
گنگا رام ہستال میں لیب اٹینڈنٹ غلام مرتضی خون کی بوتلیں چوری کرکے بیچنے پر FIRدرج۔انکوئری شروع

ملزم میاں منشی ہسپتال کے ڈسپنسر میاں سرور کا بھائی اور مافیا کا رکن ہے۔نرس عائشہ بھیاسکی بھابی ہے۔
میاں سرور گینگ کو پہلے بھی کئی انکوئریوں کا سامنا ہے ۔ سیکشن آفیسر انکوئری نے کلین چٹ دینے کا یقین دلا دیا۔

لاہور(بی بی سی)گنگا رام ہسپتال لاہور کے بلڈ بنک کے لیب اٹینڈنٹ غلام مرتضی ولد محمد ظفر شہباز پر FIRدرج کرتے ہوئے اسکے قبضے سے 49 خون کی بوتلیں اور 9 عدد white blood کی بوتلیں برآمد کی گئیںجن کو ملزم ایک ہزار روپیہ فی بیگ کے حساب سے بیچ رہا تھا۔ اس دوران مزید انکشاف ہوا کہ اس سے پہلے عرصہ دراز سے ملزم غلام مرتضی خون کی بوتلوں کی خرید و فروخت میں ملوث رہا ہے جس کے تمام ثبوت بھی موجود ہیں۔ سرکاری بلڈ بیگ کی برآمدگی کے موقع پر روبروگواہان ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ بلڈ بنک سے پیسے کے عوض بوتلیں بیچتا رہا ہے۔اسکے ایک ساتھی عدیل نے بھی اعترف کیا کہ غلام مرتضی کے ساتھ ملکر وہ مختلف سرکاری ہسپتالوں سے خون کی بوتلیں چوری کر کے بیچتا رہا ہے، اس طرح سرکاری ہسپتالوں میں عوام، کی رکھی ہوئیں بوتلیں جو کہ ا مانت کے طور پررکھی گئیں ہیں انکو بیچا گیا۔ اسکے خلاف تعزیرات پاکستان 409کا مقدمہ درج کرتے ہوئے قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا۔دریں اثنا سپیشیلائیزڈ ہیلتھ کی جانب سے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بنا دی گئی ۔جو کہ بلڈ بنک کا ریکارڈ قبضے میںلیکر اس واقعہ کی انکوائری کرے گی۔ ذرائع کے مطابق گنگا رام ہسپتال کا ملزم میاں منشی ہسپتال کے کرپشن کنگ میاں سرور کا بھائی ہے جو میاں منشی ہسپتال لاہور کے سیاہ و سفید کا مالک ہے، اسی کا ایک اور بھائی کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں ڈسپنسر ہے اور وہاں بھی ادویات میں خورد برد کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق میاں منشی ہسپتال کے میاں سرور گینگ نے اسوقت سرکاری ہسپتالوں کو قابومیں لیا ہوا ہے میاں سرور پہلے بھی ادویات کی چوری اور خوردبرد میں ملوث رہا ، اور ڈاکٹر عدنان کے سید مٹھا ہسپتال کی تعیناتی کے دوران اسکا کار خاص رہا، اور کروڑوں روپیہ کے wipes اورCBC ریجنٹس میں کروڑوں کا ٹیکہ لگانے کی وجہ سے ابھی بھی انکوائری کا سامنا کر رہا ہے۔ گنگا رام ہسپتال لاہور میں بلڈ بنک میں کام کرنے والی سٹاف نرس عائشہ بھی میاں سرور کے بھائی غلام مرتضی کی بیوی ہے اور اس چوری میں اسکاساتھ دے رہی ہے۔ ۔ ذرائع کے مطابق غلام مرتضی نے بتایا ہے کہ سیکشن آفیسر انکوئری نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ اسکے ہوتے ہوئے کوئی بھی انکوئری انکے خلاف نہیں ہو سکتی۔

0