0

حسّاسیت اب کھٹکتی ہے! تحریر: غفران احمد


تحریر: غفران احمد
حسّاسیت اب کھٹکتی ہے!
انسان کا حساس ہونا بھی ایک نعمت ہے ایسی نعمت کہ جس سے انسان کا دوسرے انسان کے لئے درد پیدا ہونے لگتا ہے ۔ ایک احساس اُبھرتا ہے دوسروں کیلئے، ایک احساس اُبھرتا ہے جو آپ کا ہے وہ فقط آپ کا رہے ۔ احساس اُبھرتا ہے معاشرے میں محبّتیں بانٹنے کا، احساس اُبھرتا ہے فضاء میں موجود منفی چیزوں کا خاتمہ کرکے مثبت چیزوں کو متعارف کروانے کا، احساس اُبھرتا ہے ماحول کو آلودہ کرنے والی برائیاں بغض، کینہ، حسد کا خاتمہ کرنے کا ۔ دوسری طرف یہی احساسات مجھے اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں، میں سوچنے پر مجبور ہوں کیا واقعی میری سوچ فقط کتابی ہے؟ کیوں یہ معاشرہ اِن باتوں کا تمسخر اُڑاتا ہے؟ کیوں اِن باتوں کو سُنتے وقت سنجیدگی شامل نہیں ہوتی؟
ہم اب ایک ہجوم بن چکے ہیں اور میں بھی اِسی ہجوم کا حصّہ ہوں ۔ لاکھ برائیاں اِس ہجوم میں جنم لے چکی ہیں ۔ ہم نام نہاد قوم اُنہی برائیوں کو ترمیم و جواز بناتے ہوئے معاشرے کو منفی اعتبار سے سرشار کرنے کے پورے حقدار ہیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات برائی ہمیں برائی بھی نہیں لگتی ۔ ہماری غیرت نجانے کس مٹی تلے دفن ہوگئی ہے برائی و اچھائی میں فرق کرنا تو دُور ہم برائی کو دل سے برا ماننے کے بجائے جواز پیش کرتے ہیں ۔ مسئلہ ہی سارا یہ کہ ناپ تول میں کمی کرنے والا ماننے کیلئے تیار نہیں ہے کہ واقعی اُس نے بےایمانی کی ہے، حرام کمانے والا اپنی مجبوری کا رونا روتے ہوئے اپنے کام کو فروغ دے رہا اور معاشرے میں یہ باور کررہا کہ مجبوری میں حرام حلال کا کوئی تصور نہیں ہے – المیہ ہے یہاں ایماندار وہ شخص جس کی بےایمانی پکڑی نہ جاۓ وہ فخر کے ساتھ بےایمانی بھی کرتا ہے اور اُسے عوام میں فخر کے ساتھ پھیلاتا بھی ضرور ہے پھر کیسے ہم یہاں کی فضاء میں مثبت نتائج دیکھ سکتے ہیں؟ یہاں تک کے زبان کا استعمال کرنے سے پہلے نہیں سوچتے آیا جو بات ہم کہنے والے ہیں وہ سامنے والے کے دل پر کس طرح اثرانداز ہوگی ۔بےشمار ایسی برائیاں ہیں جنہیں ہم فخر سے سرانجام دے رہے ہوتے ہیں ۔ کیا وجہ ہے ہماری آب و ہوا میں سکون نہیں؟ اِس ماحول میں پودا بھی اُس وقت تک ہرا بھرا نہیں رہے گا جب تک ہم اردگرد کے ماحول کو مثبت نہ رکھیں یہ بات سائنس سے تصدیق شدہ ہے کہ ماحول کا بڑا گہرا اثر اِن پودوں پر بھی ہوتا ہے ۔ سوچنے والی بات ہے پودے بھی اچھائی و برائی کے فرق کو سمجھتے ہیں ۔لوگوں کے درمیان مجھے خوف آنے لگا ہے اُنکی مایوسی سے، حاسدین سے، بغض و کینہ رکھنے والوں سے ۔ یہ خامیاں جس تیزی سے ہر فردِ واحد میں ضرب ہوئیں ہیں اِس نے ہمیں قوم سے ہجوم بنادیا ۔ اپنی حساسیت کو دیکھ کر بعض اوقات خود سے خوف آنے لگا ہے ۔ حساسیت تنہائی میں جانے کا دوسرا باب ہے اِس باب میں داخل ہونے سے قبل لوگوں کی آپ پر لگنے والی آوازوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، خود پر فضول ہونے کا ٹھپہ لگوانا پڑتا ہے، یہ سب ضروری نہیں پس معاشرے کا المیہ و رویہ ہے ۔ یہ بات جانتے ہوئے کہ آپ کے سنجیدہ ہوجانے سے یہ معاشرہ نہیں بدلے گا، لوگوں کے رویوں میں ردو بدل نہیں آئے گا پھر بھی یہ سنجیدہ مزاجی مزاج کو حساس بنادیتی ہے ۔ ہر معاملات کو گہرائی تک سوچنے پر مجبور کردیتی ہے یوں وقتاً فوقتاً آپ لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے عادی ہوحاتے ہیں اور اِسی خوف و ڈر کی حالت میں آپ چہرے کی مستقل مسکراہٹ کو کھو کر چہرے پر عارضی مسکراہٹ نمایاں کرلیتے ہیں ۔
– غ ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں