
میں کسی روز کوئی اِک کتاب لکھوں گا
رفاقتوں میں بچھڑنے کے باب لکھوں گا
کہاں کس موڑ پہ کس نے کسی کو چھوڑ دیا
میں لکھنے بیٹھا تو سارے حساب لکھوں گا
جو پورے ہو نہ سکے دیکھے سرد راتوں میں
میں گرمجوشی سے وہ سارے خواب لکھوں گا
جہاں پہ باب لکھا میں نے ہیر و لیلٰی کو
وہاں پہ حُسن کا تم کو نصاب لکھوں گا
گو نرمگیں سے وہ لب میری دسترس میں نہیں
مگر ہمیشہ میں ان کو گلاب لکھوں گا
عثماں کے نام لکھے جتنے بھی خطوط اُس نے
میں شاعری میں اب اُن کے جواب لکھوں گا
عثمان چوہدری