0

”فخر پاکستان فواد آفریدی تھیلیسیمیاء ہیرو “ سیدہ انیلا طالب


”فخر پاکستان فواد آفریدی تھیلیسیمیاء ہیرو “

” سیدہ انیلا طالب“

آپ نے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھیلیسمیاء میجر کا شکار بہت سے بچوں کو موت کی وادی میں تڑپ کر جاتے ہوۓ دیکھا ہوگا جو کہ ایک موروثی بیماری ہے اور والدین کی طرف سے بچوں کو منتقل ہوتی ہے“ انسانی خون میں ہیموگلوبن پھیپھڑوں کے ذریعے آکسیجن جذب کر کے پورے جسم کو پہنچاتا ہے۔ اور اس کا نارمل لیول بارہ سے چودہ کے درمیان ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیاء میجر میں ہیموگلوبن لیول تین تک آجاتا ہے اور چند روز بعد مریض کو چھ سے آٹھ بوتل خون لگوانا پڑتا ہے۔ اور ایسے بچوں کا زندہ رہنا بے حد مشکل ہوتا ہے کیونکہ اگر تھیلیسیمیاء ماٸنر ہو تو جس میں ہیمو گلوبن کا لیول نو سے دس تک رہتا ہے جو کہ صرف کمزوری کا احساس دیتا ہے مگر وہ جان لیوا نہیں ہوتا۔ تھیلیسیمیاء کی سب سے بڑی وجہ خاندان میں شادی اور کزن میرج ہے اس لیۓ ہمیں چاہیۓ کہ شادی سے پہلے لڑکی لڑکے کے تھیلیسیمیاء ٹیسٹ کو ضروری قرار دیں تاکہ آنے والی نسل تباہی سے بچ سکے۔ جنت کے پھولوں کیلۓ ہمیں خون کا عطیہ ضرور دینا چاہیۓ تاکہ ان کی زندگیاں بچ سکیں ۔اس بیماری کیلۓ پاکستان میں اگر جاٸزہ لیا جاۓ تو ملکی سطح پر ہمارے ایک قومی ہیرو نے انتھک محنت کی ہے اور اسے ختم کرنے کیلۓ جان توڑ کوششیں کی ہیں ۔اس فرشتہ صفت انسان کا نام فواد آفریدی ہے جن کا تعلق حسن خیل سے ہے انہوں نے خیبرپختونخواہ میں جب دہشتگردی اپنے عروج پر تھی لوگ این جی ایوز کے نام سے ڈرتے تھے انہوں نے بلند حوصلے اور نیک نیتی سے جہاد فار زیرو تھیلیسیمیاء کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا اور آج اس ہونہار سپوت کی بدولت پاکستان کے بہت سے اضلاع میں ان کے رضاکار موجود ہیں۔ ان کی سربراہی اور رہنماٸ نے اسلامیہ کالج پشاور سے شروع ہونے والے اس پراجیکٹ کے پہلے چیپٹر کو نہ صرف مقبولیت دی بلکہ پوری قوم نے ان کے مشن کو سراہا اور آج ہمارے لوگ خون عطیہ کرنے میں سب سے آگے ہیں ۔لوگوں نے یہ جذبہ فواد آفریدی کی سمجھداری اور مثبت خیالات کی بدولت پایا انہوں نے ہزاروں بچوں کی جانیں بچاٸیں اور باباۓ خدمت کے مشن کو آگے پہنچایا۔ غریبوں مسکینوں کی آواز بن کر وطن کا یہ ستارہ قوم کی آنکھوں کا تارہ بن گیا ۔ تاریخ ان جیسے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں