0

افسانہ: ادھوری کہانیاں (حافظ علی دانیال)

افسانہ: ادھوری کہانیاں
بقلم: حافظ علی دانیال

وہ ایک مشہور ناولسٹ تھا جس کی کہانیاں لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی تھی۔۔۔
اس کی کہانیوں میں ایک خاص بات تھی وہ یہ کہ اس کی ہر کہانی ادھوری رہ کر ایک ایسے موڑ پر ختم ہوتی تھی جہاں پر پڑھنے والا عجیب کشمکش کا شکار ہو جاتا تھا ، لیکن وہ دی اینڈ ایسی خوبصورتی سے کرتا تھا کہ پڑھنے والے کو کہانی کے ادھورے رہنے کا احساس نہیں ہوتا تھا ۔۔۔
اور کہانی پڑھنے والا اپنے ذہن میں اپنے حساب سے کہانی کا اختتام کرتا تھا اور خود کو مطمئن کر لیتا تھا۔۔
35 سال کی عمر میں وہ شخص پورے ملک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا اس کی ادھوری کہانیوں کہ چرچے پورے ملک میں تھے اور میڈیا کی نظر میں اس وقت وہ ایک سیلیںیرٹی کے طور پر ابھرا ہوا تھا ۔۔۔
اس کا نام شہریار تھا….
اور اس وقت وہ پورے ملک کے سامنے ایک بادشاہ بنا ہوا تھا ، بالکل اپنے نام کی طرح اور اس کی ریاست میں ادھوری کہانیاں بھٹک رہی تھی….

آج کل میڈیا میں اس کے چرچے کچھ زیادہ ہی تھے کیونکہ اس کی نئی آنے والی کتاب اس کی آپ بیتی تھی۔
اور لوگوں کو شدت سے انتظار تھا کہ
یہ شخص کون ہے؟
کہاں سے ہے؟
35 سالہ یہ شخص ابھی تک اکیلا کیوں ہے ؟
اس کے خاندان میں اور کوئی کیوں نہیں ملتا۔۔۔۔…
اور اس کی ادھوری کہانیوں کے پیچھے چھپا پورا راز کیا ہے!!!

اس کی نئی آنے والی کتاب آخری کتاب تھی اور اس کا عنوان تھا… “اور”
“اور” اس وقت پورے ملک میں زبانِ زدعام تھی۔۔۔

4 مئی کو کتاب کی رونمائی تقریب رکھی گئی اور اس میں ملک سے کچھ گنے چنے لوگوں کو ہی مدعو کیا گیا ، اور وہ لوگ ملک کے عام شہریوں میں سے ہی تھی ، اور اس دعوت نامے پر حیران و پریشاں تھے….

شہریار سٹیج پر چڑھا ، اور حاضرین دم بخود اس کو دیکھے جا رہے تھے،، 35 سال کی عمر میں صدیوں کی تھکاوٹ اس کے چہرے پر عیاں تھی۔۔۔
اس نے کتاب اٹھا کر ورق گردانی کرنی شروع کر دی ،،،
اور ایک صفحہ پر رک کر اونچی آواز سے کہانی پڑھنا شروع کر دی….

ایک 15 سالا لڑکا دکان میں داخل ہوا اور اچانک سے واپس باہر نکل آیا۔۔۔۔دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو اس لڑکے کے بارے میں تجسس ہوا اور اس نے اس کو پکڑ لیا اور اس پر چوری کا الزام لگا دیا.۔۔۔
آس پاس موجود لوگوں نے بھی بنا پوچھے اس لڑکے پر لاتوں مکوں کی بوچھاڑ کر دی اور یوں ایک مجمع اکٹھا ہو گیا اور بنا تحقیقات کے ایک لڑکا چور ثابت ہو گیا۔۔۔ اور ان لوگوں کے تشدد کا شکار ہونا شروع ہو گیا۔۔۔
اچانک ایک زوردار ٹھوکر اس لڑکے کے سر پر لگی جس سے وہ لڑکا بے ہوش ہو گیا۔۔۔۔ اور مجمع چھٹ گیا……
اس کے بعد کے حالات سے وہاں پر موجود کوئی شخص واقف نہیں تھا کیونکہ سب اپنے گھر چلے گئے تھے!!!
لڑکے کو ایمبولینس والے لے گئے تھے!!!
اور لڑکا بے ہوشی میں موت کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا تھا….!!!!
لڑکا شدید زخمی تھا اور کچھ ہی پل کا مہمان لگ رہا تھا۔۔۔۔
لڑکا چور تھا یا نہیں تھا!!!!
یہ کوئی نہیں جانتا تھا!!!
لڑکے نے ہوش کی حالت میں آخری لمحہ کیا محسوس کیا ہو گا!!!
یہ آپ محسوس کریں!!!
جو لوگ اسے مارنے میں شامل تھے کیا انہیں رات کو نیند آ گئی تھی…؟؟؟
لڑکے کے گھر والوں کو کیا لڑکے کے بارے میں دوبارہ معلوم ہوا کہ ان کا لڑکا اچانک سے کہاں غائب ہو گیا…
ان لوگوں نے اس کا کب تک انتظار کیا اور ان پر کیا بیتی ؟؟؟
یہ کون جانتا ہے؟؟؟
انہوں نے پوری زندگی کیسے گزاری پھر؟
لڑکے کا انتظار کیا یا بھول گئے!!!!

یہ جواب آپ نے ڈھونڈنے ہیں……

یہ کہانی سنتے ہی تقریب میں بیٹھے 3 لوگوں کے سامنے ان کا ماضی پل بھر میں گزر گیا اور وہ تینوں ایک دوسری کی طرف حیرت زدہ انداز میں دیکھنے لگے!!!!!
اور تینوں کا سر ندامت سے جھک گیا……

حاضرین کی خاموشی کو اچانک شہریار کی آواز نے توڑا ، اس نے کتاب پلٹنی شروع کی اور ایک اور کہانی پڑھنی شروع کر دی۔۔
حاضرین اپنی سوچوں سے باہر آئے اور نئی کہانی کو سننے میں محو ہو گئے

وہ دو دوست تھے جو اپنے شہر سے دور کسی اور سمت، کسی اور شہر کی طرف زاد سفر باندھ کر روانہ ہوئے تھے… ان کے پاس کافی قیمتی سامان تھا ، انہوں نے ایک دوسرے کا دکھ سکھ میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔۔۔اور سفر کو نکل پڑے….
ایک جنگل میں انہیں رات ہو گئی اور انہوں نے وہیں رک کر رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور ایک ترتیب بنائی کہ ایک شخص جاگے گا اور دوسرا سوئے گا۔۔۔۔
قیمتی سامان انہوں نے الگ کر کے رکھ دیا اور ایک دوست سو گیا اور دوسرا دوست جس کا نام عرفان تھا وہ جاگ کر پہرے پر بیٹھ گیا۔۔۔
آدھی رات کو پہرا تبدیل ہوا اور عرفان کے سونے کی باری آ گئی ، عرفان سونے گیا جبکہ اس کا دوست جاگ کر پہرا دینے لگ گیا ۔۔۔
وہ چاند کی چودھویں کی رات تھی اور چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا ، جنگل پر عجیب ہو کا عالم طاری تھا۔۔۔۔

صبح صادق کے وقت عرفان کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کا سارا قیمیتی سامان اور اس کا دوست دونوں غائب ہیں، اس نے اٹھ کر ادھر ادھر تلاش کیا اور آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا ، وہ سمجھ گیا کہ قیمتی سامان دیکھ کر اس کا دوست اس کو دھوکہ دے کر چلا گیا ہے۔۔ اور عرفان غصے کے عالم میں اسے گالیاں بکتا ہوا واپس گھر کو روانہ ہو گیا، بنا یہ تحقیق کیے کہ اس کے دوست کے ساتھ کیا بنی!!؟؟؟

بس اس کے ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ لالچ نے اتنے برسوں کی دوستی پر پانی پھیر دیا ہے……

لیکن اس کے بعد پوری زندگی ان دونوں دوستوں کا آمنا سامنا کیوں نہیں ہو سکا؟؟

اس کا جواب بھی آپ لوگ دیکھیے!!!!!

کہ اس رات ایسا کیا ہوا تھا…؟؟
ایسا کیا ہوا تھا کہ آپ کا دوست دوبارہ پلٹ کر نہیں آیا اور آپ نے اسے آستیں کا سانپ ٹھہرا کر ہمیشہ کیلئے فراموش کر دیا۔۔۔؟

کیا پتا اس رات اس کے ساتھ ، کچھ ایسا واقعہ پیش آ گیا ہو جس نے اس کو ایسا کرنے پر مجبور کر دیا ہو…..؟؟

ذرا سوچیے اور اس کا جواب بھی آپ ہی ڈھونڈیے!!

یہ سن کر تقریب میں بیٹھے سامنے والے شخص کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں!!!
اور اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے گلے میں لٹکے ہوئی کارڈ پر اس کا نام عرفان واضح طور پر نظر آ رہا تھا…..

شہریار کی آواز گونجی جس نے اس شخص کو سوچوں کی دنیا سے واپس تقریب میں پہنچا دیا۔۔۔
ہر کہانی ادھوری رہتی ہے ،، آپ چاہیں تو کہانی کو آگے بڑھا بھی سکتے ہیں یا وہیں پر ختم بھی کر سکتے ہیں۔
انتخاب آپ کا…..

شہریار نے کتاب میں سے یہ دو کہانیاں سنا کر تقریب کے ختم ہونے کا اعلان سنایا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ جب کتاب مارکیٹ میں آئے گی تب خدا جانے میں کہاں ہوں گا کہاں نہیں….!!!
اور اس کتاب کی آخری کہانی آپ لوگ ضرور پڑھیے گا اس کہانی میں چھپے راز یقیناً آپ کو حیرت زدہ کر دیں گے….اور شاید تب تک میری کہانی بھی مکمل ہو چکی ہو گی ۔۔۔۔

تقریب کے اختتام پر لوگ گھروں کی طرف روانہ ہو رہے تھے

وہ تینوں بھی واپسی پر حیرت زدہ اس دن کو یاد کرتے جا رہے تھے!!!
ان تینوں کے ذہن 20 سال پیچھے پہنچ چکے تھے۔۔۔
جب وہ کسی دکان پر بیٹھے بوتل پی کر آپس میں خوش گپیاں کر رہے تھے اور اچانک چور کا شور سن کر بڑی پھرتی سے اٹھ کر دکان سے باہر نکل آئے۔
باہر ایک ہجوم کسی لڑکے کو مار رہا تھا ، موقع کا فایدہ اٹھا کر وہ بھی مجمع میں داخل ہو گئے تھے اور لڑکے کو چوری کے الزام میں مار کھاتا دیکھ کر اس پر ٹوٹ پڑے تھے بنا کچھ سوچے بنا کچھ پوچھے!!!!
وہ نا لڑکے کو جانتے تھے نا ہی معاملے سے آگاہ ،
مار کٹائی کرتے وقت اچانک ان میں سے ایک کے پاؤں پر موچ آ گئی اور اس کی کراہ نکل گئی ،
شاید اس کا پاؤں لڑکے کے سر میں نہایت زور سے لگ گیا تھا……
وہ لنگڑا کر مجمع سے باھر نکلا اور اپنے دوستوں کے سہارے وہاں سے نکل گیا!!!
اس دھنگا مشتی کا فایدہ اٹھا کر ان تینوں نے بوتل کے پیسے بھی نہیں دیے اور ساتھ کھڑے لوگوں کی جیب کتر کے ، فرار ہو گئے!!!
کیونکہ آخر سارے الزام تو اس 15 سالہ لڑکے پر ہی لگنے تھے آخر…..
ان تینوں نے گزرے وقت کا سوچ کر اچانک ایک جھجھری لی اور شرمندگی کی ایک لہر ان کے چہرے پر ابھرتی نظر آئی اور ان تینوں کا سر شرم سے جھکتا چلا گیا…..
یہ کہانی بھی شاید اختتام پذیر ہو چکی تھی….. لیکن ان کے ذہن میں شہریار کے الفاظ گونج رہے تھے کہ کچھ کہانیاں مکمل ہو کر بھی مکمل نہیں ہوتیں….ہر راز کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔۔۔

یہ رات بہت بھیانک رات تھی….

دوسری طرف تقریب کے ختم ہونے پر عرفان بھی اپنے بائیک پر سوار اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھا ، اس کا ذہن اسے 10 سال پیچھے لے کر چلا گیا تھا ، پرانا وقت یاد کر کے اس کے ذہن میں جھماکے ہو رہے تھے….
اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ آخر اس رات اس کے دوست کے ساتھ کیا بنی…؟؟؟
آخر کیوں اس کا دوست اچانک اسے چھوڑ کر کیوں فرار ہو گیا تھا ؟؟؟
اس معمہ کو حل کرنے کے لئے اس نے بائیک جنگل کی طرف دوڑا دی….

عرفان کہیں رات 11 بجے جنگل کے پاس موجود بستی میں داخل ہوا اور اس نے وہاں ایک برگد کے درخت کے گرد بیٹھے بزرگوں سے پاس بیٹھنے کی اجازت چاہی۔۔۔ اور پھر بزرگوں سے پوچھا کہ آج سے 10 سال پہلے کیا یہاں کوئی عجیب واقعہ پیش آیا تھا کہ نہیں۔۔۔۔

تمام بوڑھے اس کی باتیں حیرت سے سن کر اپنے ذہن پر زور دینے لگے لیکن انہیں کچھ یاد نہیں آ رہا تھا یا شاید وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے!!!

لیکن ایک بوڑھے کی نم آنکھیں عرفان کو کسی راز سے آشکار کرنے کیلئے بے تاب نظر آ رہی تھیں!!!!

اس بوڑھے نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور اٹھ کر ایک جانب چل دیا ۔۔۔
عرفان حیران و پریشان اس بوڑھے کے پوچھے اس کے گھر کی جانب چل دیا ۔۔۔
گھر میں داخل ہو کر بوڑھے نے فرش سے قالین ہٹا کر تہہ خانہ کا دروازہ کھولا اور اسے ساتھ لیے نیچے تہہ خانے میں اتر گیا۔
عرفان ڈرتا ڈرتا حیران سے تہہ خانے میں اترا ، نیچے اترتے ہی سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں مارے حیرت کے پھٹنے پر آگئی۔۔
اس کے سامنے اس کا 10 سال پرانا قیمتی سامان ویسے کا ویسے ہی پڑا تھا…..
یہ دیکھ کر گویا عرفان کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک گئی ہو ، وہ فوراً زمین پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ، اور اس بوڑھے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ گیا۔۔۔۔۔

بوڑھے نے اس کی سوالیہ نگاہوں کے جواب میں ، صرف ہاں میں سر ہلایا اور نم آنکھیں صاف کر کے بولا کہ
یار 10 سال لگا دیے تم نے آنے میں!!!
وہ پاگل تو مجھے کہہ گیا تھا کہ میرا دوست صبح تک مجھے ڈھونڈتا ہوا یہاں آئے گا لیکن تم تو آج آ رہے ہو
10 سال بعد ؟؟؟؟
آخر کیوں!!!

عرفان کا سر مارے ندامت کے جھک گیا ، آخر کیا جواب دیتا وہ اس کیوں کا؟؟؟ اس کے دماغ میں سوالوں کا ایک ہجوم بپھرا کھڑا تھا۔۔۔
وہ کمرے کی خاموشی میں چھپے گہرے راز کا کھوج لگا رہا تھا۔۔۔۔
اسے خاموش دیکھ کر بوڑھے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔۔
اسے اپنی کیوں کا جواب مل چکا تھا….
اور اب وہ عرفان کو اس کے سوالوں کے جواب بتا رہا تھا ۔۔۔۔
بوڑھا کہنے لگا کہ میں بتاؤں اس رات کیا ہوا تھا…..؟
10 سال پہلے کیا ہوا تھا…؟؟؟؟

جب تم سو رہے تھے تب!!!
تمہارا دوست پہرا دے رہا تھا۔۔۔
تبھی ڈاکوں کا اک گروہ تمہاری طرف بڑھنے لگا اور تم ان سے بے خبر سو رہے تھے۔۔۔شاید ڈاکؤں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ آگے کوئی مسافر پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں۔۔۔
لیکن جیسے ہی ڈاکؤں نے تم لوگوں کو دیکھنا تھا انہوں نے بنا توقف کیے تم دونوں کو مار دینا تھا۔۔۔۔

ڈاکوؤں کو ادھر آتا دیکھ تمہارے دوست نے تمہارے سامنے کچھ جنگلی پتوں کی ڈھال بنا دی تاکہ تم انہیں نظر نا آؤ ۔۔ اور خود سامان اٹھا کر دور درخت کے پاس چھپ کر ڈاکؤں پر نظر رکھنے لگ گیا تھا ۔۔۔
اتنا وقت نہیں تھا کہ تمہیں خبردار کیا جاتا۔۔۔
جب ڈاکو تمہارے قریب پہنچنے لگے تو اسے اور کچھ نا سوجھا اس نے ایک کنکر ان کی طرف اچھال دیا اور نیچے دوڑ لگا دی ۔۔

ڈاکووں کا گروہ شور سن کر اور ایک سایہ دیکھ کر اس کے پیچھے لپک پڑے!!!
اور تمہارا دوست ڈاکوؤں کو اپنے پیچھے لگا کر تم سے بہت دور لے گیا ، تم تب گہری نیند سوئے ہوئے تھے….
بھاگتے ہوئے اس کا ٹکراؤ مجھ سے ہو گیا ، میں کھیتوں کو پانی لگا کر گھر کی طرف جا رہا تھا،، اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ یہ امانت سنبھالیے ، وہ ضرور آئے گا صبح تک ڈھونڈتا ہوا مجھے ضرور آئے گا ، اسے میری امانت پہنچا دینا اور بتا دینا کہ یار آج تیرے احسان کا قرض چکانے کا وقت آ گیا ہے…….بچ گیا تو میں ضرور آؤں گا تم سے ملنے واپس……
بوڑھا کہنے لگا۔۔۔میں سامان لے کر درخت کے پیچھے چھپ گیا اور تمہارا دوست جنگل کی دوسری طرف بھاگ پڑا، اور ڈاکؤں کا گروہ بھی اس کے پیچھے بھاگ پڑا.…
اس کے بعد مجھے صرف چند فائروں کی آوازیں آئیں اور تب سے اب تک میں انتظار میں ہوں کہ کب تم آؤ گے اور میں امانت پہنچا کر اپنا فرض ادا کروں۔۔۔۔

لیکن تم آج آئے ہو 10 سال بعد!!!
اور کیوں آئے ہو اتنے سال بعد یہ راز بھی میں جان چکا ہوں….
یہ پکڑو تم اپنا سامان اور میری نظروں سے اوجھل ہو جاؤ۔۔۔۔ اچانک سے بوڑھا نہایت غصے میں آ گیا ،، اور عرفان چپ چاپ ، نظریں جھکائے سامان اٹھائے بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہو گیا……
اس اس کے سارے سوالوں کا جواب مل چکا تھا۔۔۔۔
شاید اس کی کہانی بھی مکمل ہو چکی تھی۔۔۔
بائیک پر گھر جاتے ہوئے اس کے ذہن میں شہریار کے آخری فقرے گونج رہے تھے کہ
کچھ کہانیاں مکمل ہو کر بھی مکمل نہیں ہوتیں….
ہر راز کے پیچھے بھی ایک کہانی ہوتی ہے….

عرفان اور ان تینوں دوستوں کے ذہن میں شہریار گردش کر رہا تھا کہ یہ شہریار کون ہے…؟؟
اس نے ہماری کہانیاں کیسے لکھی ہیں؟؟؟
کیا یہ شہریار کا تخیل ہے یا یہ راز اس پر قدرت نے عیاں کر دیے؟؟؟؟ ہزاروں سوال اور ان کا ایک جواب تھا
کتاب کی آخری کہانی ،آخری راز۔۔۔

کتاب منظر عام پر آ چکی تھی اور دھڑا دھڑ بک رہی تھی لیکن رائٹر منظر سے غائب تھا اور پبلششر سے لے کر دکان دار تک سب اس کے بارے میں خاموش تھے!!!
ان چاروں نے کتاب خریدی اور پڑھنے میں محو ہو گئے۔۔۔
کتاب میں ان کہانیوں کا ذکر نہیں تھا ، بلکہ یہاں تو کہانیاں بھی اور طرح کی تھیں…..

ان کی نظریں کتاب کی سطروں پر کڑی تھیں۔۔۔۔ کہانی ان کے سامنے اپنا آپ بیان کر رہی تھی اور وہ اس تجسس کے سمندر میں غوطہ زن تھے۔۔۔

وہ اپنے گھر کا واحد کمانے والا تھا۔۔۔
ایک بیمار ماں اور 3 جواں بہنوں کی زمہ داری نے اسے کھیل کود کی عمر میں محنت مشقت پر لگا دیا تھا ۔۔
باپ کے بعد گھر کا واحد سہارا وہی تھا۔
معاشی حالات سے تنگ آ کر کمسنی میں اس نے ، گھر کو خیر باد کہہ کر دوسرے شہر میں جا کر کمانے کا فیصلہ کیا ، اور ہر ماہ گھر میں خرچہ بھیجتا رہا ، تین ماہ ہو گئے تھے اسے کام کرتے ہوئے، اس کی بڑی بہن کا رشتہ طے ہو گیا تھا اور اس نے ان تین ماہ میں دن رات ایک کر کے اس کا جہیز بنایا تھا۔۔
اور اب آخر کار اسے چھٹی کی اجازت مل گئی تھی اور وہ اپنے گھر روانہ ہونے والا تھا۔۔۔آخر کو اپنی بہن کو الوداع کرنا اس کا فرض بنتا تھا ۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھا اور شام ہونے سے پہلے پہلے اس نے سامان سمیٹ لیا اور کچھ خریداری کی نیت سے بازار روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔

اس کی چھوٹی بہن نے اس سے ایک لاکٹ کی فرمائیش کی ، اور وہ لاکٹ خریدنے ایک دکان میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔لاکٹ لے کر اس کو گھر کی جانب روانہ ہونا تھا، شام ہونے والی تھی….

وہ لاکٹ لینے دکان میں داخل ہوا تو کیا دیکھا کہ دکان میں کام کرنے والے لڑکے نے مالک کی نظر بچا کر ، کیسے ہشیاری دکان کے غلے سے ہزار کے 2 نوٹ ،اپنی جیب میں چھپا لیے ہیں…
یہ منظر دیکھ کر وہ بوکھلا گیا اور دکان سے باھر نکل گیا لیکن شاید قسمت یہاں پر کچھ کھیل کھیلنے والی تھی۔۔۔۔
اچانک ایک شور برپا ہوا اور اس پر لاتوں مکوں کی بوچھاڑ ہو گئی اور چاروں طرف چور چور کا شور بلند ہو گیا ۔۔۔
اس کی ڈوبتی آنکھوں نے آخری منظر یہی دیکھا کہ کسی نے اس کی جیب میں موجود نقدی ، ٹکٹ، نکال لی ہے……..
اور پھر اس کی آنکھوں کے آگے ایک نا ختم ہونے والا اندھیرا چھا گیا۔۔
دوسری جانب اس کے گھر میں لڑکے کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی،، اور پیسے نا ہونے کی وجہ سے اس کی بہن کا رشتہ ٹوٹ گیا اور اس کی بوڑھی ماں اس صدمے کی تاب نا لاتے ہوئے چل بسی.۔۔۔۔
اس گھر سے ایک جنازہ اٹھا اور اس سے اگلے دن اس گھر میں سے باقی کے تین جنازے بھی اٹھ گئے!
شاید اس کی بہنوں میں اکیلے رہنے کا حوصلہ نہیں تھا.۔۔۔
اور اس گھر کی دیواریں ایک کے بعد ایک لاشے دیکھ کر سہم گئی اور اس لڑکے کے انتظار میں بوڑھی ہونے لگ گئی….
کتاب پڑھتے ہوئے ان تینوں کا دل ڈوبتا چلا گیا اور وہ اپنے آپ کو ان کی موت کا زمہ دار ٹھہرانے لگ گئے اور خود کو کوسںے لگ گئے ۔۔۔
کتاب انہیں پھر سے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی اور نم آنکھوں سے انہوں نے پھر سے اپنی توجہ کتاب پر مزکور کرنا شروع کر دی ۔۔

اس صفحے کے آخر پر شہریار کا پیغام لکھا ہوا تھا کہ اختتام کے بعد بھی کہانیوں کو پڑھا کیجئے…. ہو سکتا ہے کہ یہ صرف کہانی کی شروعات ہو….

انہوں نے صفحہ پلٹ کر آگے پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔

اس لڑکے کے نیم مردہ وجود کو ہسپتال میں لایا گیا اور اس کی ٹریٹمنٹ شروع کر دی گئی، سر پر لگنے والی گہری چوٹ نے اسے کومہ میں پہنچا دیا تھا۔۔۔۔
ہسپتال میں کام کرنے والے ایک وارڈ بوائے کو اس نئے مریض سے کچھ خاص لگاؤ ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ باقی مریضوں سے زیادہ توجہ اس نوجوان پر دیتا تھا جس کے پیچھے آج تک اس کا کوئی وارث بن کر نہیں آیا۔۔۔۔
اسے کومے میں پڑے 5 سال ہو گئے تھے اور ہسپتال کے سب لوگوں یہی سمجھنے لگ گئے تھے کہ یہ مریض وارڈ بوائے کا بہت قریبی دوست ہے، جبھی وہ اس کا اتنا خیال رکھتا ہے لیکن یہ ان دونوں کی پہلی ملاقات تھی۔۔۔
5 سال بعد اس لڑکے نے آنکھیں کھولیں تو وہ وارڈ بوائے اس درجہ خوش تھا کہ اس نے پورے ہسپتال میں مٹھائیاں بانٹی،
اس لڑکے کے ذہن میں 5 سالہ پرانا واقعہ گردش کرتا جا رہا تھا اور اسے اس کی ماں بہنوں کی یاد ستائے جا رہی تھی کہ کیا معلوم وہ اب کہاں ، کس حال میں ہوں گی…؟؟

وارڈ بوائے کے احسان اس کو لوگوں کی زبانی علم ہو چکا تھا اور وہ دل میں عہد کر چکا تھا کہ اس کے احسان کا بدلہ کسی دن ضرور چکائے گا ۔۔۔
اب وہ دونوں بہترین دوست بن چکے تھے ، دیکھنے والے انہیں سگا بھائی سمجھنے لگے تھے…..
ان دونوں کو ایک ساتھ رہتے ہوئے 10 سال ہو گئے تھے، 5 سال تو خیر کومہ کے اور 5 سال ہوش میں آنے کے بعد کے….
اس لڑکے تک اس کی ماں ، بہنوں کی موت کی خبر بھی پہنچ چکی تھی اور وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا لیکن اس موقع پر بھی اس وارڈ بوائے نے اس کو ہمت دی، حوصلہ دیا۔۔۔
عرفان کا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں تھا، سوائے اس لڑکے کے۔۔۔۔
عرفان نے وارڈ بوائے کی نوکری چھوڑ کر دوسرے شہر جا کر نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔
انہوں نے اپنا قیمتی سامان اکٹھا کیا اور دوسرے شہر کی جانب چل دیے..

رات کے وقت جنگل میں چار سو خاموشی چھا چکی تھی اور وہ لڑکا چاند کی روشنی میں عرفان کا چہرا دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
اپنے محسن کیلئے اس کے دل سے دعائیں نکل رہی تھی۔۔۔۔
دفعتاً اس نے ایک آہٹ سنی تو کیا دیکھا کہ کچھ لوگ ان کی طرف بڑھتے آ رہے ہیں،۔۔۔
شاید یہ ڈاکو ہیں…
وہ خود سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
آج احسان چکانے کا وقت آ پہنچا تھا ، سامان اٹھا کر اس نے ڈاکؤں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور نیچے ایک بستی کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔

راستے میں اس کا ٹکراؤ ایک بوڑھے سے ہو گیا ، بوڑھے کو اس نے امانت کے طور پر سامان پکڑایا اور کہا کہ وہ آئے گا اس کو یہ سامان دے دینا اور کہہ دینا کہ دوست تمہارے احسان کے بدلے میں میری قربانی قبول کرو…..
اور واپس جنگل کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔
بھاگتے بھاگتے وہ دریا کے کنارے پر پہنچ گیا ، ڈاکؤں کا گروہ مسلسل اس کے پیچھے لگا ہوا تھا
دریا کے کنارے پر وہ جیسے ہی پہنچا ڈاکو جو اس کا پیچھا کر کے تھک چکے تھے انہوں نے اس پر فائرنگ کی بوچھاڑ کر دی اور ، گولیاں اس کے جسم کے آر پار ہو گئیں اور وہ دریا کے پانی میں ڈوبتا چلا گیا…….

ادھر یہ پڑھتے ہوئے ایک سیلاب عرفان کی آنکھوں میں امڈ آیا ۔۔۔۔

اس صفحے کے آخر میں بھی شہریار کا پیغام لکھا ہوا تھا کہ کچھ کہانیاں دریا کی طرح ہوتی ہیں ان میں جتنا گہرائی میں اترتے چلیں گے اتنے ہی وسیع رازوں سے پردہ اٹھے گا۔۔۔۔
… عجیب پراسراریت چھائی ہوئی تھی اس کتاب میں۔۔۔۔
ان نے صفحہ پلٹ کر آگے پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔

اندھیرا چھٹا تو اس کی آنکھوں میں ایک مدھم سی روشنی نظر آئی۔۔۔
وہ کسی گاؤں کے پرانے حکیم کے حکمت خانہ میں لیٹا ہوا تھا۔۔
اس کو ہوش میں آتا دیکھ کر ساتھ بیٹھے شخص نے مسکرا کر اس کو دیکھا اور سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔۔
اس شخص سے باتیں کرنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ پورے 2 مہینے بعد ہوش میں آ رہا ہے ، گولی نے اس کی پسلی کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔۔۔
ایک مہینہ بعد وہ کچھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اس نے اپنے اس احسان مند سے اجازت چاہی اور اپنے شہر کی طرف واپس گامزن ہو گیا۔۔۔۔
اس کے ذہن میں مختلف وسوسے جنم لے رہے تھے کہ کہیں اس رات ڈاکوؤں نے اس کے دوست کو تو کچھ نہیں کر دیا تھا ۔۔۔۔
میرے دوست نے مجھے کہاں کہاں جا کر تلاشا ہو گا ۔۔۔۔

یہی سوچتے سوچتے وہ اپنے شہر میں داخل ہو گیا۔۔۔
لیکن شہر میں آتے ہی اسے معلوم پڑ گیا کہ پورے شہر میں وہ ایک احسان فراموش اور آستین کا سانپ کے طور پر مشہور ہو چکا ہے۔۔۔
اس کے دوست نے اس کو قیمتی سامان سمیت غائب ہونے پر دھوکہ باز قرار دیا تھا۔۔۔۔
اس بات نے اس کے دل پر کچھ ایسی ضرب لگائی کہ اس نے وہ شہر چھوڑ کر کہیں دور جا کر رہنے کا فیصلہ کر لیا اور شہر والوں کے طعنے سنتا ہوا شہر سے کوچ کر گیا ۔۔۔۔
تاکہ کبھی اس دوست سے دوبارہ آمنا سامنا نا ہو سکے۔۔۔۔۔

یہ پڑھتے ہوئے عرفان کی آنکھ سے آنسو نکلا جس نے صفحے کو گیلا کر دیا۔۔۔۔۔۔

ماحول پر عجیب سے اداسی چھائی ہوئی تھی…..
کتاب کے صفحے بھی اس اداسی کی زد میں آ چکے تھے،،
انہوں نے کتاب کا آخری صفحہ کھولا اور اس کو پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
یہ آخری صفحہ ہی آخری کہانی تھی ، عنوان دیکھ کر ان چاروں کی آنکھوں میں عجیب سے کشمکش ابھر آئی تھی۔۔۔۔

میں شہریار ہوں، میں نے اپنے قلم سے لوگوں کو رلایا ہے، یا شاید میرے لفظ روتے ہوئے دیکھ کر لوگ خود کی رو پڑتے ہیں، میری ذات کا ادھورا پن میری کہانیوں کو بھی کھا گیا ۔۔۔
میں آج تک کوئی ایک ایسی کہانی نہیں لکھ سکا جو پوری ہوئی ہے۔۔۔۔
اور شاید یہ کہانی بھی کہیں نا کہیں آپ کو ادھوری نظر آئے گی۔۔۔

اب آپ جو پڑھ رہے ہیں یہ میری زندگی کی آخری کہانی ہے ، اب معافی کا وقت نکل گیا ہے، اب آپ یہ پڑھ رہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں منظر سے غائب ہو گیا ہوں۔۔۔
مجھ تک پہنچنے کیلئے اب آپ کو بھی ان ادھوری کہانیوں کا دکھ جھیلنا پڑے گا

ایک بیٹا اپنی ماں بہنوں کی زمہ داری نبھاتے ہوئے کیسے لوگوں کے ظلم کا۔نشانہ بنتا ہے یہ دکھ جھیلنا ہو گا۔۔۔
میری یہ جو زمہ داری ادھوری رہ گئی تھی آج تک اس ادھورے پن کا احساس میرے لفظوں میں چھلکتا ہے۔۔۔۔

میرا ایک دوست تھا ، اچھا سا دوست، اس کے احسان کا قرض چکایا میں نے لیکن اس کی اتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔

لیکن خیر اب وقت گزر گیا ہے۔۔۔آپ کو نہیں معلوم ہو گا کہ اب یہ شخص کہاں چلا گیا ہے جیسے میں ساری زندگی ادھورا رہا ایسے ہی اب آپ لوگ ایک احساس ندامت کے ساتھ باقی کی زندگی گزاریں گے ۔۔۔
معافی مانگنے کا احساس آپ کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا، لیکن معافی کا وقت ختم ہو چکا ہے ، معافی اس سے مانگی جاتی ہے جو موجود ہو اور
خدا جانے میں اب کہاں پر ہوں۔۔۔
زمیں پر ہوں کہ آسمان پر ہوں۔۔۔
نہیں معلوم کہ دوبارہ آمنا سامنا ہو یا نا ہو لیکن یہ یاد رکھنا کہ کچھ کہانیاں کبھی بھی ختم نہیں ہوتی….
ہر کہانی کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوتا ہے اور اس راز میں اک کہانی چھپی ہوتی ہے۔۔۔۔۔

امید ہے آپ کہانیوں میں چھپے راز کو کھوج لگائیں گے ، تب تک شاید میں یعنی شہریار آپ کی پہنچ سے بہت دور جا چکا ہوں گا ۔۔۔۔

کتاب ان کے ہاتھوں سے ڈھے گئے اور وہ چاروں ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے….
اور آج پھر چاند کی چودھویں تاریخ تھی۔۔۔۔

حافظ علی دانیال

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں