0

منقبت: شانِ ام المومنین حضرت عاٸشہؓ


منقبت
شانِ ام المومنین حضرت عاٸشہؓ
نبیؐ کی محبوبہ، پیاری زوجہ
کوٸی نہ ثانی ہے عاٸشہؓ کا
تھیں نصفِ بہتر، نبیؐ کی ہمدم
رہیں سدا وہ نبیؐ کی محرم
تھے باپ صدیقؓ، یارِ آقا ﷺ
تھیں پارساٸی میں ماں بھی یکتا
تھے پاک ماں باپ، پاک بیٹی
انہوں نے ایماں پہ آنکھ کھولی
سراپا انؓ کا تھا حوروں جیسا
تھا حسن ایسا، دے چاند صدقہ
تھی صاف رنگت، حسین تھیں وہ
بہت ذہین و فطین تھیں وہ
کہ مانتے تھے سبھی ہی انؓ کو
علوم پر دسترس تھی انؓ کو
یہ مرتبہ کب ملا سبھی کو
عزیز تھیں سب سے وہ نبیؐ کو
تھی ایک اک خوبی انؓ کی پیاری
تھی مثل انؓ کی وفا شعاری
وہ عالمہ تھیں، وہ فاضلہ تھیں
حمیرا آقا ﷺ کی طاہرہ تھیں
نبیؐ کے دل کی مکین تھیں وہ
نبیؐ کے گھر کی امین تھیں وہ
نگاہِ الفت نبیؐ نے کی تھی
بلند قسمت انہیں ملی تھی
ملی محبت جو مصطفیٰﷺ سے
تھا انؓ پہ لطفِ خدا سدا سے
انہیں یہ رتبہ بھی تو ملا تھا
تھا انؓ کی جھولی میں سر نبیؐ کا
نہ ہو گا ہرگز بھی کم یہ رتبہ
جہاں میں افضل ہے انؓ کا حجرہ
یہ باتیں سچی نہ دب سکیں گی
وہ پاک دامن تھیں اور رہیں گی
نبیؐ کے جن کو ملے سہارے
گواہی جن کی خدا اتارے
کرم تھا انؓ پر بڑا خدا کا
بلند رتبہ ہے عاٸشہؓ کا
کوٸی نہ پہنچے گا وہ جہاں ہیں
کہ وہ سبھی مومنوں کی ماں ہیں
صفاٸی انؓ کی ہے آیتوں میں
وہ سب سے افضل ہیں عورتوں میں

ماہم حیا صفدر

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں