
عنوان
انسانی عمر کاہر دور خوبصورت ہے
از قلم ساجدہ سحر
فیصل آباد
انسان کے پیدا ہونے سے لے کر آخری سانس تک کا ہر لمحہ ہر بیتے لمحات تمام بیتی گھڑیاں بہت بےمثال دلچسپ اور خوبصورت ہوتی ہیں روز ایک نیا دیھمی دیھمی کرنوں کے ساتھ چڑھتا ہوا سورج جب اپنی پوری آب و تاب سے ہمارے لیے روشن ہوتا ہے تو عظیم رحیم کریم رب کی قدرت کا ایک معجزہ لے کے آتا ہے جس میں اس خالق کی عظیم کاری گری نظر آتی ہے جو ہر انسان کو بتانے آتا کے میں اس خالق کی تخلیق ہوں جو سب سے بڑا ہے جو کبر والا ہے اور صرف اور صرف جس پر کبر جچتا ہےجو اونچی شان والا ہے جو مجھ سورج کو صبح روشن کرتا ہے مجھے حکم دیتا ہے پھر شام ہوتے ہی مجھے تم لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل کر کے کسی اور طرف روشن کر دیتا ہے دن چڑھتا ہے تو عمر کا ایک نیا دن زندگی میں آتا ہے ارر شام ہوتے ہی زندگی کاایک دن بھی اسی کے ساتھ ہمارا غروب ہو جاتا ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگلا دن ہمیں پچھلے گزرے دن سے بھی زیادہ خوبصورت لگتا ہے ایک نئی امنگ لے کے آتا ہے پہلے بچپن کے دن بنا کسی پریشانی سوچ لالچ طمع کے گرتے ہیں بہن بھائیوں کے ساتھ سکھیوں سہیلیوں دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں گزرتے ہیں بچپن کے دن بھی عظیم رب کی عظیم قدرتوں کی بہترین تخلیق کا عکاس ہوتے ہیں جہاں محبتیں بےلوث ہوتی ہیں کھلونوں سے کھیلا جاتا ہے مٹی کے گھروندے بناکے کبھی گراتے ہیں تو پھر دوبارہ بناۓ جاتے ہیں جہاں بس کھیل ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ محبتیں ہوتیں ہیں نفرت نہیں ہوتی ہے بس سوچ میں یہ ہی ہوتا ہے کہ آج یہ کھیل کھیلنا ہے مطلب کے بچپن کا دور اپنی خوبصورتی اور رعنائی رکھتا ہے پھر جب انسان کی اگلی عمر جوانی آتی تو اس عمر کے رنگ اور ہوتے ہیں اسکی اپنی ایک خوبصورتی اور الله پاک کی کاری گری ہوتی ہے جو اس عمر کےحصے میں خود کو رب کی محبت میں ڈھال کر چلتا ہے تو اس جوانی لڑکپن کا اپنا ہی انداز اور رنگ ہوتا ہےجو میرے الله کی عظیم کاری گری کا مظہر ہوتا ہے جو کچھ ہی سالوں میں بیت جاتا ہے اور اس عمر کے حصے کی کچھ کڑوی کچھ میٹھی یادیں ساتھ لے کر بڑھاپے میں آگے بڑھ جاتا ہے جہاں بچپن کے خوبصورت دن کی یادیں باقی تو رہتی ہیں مگر دھندلا چکی ہوتی ہیں جو ایک حسیں کچھ بھولے خواب کی مانند ہلکی ہلکی یاد رہتیں ہیں جوانی کے بیتے دور کو یاد کر کے رب کی مہربانیاں اسکی رحمتیں اسکے انعام اسکی کاری گری عمر کا ہر حصہ اسکی بہترین تخلیق میں شمار کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جسکا ایک انسان کو پیداکر کے آحری وقت تک کا سفر ہر دن بہتریں یادگار اور خوبصورت بناتا ہے اس لیۓ کبھی شکوہ شکایت نہیں کرتے بلکہ انسان کی زندگی کا عمر کا ہر دن خوبصورت ہوتا ہے ہر عمر کے حصے کے اپنے رنگ نظارے ہوتے۔ہیں
0