
ڈاکٹر فرزانہ فرحت لندن
تیرےعشاق جو راتوں کو کہیں جاگتے ہیں
نت نئے معجزے دیکھیں تو وہیں جاگتے ہیں
دل کی مٹی میں نمی ہے جو مرے اشکوں کی
کوئی طوفان یہاں زیرِ زمیں جاگتے ہیں
کوئی اپنا ہی نہیں کس کو بتاؤں جا کر
کس قدر درد مرے دل کے قریں جاگتے ہیں
میں جو سو جاؤں خیالوں میں بسا کر تجھ کو
پھر محبت کے سبھی خواب حسیں جاگتے ہیں
کس طرح تجھ سے ملاقات کی امید رکھیں
جب مقدر کے ستارے ہی نہیں جاگتے ہیں
کتنے آرام سے سوتے ہیں وہاں خاک نشیں
بے سکوں ہوکے جہاں تخت نشیں جاگتے ہیں
یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں تونے جگایا آکر
ورنہ ہم سوئے ہوئے آپ کہیں جاگتے ہیں
کوئی لمحہ بھی نہیں وصل سے عاری فرحت
ہجر میں سوتے ہی ہم تیرے قریں جاگتے ہیں