0

منقبت شانِ حضرت امام حسنؓ


منقبت
شانِ حضرت امام حسنؓ

علیؓ کے آنگن کے پھول لوگو!
حسنؓ ہیں ابنِ بتولؓ لوگو!
ہے اس لیے ذکر عام انؓ کا
نبیؐ نے رکھا تھا نام انؓ کا
خوشی سے چومی جبیں علیؓ نے
اذان کانوں میں دی نبیؐ نے
دہن کے پاکیزہ آب سے دی
نبیؐ نے گھٹّی لعاب سے دی
نہ انؓ سا پیارا تھا اس زمیں پر
نبیؐ نے بوسے دیے جبیں پر
تھا رنگ گورا، تھا صاف چہرہ
تھا آٸنے جیسا صاف چہرہ
نبیؐ کے شانوں پہ بیٹھتے تھے
نبیؐ کی جھولی میں کھیلتے تھے
قریب رکھتے تھے انؓ کو صدیقؓ
حبیب رکھتے تھے انؓ کو صدیقؓ
رہی محبت عمرؓ کو انؓ سے
تھی خاص نسبت عمرؓ کو انؓ سے
قریب رکھا انہیں غنیؓ نے
بنایا جب پاسباں علیؓ نے
حسینؓ کے بھاٸی تھے، بڑے تھے
وہ راہِ حق پر کھڑے رہے تھے
کہاں سے الفاظ لاٶں چن کے
میں کیسے اوصاف لکھوں انؓ کے
وہ متقی تھے، وہ پارسا تھے
حبیبِ محبوبِ کبریا تھے
خدا کے تابع وہ تھے ہمیشہ
حسنؓ تو صالح رہے ہمیشہ
وہ نرم دل تھے، وہ نرم خو تھے
تھے نوجواں، سب سے خوبرو تھے
یہ مرتبہ بھی ملا تھا انؓ کو
نبیؐ نے سَیَّد کہا تھا انؓ کو
تھا خلق افضل، حلیم تھے وہ
نبیؐ کے پیارے، سلیم تھے وہ
تھی خوب دولت، غنی بڑے تھے
تھے دیتے صدقہ، سخی بڑے تھے
تھا خُلق ایسا بنے نمایاں
تھے صلح جو سو رہے نمایاں
تھی بے نیاری کہ تخت چھوڑا
انہوں نے دنیا کا رخت چھوڑا
بنیں گے سردار، جاٸیں گے وہ
کہ جنتوں کو سجاٸیں گے وہ
کریم تھے، با صفا حسنؓ تھے
شبیہِ احمدﷺ حیاؔ حسنؓ تھے
ماہم حیا صفدر

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں