
تعارف: دختر پاکستان ردا زینب گوجرانولہ
سب پاکستانی پاکستان پر فخر کرتے ہیں مگر کچھ پاکستانی ایسے بھی ہیں جن پر پاکستان فخر کرتا ہے سیدہ ردا زینب بھی انہی میں سے ایک شخصیت ہیں اینیمل رائٹس چیمپئن اور پاکستان کی پہچان بننے والی ردا زینب اپنے معیاری اور عمدہ کام کی بدولت پوری دنیا میں جانی جاتی ہیں۔ آپ ایک شہرہ آفاق مصنفہ ہیں جانوروں سے بے پناہ محبت کر کہ ردا زینب نے پاکستانیوں کہ دل جیت لۓ ہیں آپ وہ پہلی پاکستانی ہیں جنہوں نے جانوروں کہ حقوق پر مکمل کتاب لکھی ہے۔ یقیناً آپ کی یہ کاوش ناقابل فراموش ہے۔
متاثر کن شخصیت کی حامل ردا زینب کا نام ایک عزم کی کہانی بیان کرتا ہوا سنائ دیتا ہے آپ بلاشبہ ایک قابل فخر بیٹی ہیں۔

سیدہ ردا زینب سترہ سال کی عمر میں دس سے زائد کتب شائع کرواچکی ہیں۔
سب سے قابل فخر اور لائق تحسین بات کہ ردا زینب اپنی محنت کہ بل بوتے پر قومی ترانے کو پچاس سے زائد زبانوں میں لکھ کر عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکی ہیں۔ طالب علمی کہ ہی دور میں قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی بااثر نمائندگی کرنے والی ردا زینب کو سترہ ان کم عمر بچوں کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے جو سترہ سال سے کم عمر ہیں مگر ٹیکنالوجی، ایکٹیویزم اور سائنس میں بڑا نام رکھتے ہیں اور امریکہ کی نامور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کر چکی ہیں۔ ردا زینب کی کوششوں سے عیاں ہے کہ وہ پاکستان کہ لۓ دل گرما دینے والے جذبات رکھتی ہیں۔ انسانی حقوق پر کام کرنیوالی مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل تنظیموں کا حصہ ہیں۔ پاکستان کا پرچم قومی و عالمی سطح پر بلند کر رہی ہیں اور پر عزم خواب لے کر آگے بڑھ رہی ہیں
ردا زینب کو عوام پاکستان کی جانب سے دختر پاکستان اور فخر پاکستان کے لقب سے نوازا گیا۔ ردا زینب نے اپنی تحاریر کہ ذریعے امن اور محبت کا پیغام دیا ہے اس کا منہ بولتا ثبوت آپکی تصنیف پاکستانی تجھے سلام ہے جس میں آپ نے پورے پاکستان سے ہر رنگ نسل اور ذات پات سے تعلق رکھنے والے قابل فخر پاکستانیوں کی بائیوگرافی لکھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا اور یہ پیغام دیا کہ : اس پرچم کہ ساۓ تلے ہم ایک ہیں۔ پاکستان کے مایہ ناز پروفیشنل لوگ سنیا عالم (کوچ ٹیم پاکستان) عائشہ جہانزیب (ٹی وی اینکر) سیدہ کیسا زہرہ (ورلڈ سپیڈ ریڈنگ چیمپئن) زارا نعیم ڈار (اے سی سی اے ٹاپر) ایما عالم (ورلڈ میموری چیمپئن) سرجن ڈاکٹر عمیر مسعود (دنیا کہ کم عمر ترین سائنسدان) رافعہ قسیم بیگ (پہلی پاکستانی بمب ناکارہ بنانے والی آفیسر) اور گورنمنٹ بھی آپ کہ کام کو سراہ چکی ہے۔ خواتین کہ عالمی دن پر ردا زینب کو گورنر ہاؤس لاہور میں آنے کی دعوت دی گئ اور عزت مآب گورنر پنجاب کی جانب سے اکنالجمینٹ ایوارڈ کم عمر مصنفہ کی کیٹگری میں دیا گیا۔
ردا زینب پاکستان کا ایک روشن استعارہ اور مثبت پہلو ہیں۔ آپ پاکستان کی آن، بان، شان ہیں اور ابتلا کہ اس دور میں مثبیت کا ایک عملی چہرہ ہیں۔ آپ ایک ایماندار اور سچی پاکستانی ہونے کیوجہ سے اپنا کام نہایت خلوص نیت سے کر رہی ہیں۔
سیدہ ردا زینب اپنی (گرو) استاد/آئیڈیل سنیا عالم سے متاثر ہیں۔ جو کہ دنیا کی صرف چار میں سے ایک پاکستانی سینئر ٹونی بزان گروپ میں مائنڈ میپنگ لائسنس یافتہ انسٹرکٹر ہیں اور ٹیم پاکستان کی کوچ ہیں یہ ٹیم دنیا بھر میں یادداشت کہ مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرتی ہے۔
سیدہ ردا زینب مستقبل میں باقاعدہ ایک تنظیم بنانا چاہتی ہیں جس کہ تحت پسماندہ سے پسماندہ کمیونیٹیز کیلۓ خواتین کو بااختیار بنانے اور تعلیم کے ساتھ خاص طور پر روزگار فراہم کرنے اور اہم معاشرتی مسائل کو حل کۓ جانے کیلۓ اقدامات اٹھائے جاۓ گیں۔ ان کا خاص رحجان لڑکیوں اور یتیم بچوں کی تعلیم کی طرف ہے۔ علاوہ ازیں بھی مختلف پراجیکٹ پایہ تکمیل تک پہنچے گیں اور معاشرے میں بہتری آۓ گی۔یقینا یہ ایک قابل فخر کاوش ہے۔