0

انسان دوست شخصیت ڈاکٹر روتھ فاٶ . انیلا طالب۔


انسان دوست شخصیت ڈاکٹر روتھ فاٶ
انیلا طالب۔
پاکستان کی مدر ٹریسا فخر انسانیت جرمن نژاد ڈاکٹر روتھ فاٶ نے انتیس سال کی عمر میں پاکستان کا دورہ کیا
اور پھر پلٹ کر واپس نہ گٸیں حالانکہ وہ پاکستان کی نہیں تھیں مگر پاکستان میں قیام کیا تو یہ ملک ایسا بھایا کہ آپ آج بھی اسی ملک کی زمین پر ہمیشہ کیلۓ آرام کی نیند سو رہی ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ ہزاروں مساٸل ہی کیوں نہ تھے مگر نازک اندام روتھ کو جذام کے مریضوں کی کشش نے یہاں سے جانے نہ دیا۔ انہوں نے جی پی اور آزاد کشمیر جیسے دوردراز علاقوں میں جا کر جذام کے مریض ڈھونڈ کر ان کا علاج کیا اور پھر یہ اس رحم دل خاتون کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا کہ 1996ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگناٸزیشن نے اعلان کرتے ایک خوشخبری سناٸ کہ پاکستان ایشیاء کا وہ واحد ملک ہے جو کوڑھ سے پاک کر لیا گیا ہے۔پاکستان کو یہ اعزاز دلوانے والی ڈاکٹر روتھ فاٶ ہی تھیں ۔
2010ء میں آپ نے سندھ میں آنے والے سیلاب کے متاثرین کی دل کھول کر مدد کی گھر تعمیر کرواۓ راشن تقسیم کیا خیمے لگواۓ لوگوں کو محفوظ جگہ پہنچایا۔ آپ لیپروسی کنٹرول پروگرام کی بانی تھیں ۔سوساٸٹی آف دا ہارٹ آف میری کی ممبر تھیں۔ آپ طب کے شعبے سے وابستہ تھیں۔
آپ نے مشنری تنظیم کے کہنے پر پاکستان کا دورہ کیا یہ دورہ پاکستان میں جذام کے مریضوں کے متعلق ایک ڈاکیومینٹری دیکھنے کے بعد کیا گیا تھا۔
یہاں مریضوں کی بے بسی نے آپ کے قدم جکڑ لیۓ اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ ترک کردیا۔
کراچی میں سکونت پذیر ہوٸیں۔ اور کوڑھیوں کی بستی میں فری کلینک کا آغاز کیا ۔ جرمنی سے کثیر عطیات پاکستان میں منتقل کیۓ تاکہ مریضوں کا علاج ہو سکے۔ کراچی راولپنڈی میں انہوں نے کٸ ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سینٹر قاٸم کیۓ۔
انہیں 1988ء میں پاکستان کی شہریت بھی ملی۔ عالمی اداروں نے کٸ اعزازات سے نوازا۔ جن میں نشان قاٸد اعظم ۔ہلال پاکستا ۔ہلال امتیاز بھی شامل ہیں۔ چھپن سال تک انہوں نے بغیر نمودو نماٸش اور خودستاٸشی اور خود نماٸ کے بے لوث ہر کر ملک پاکستان کی خدمت کی ۔دوردراز کے علاقوں کا دورہ کیا۔ جذام سے متاثرہ لوگوں کو مفت ادویات تقسیم کیں۔ انہوں نے کبھی اپنی تشہیر نہ چاہی اور نہ ہی کسی اعزاز کی طلب رکھی۔ خاموشی سے دنیا سے چلی گٸ وصیت کی تھی کہ میرا علاج وینٹی لیٹر پر کبھی نہ کیا جاۓ ۔۔کیونکہ آپ راہبہ تھیں سو وصیت کے مطابق انہیں عروسی لباس میں دفن کیا گیا میت لپریسی سینٹر آٸ تو لوگوں کی سسکیاں قیامت برپا کرنے لگیں ۔
چند کتابوں اور بستر کے سوا کوٸ اضافی سامان آپ کے پاس نہیں تھا 9 ستمپر 1929 ء کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہونے والی روتھ فاٶ 10 اگست 2017 ءکو انتقال کر گٸیں ۔کہنے کو تو آپ چلی گٸیں مگر آپ کی سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاٸیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں