
ناقص العقل کی باتیں
لکھاری: آر۔اے۔دلدارؔ
قسط نمبر: 1
اکثر اوقات انسان جب کسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے یا پھر اُسے کوئی بہت گہرا صدمہ پہنچتا ہے۔اُس وقت انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے فریاد و مناجات مانگتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ہر وہ فعل سر انجام دیتا ہے جو عاقبت سنوارنے میں سرِ فہرست ہو۔
جیسے کہ میں نے یہ سُن رکھا ہے انسان اپنی موت سے ٹھیک چالیس روز قبل با خبر ہو جاتا ہے کہ اب میرا اِس جہان سے کوچ کرنے کا وقت عین قریب ہے۔ لہٰذا اِن ایام میں انسان انتہائی جھک جاتا ہے مطلب یہ کہ اُس دوران اُسے اپنی آخرت کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ الغرض دنیاوی مال و زر سے اُس کا دِل اُکتاہٹ محسوس کرتا ہے بس وہ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتا ہے اور اپنے بَد اعمال کی توبہ طلب کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ “اگر انسان اپنی تمام عمر اِسی انداز میں خُھک کر بسر کرے جس انداز میں اپنی زندگی کے آخری چالیس ایام بسر کرتا ہے تو یقیناً وہ ولایت کے منصب پر فائز ہو جائے”۔
اب یہاں پر دو اہم سوال سامنے آتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ، کیا ہر انسان ٹھوکر لگنے پر حَق باری تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوتا ہے؟ یا آپ یوں کہہ لیں کہ ہر وہ شخص جسے اپنی موت کی خبر ہو جائے وہ بَد فعلی ترک کر دے گا؟ یقیناً آپ کا جواب مثبت میں ہوگا کہ بالکل وہ انسان جسے علم ہو کہ میری موت واقع ہونے والی ہے وہ توبہ کر لے گا۔
ممکن تھا کہ میں بھی آپ کی ہاں میں ہاں ملا دیتا۔اگر میں ‘فرعون’ و ‘ ابوجہل’ جیسے بد قسمت کفار کے نام سے واقف نہ ہوتا۔
زمانہ قدیم میں مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا۔ اُسی زمانے میں ایک ‘ولید ابنِ مصعب’ نامی فرعون ہوا تھا۔ جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دورِ نبوت میں خدائی دعوا کیا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے اِس باطل کے خلاف جہادِ حق کیا تھا(باقی تفصیلاً قصہ تاریخ کے اوراق پر رقم ہے)۔ جب فرعون اپنے لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق ہونے کو تھا تو اُس وقت اپنی موت کو سامنے دیکھ کر بھی توبہ نہ کی بلکہ ایک روایت کے مطابق “جب فرعون دریا میں غرق ہونے لگا تو بولا کے نعوذ باللہ مجھے اللہ نے دھوکا دیا ہے”۔
اس طرح حضرت ‘محمدﷺ’ کا چچا ‘ابو جہل’ جو مشرکین مکہ کے سرداران میں سے ایک تھا۔ غزوہِ بددر میں جب ابوجہل ‘معاذؓ،معوذؓ’ نامی دو کمسن صحابہ کرام رضوان کے ہاتھوں شدید زخمی ہوا اور اُس پر نزاع کی کیفیت طاری ہوئی تو چلانے لگا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ایک قبیلہ کا سردار اپنے ہی قبیلہ کے لوگوں سے لڑتے ہوئے مارا جاۓ۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نیچ کے ہاتھوں مارا گیا۔ یاد رہے کہ عرب میں نیچ یا کمی ہر اُس شخص کو سمجھا جاتا تھا جو کھیتی باڑی کے پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔
ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے کُفر کی مہر ثبت کی ہو وہ کبھی راہِ راست اختیار نہیں کرتے۔
اور اب اپنے اندر مختلف پہلو لیے دوسرا بے حد اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کل کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اُس پاک ذات کی مرضی کے بنا ایک پتا بھی نہیں ہلتا تو پھر انسان گنہگار کیسے ہو سکتا ہے؟
کیسے گناہ کر سکتا ہے؟
جبکہ اللہ تعالٰی تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
یا پھر یہ کہ سب کچھ تو پہلے سے ہی نصیب( لوح و قلم) میں لکھا ہوتا ہے اور انسان تو اپنے نصیب میں لکھے کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے پھر نیکی،بدی پر جزا،سزا کیسی؟
میرے عزیز قارئین!
زرا ٹھہریں! کیونکہ میں جانتا ہوں یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب پر ایک سے زائد کتب چھپ سکتی ہیں۔گویا اسی تحریر میں اس کا تسلی بخش جواب دینا کوزے کو سمندر میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ جو مجھ ناقص العقل کی دسترس سے بہت دُور کا کام ہے۔
لیکن نصرتِ الٰہی کو طلب کرتے ہوئے میں یہاں کوشش کروں گا کہ آپ کو مطمئن کر سکوں۔
“جدو جہد ہماری اور فتح اللّٰہ کی”
جی ہاں! اس وسیع و عریض کائنات پر فقط ایک ہی ذات مکمل قدرت رکھتی ہے اور وہ پاک ذات بے شک اللہ ربّ العزت کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اب یہاں پر ایک بات غور طلب ہے کہ جب ہم کسی کو کوئی منصب دیتے ہیں تو کچھ اختیارات کے ساتھ ساتھ زمیداری بھی سونپتے ہیں۔اب یہ اُس پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زمیداری پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو خود مختار پیدا کر کے نیکی،بدی اچھے،برے صحیح،غلط میں فرق کرنے جیسے ہزاروں اختیارات سے نوازا اور ساتھ ہی حدود مقرر کر کے زمیداری بھی عطاء کی۔
اب بات کرتے ہیں لوح و قلم (نصیب) کی اور نیکی و بدی پر جزا،سزا کی۔
بالکل ایسا ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزِ ازل سے لے کر روزِ ابد تک جو کچھ بھی ہو گا وہ سب لوح و قلم میں محفوظ کر رکھا ہے۔
اب یہ کہ اگر سب محفوظ ہے پھر تو ہر انسان کے نصیب میں جو ہونا ہے وہ سب بھی پہلے سے طے شدہ ہوگا۔
جی ہاں! بالکل ایسے ہی ہے۔لیکن ایک چھوٹا سا نکتہ ہے اگر اُسے سمجھ لیا جائے تو یہ گوتھ بہت آسانی سے سلجھ سکتی ہے۔
غور کیجئے گا کہ ایک بچے کے نصیب میں لکھا ہے کہ وہ جوان ہو کر روے زمین پر انسانیت کا خون بہائے گا۔ اب وہی بچہ جوان ہوتا ہے اور بُری صحبت ہونے کی وجہ سے ڈاکو بن جاتا ہے اور ڈاکے مارتا ہے ظاہر سی بات ہے جب ڈاکے مارے گا تو معصوم لوگوں کو قتل بھی کرے گا۔
اور اب اگر وہی بچہ اچھی صحبت اختیار کرتا ہے پڑھ لکھ کر جوان ہوتا ہے تو آرمی جوائن کرتا ہے اور دشمن کے خلاف جہادِ کرتا ہے اور دشمنوں کو قتل کرتا ہے۔
یعنی نصیب میں لکھا تھا کہ یہ بچہ جوان ہو کر روے زمین پر انسانیت کا خون بہائے گا۔
اور اب یہ اختیار اس بچے کو یا اس شخص کو تھا کہ وہ غلط راستہ اختیار کر معصومین کا خون بہا کے گناہگار و قاتل بنتا ہے
یا صحیح راستہ کا تعین کر کے دنیا میں نیک نامی کے ساتھ عاقبت میں جزا کا مستحق بنتا ہے۔
اس طرح جو رزق اللہ نے مقدر میں لکھا ہے وہ مل کر ہی رہتا ہے لیکن اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ اپنے مقدر کا رزق حلال یا حرام طریقے سے حاصل کرتے ہیں۔
امید ہے کہ یہ تحریر ذہن میں شیاطین کی جانب سے اکثر آنے والے سوالات کے جوابات کا مجموعہ ثابت ہو۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے اور مجھ ناچیز کی اس کاوش کو بعد از قضاء وصیلہِ بخشش بناۓ۔ آمین
جاری ہے ۔۔۔