
منقبت
شانِ حضرت رقیہؓ بنتِ محمدﷺ
نبیؐ کی بیٹی غنیؓ کی زوجہ
تھیں شان والی بہت رقیہؓ
یوں قسمتیں ان پہ مہرباں تھیں
نبیؐ تھے والد خدیجہؓ ماں تھیں
وہ باغِ آقاﷺ کی تھیں کلی جو
حیا سدا ذکر انؓ کا بھی ہو
نبیؐ کی آغوش میں پلیں وہ
خدیجہؓ کے ساٸے میں رہیں وہ
بہن تھیں زینبؓ، تھیں فاطمہؓ بھی
بہن تھیں کلثومِؓ عابدہ بھی
بہت ہی دانا تھیں، تھیں وہ یکتا
وہ پارساٸی میں بھی تھیں اولیٰ
بیاں ہو کیسے کمال انؓ کا
تھا مثل حسن و جمال انؓ کا
چنی تھی انؓ نے خدا کی اک راہ
تھیں علم اور فن سے خوب آگاہ
نبیؐ کی بیعت کو آگے آٸیں
رقیہؓ ایمان پہلے لاٸیں
وہ عقدِ عثمانؓ میں جو آٸیں
انہوںؓ نے کتنی ہی شانیں پاٸیں
زمین مکہ کی جب ہوٸی تنگ
تھے کافروں کے بھی دل ہوٸے سنگ
ہوٸی مظالم کی جوں ہی کثرت
کی جانبِ حبشہ انؓ نے ہجرت
کہا نبیؐ نے، تھی کیا محبت
یہ جوڑا کتنا ہے خوب صورت
کہ حکم جب بھی ہوا چلیں وہ
سدا مسافت میں ہی رہیں وہ
خدا نے انؓ کو سعادتیں دیں
غنیؓ نے انؓ کی عیادتیں کیں
تھا مختصر گو، تھا پاک جیون
بقیع میں انؓ کا بھی ہے مدفن
ماہم حیا صفدر
0