0

سنو آدم کے اے بیٹے حمیرا قریشی

سنو آدم کے اے بیٹے

سنو آدم کے اے بیٹے
تمھیں معلوم تو ہوگا
زمیں پہ اس خدا کی جب سحر سے رات ہوتی
تو ان تاریک راتوں میں
سجی سنوری دوکانیں شوق کی آباد ہوتی ہیں
جہاں لذت کے ماروں کی
جواں ہر رات ہوتی ہے
جہاں حوا کے جذباتوں کی ہر پل موت ہوتی ہے
جہاں خوشبو مہکتی ہے
جہاں دل کو لبھانے کے سبھی سامان بکتے ہیں
جہاں رنگینیاں تیری تجھے نیچے گراتی ہیں
جہاں پر شوخ تتلی کے پروں کو نوچتا ہے تو
جہاں طبلے کی تھاپیں روح کی چیخیں دباتی ہیں
جہاں گھنگھرو کی چھم چھم میں
کسی ننھی کلی یا پھول کا سہما ہوا پیکر
تری نظروں کی آتش سے
جھلستا ہے پگھلتا ہے
جہاں جذبات بکتے ہیں
جہاں احساس بکتے ہیں
جہاں پر بن بیاہی دلہنیں ہر روز سجتی ہیں
جہاں چہرے پہ تیرے کوئی بھی پردہ نہیں رہتا
جہاں اخلاق کی ساری حدوں سے پار جاکر تو
ہوس میں ڈوب جاتا ہے
ہے انساں بھول جاتا ہے
جہاں حوا کی بیٹی کی
کوئی مرضی نہیں ہوتی
انھیں بیچیں خریدیں یا
کھلونوں کی طرح کھیلیں
انھیں توڑیں مروڑیں اور جو بے جان ہوجائیں
تو پھر بے جان جسموں کو
کسی ندی یا نالے کی
توہی زینت بناتا
تری حیوانیت انسانیت سے جیت جاتی ہے
کہ اس دو پل کے سودے میں
تجھے راحت جو دیتی ہے
وہ کتنا کرب سہتی ہے
کبھی ویراں سی آنکھوں میں
سبھی سپنوں کی ٹوٹی کرچیاں
دیکھی بھی ہیں تم نے
سنو ان کرچیوں کے زخم سے ناسور بنتے ہیں
تمھیں معلوم ہے؟
ناسور یہ کیسے پنپتے ہیں
کسی بے نام نطفے سے
یہاں جو جنم لیتا ہے
اسے تم کیا سمجھتے ہو؟
یہاں پیدا ہوئی لڑکی
کبھی بیٹی نہیں ہوتی
کسی کی ماں نہیں ہوتی
بتا آدم کے اے بیٹے
جسے کوٹھا تو کہتا ہے
ترے کرتوت کے کارن
سدا آباد رہتا ہے
یہاں پیدا ہوا لڑکا
کبھی بھائی نہیں
کوئی بیٹا نہیں ہوتا
یہی لڑکا جو کل ماں جائی کی بولی لگائے گا
بہن کو بیچ کھائے گا
عیاشی کی دوکانوں میں
ہوس کے بیج سے جنمی
تری اپنی ہی ہیٹی
کل جسے تو مول لائے گا
ترا بستر سجائے گی
ترے بیٹے کو خود اس کی بہن
کل جب رجھانے گی
ترے انسان ہونے پر
تجھے کچھ شرم آئے گے
کبھی کیا شرم آئے گی

حمیرا قریشی

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں