان کے سونے کا طریقہ ایسا تھا جب وہ اس طرح لیٹتے کہ وہ اپنا داہنہ ہاتھ سر کے نیچے رکھ لیتے جو ”م اور ح“ کی شکل بنتی اور پاؤں اس طرح سمیٹ لیتے کہ اس کا ” م اور د“ بنا لیتے تو ان کے لیٹنے کا انداز ایسا ہوتا کہ وہ اسم محمدﷺ بن جاتا۔) سبحان اللہ کیا بات ہے اسم محمدﷺ کی۔ تم ہمارے پیارے نبی کی بات کرتے ہو ،ان کے مقام و مرتبے کی کیا بات کرتے ہو۔ ارے ان کی تو وہ شان ہے جب وہ دنیا میں تشریف لائے تو ساری کائنات ان کے آگے سجدے میں گرِ گئی، جدھر جدھر سے وہ گزریں شجر، ہجر سب ان کو سجدہ کریں، جن کے دربار میں جبرائیل بھی ہاتھ باندھے کھڑے ہوں۔ان کے کردار کی عظمت و بلندی تو یہ ہے کہ وہ دشمن کے بچوں کو بھی گود میں اٹھا لیتے، ان کو پیار کرتے، ان سے کھیلتے،ارے ان کے پاکیزہ کردار کی گواہی تو ان کے جانی دشمن بھی دیتے۔وہ آقا کریم کو صادق اور امین کہ کر پکارتے ،ان پر بھروسہ کرتے،وہ آقا کریمﷺ کے پاس اپنی امانتیں رکھواتے اور انھیں یہ یقین ہوتا کہ انکی امانت محفوظ رہے گی اور صحیح سلامت انھیں واپس ملے گی کیونکہ وہ میرے مصطفی کریمﷺ کے پاس رکھوائیں ہیں، اس لیئے انھیں کوئی خطرہ یا فکر لاحق نہ ہوتی۔ نبی پاکﷺ کی شان تو یہ ہے کہ وہ جدھر سے گزر جائیں چرند، پرند، شجر ہجر کائنات کی تمام مخلوق ان کے آگے سجدہ کریں، وہ جدھر جدھر سے گزریں ان کے پسینے کی خوشبو گلیوں میں پھیل جائے اور آقا کریمﷺ کے شیدا، ان کے صحابہ ان کے پسینے کی خوشبو سے جان جاتے کہ یہاں سے میرے محمدﷺ گزرے ہیں۔ ان کے پسینے کی خوشبو کائنات کی تمام خوشبوؤں سے بڑھ کر تھی۔ وہ آقاﷺ جن کے لیئے ساری کائنات بنائی گئی، ذمین و آسمان بنائے گئے،ساری دنیا بنائی گئی ، دنیا کی،کائنات کی خوبصورتی بنائی گئی،وہ جن کے صدقے مردہ جسموں اور روحوں میں جان پڑی، جن کا صدقہ کائنات کھاتی ہے، جن کا صدقہ ان کے دشمن اور منکر بھی کھاتے ہیں۔ ان کے اوصاف، اس پاک ذات، رحمتِ عالم ،جانِ عالم،سرورِ عالم، سرورِ کائنات، سرورِ دو جہاں، رحمت اللعالمین، راحت العاشقین، مراد المشتاقین، قاسمِ نعمت، مالکِ جنت، شہنشاہِ دوجہاں، شہنشاہِ انبیا۶، تاجدار ختمِ نبوت، مالک کوثر حضرت محمدﷺ کے اوصاف ہم کیا بیان کریں گے۔ ان کے اوصاف تو خود ان کے رب نے اپنے کلام پاک قرآن مجید میں بیان کئے ہیں ۔ خود قرآن میں خدا ان کو کہیں طحہ کہ کر پکارتا ہے تو کہیں یس، کہیں مدثر، کہیں مزمل، کہیں قرآں کہیں فرقاں اور کہیں ان کی دلجوئی کے لیئے پوری کی پوری سورت نازل فرمادی۔ کہیں پورے کا پورا قرآن ان کے اخلاق ٹھرا، تو کہیں خدا نے ان کو اپنا محبوب کہا حتی کہ ان کو آخری نبی صلی الللہ علیہ و الہ وسلم بنا دیا گیا۔اور تم منکر اور گستاخ لوگ ہمارے پیارے نبی پاک کی شان اقدس میں گستاخی کرتے ہو، اور پھر نعرہ گاتے ہو آذادی رائے کا۔ کیسی رائے اور کونسا حق، تم سے رائے مانگی کس نے ہے، تم لوگوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ تم ان کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرو یا رائے دو۔ کافر کی، منکر کی کوئی اوقات نہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی کوئی حق حاصل ہے کہ وہ ہمارے پیارے نبی پاک کے بارےمیں کوئی رائے دے۔ کافرتو کافر کسی مسلمان کی بھی اتنی حیثیت نہیں اور نہ ہی اتنی اجازت ہے کہ وہ اپنے آقا کریم ﷺ کے بارے میں اپنی مرضی کی رائے قائم کرے۔ وہ اللہ کے محبوب ہیں، وہ خدائے واحد، ربِ ذوالجلال کے محبوب اور اس کے رسول ہیں وہ اس کے آخری نبی ہیں۔ خدا تعالی نے مخلوق میں سے کسی کو بھی اتنی اجازت نہیں دی کہ کوئی بھی اسکے رسول اسکے محبوب کے بارے میں کوئی رائے قائم کرے یا ان پر (معاذ اللہ) کوئی اعتراض کرے۔ کیا یہ کم ہے کہ اس نے بندوں کو اپنا محبوب دیا۔ خدا نے انسانوں، مسلمانوں، ساری دنیا، ساری کائنات کو، سب مخلوق، سب جہانوں کو ان کے یعنی نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تابع بنایا ہے۔ ساری مخلوق کو حکم دیا ہے کہ وہ انکی اطاعت کرے، انکا حکم انکی فرمانبرداری کرے۔ خدا تعالی نے نبی کے صحابہ سے فرمایا (مفہوم) کہ اپنی آوازیں نبی کی آوازوں سے اونچی نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں۔ اور تم چلے ہو نبی پاک کے بارے میں رائے دینے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ آذادیَ رائے کا ڈھونگ ختم ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اور بین المذاہب کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہو، قانون بنایا جائے اور ایسا بل پاس ہو کہ جس کے مطابق ہر فرد چاہے وہ کسی بھی مذہب، قوم یا عقیدے کا ہو، اس پہ یہ لازم ہو کہ وہ دوسرے کے مذہب اور عقیدے کا احترام کرے گا\ کرے گی۔ خاص طور پر دوسرے تمام مذاہب کی اقدار، مقدس ہستیوں اور عبادت گاہوں کا احترام سب پر لازم ہو۔ کسی بھی قسم کی گستاخی یا بےادبی کی صورت میں سخت سزا کا مستحق ہوگا\ ہوگی۔ آخر میں میری رب سے یہی دعا ہے کہ ہمارے پیارے نبی پاک کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو نست و نابود کرے اور تمام گستاخوں کو عبرت ناک سزا دے جو رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بن جائے۔ آمین ثم آمین۔
مصنفہ : عزیز فاطمہ
شہر ساہیوال پنجاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں