0

وقاص عمر انٹرویو

کرن میگزین کو دیا گیا میرا انٹرویو

ادارہ کرن ۔ میرا جسم میری مرضی. خواتین کا یہ سوال کس حد تک درست اور کس حد تک غلط ہے.؟

میرا جواب ۔

یہ ایک نعرہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور ایجنڈا ہے ؟ اللہ بہتر جانتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ نعرہ اگر مرد بھی لگاۓ تو تب بھی یہ فحش ہے ۔ کیونکہ جسم بھی اللہ کا ہے اور مرضی بھی اللہ کی ہی چلے گی اس معاشرے میں رہتے ہوۓ احکام نبوی کے مطابق پردہ کرنا ضروری ہے اس سے وقار کردار اور قد کاٹھ میں اضافہ ہوتا ہے .
ایک خاتون کا بے باک لباس میں مردوں کے ہجوم میں آنے سے مسائل کا پیدا ہونا فطری عمل ہے مگر ہجوم کی کاروائی کو آپ مردوں کے کردار یا ذہینت سے تعمیر نہیں کر سکتے .
مردوں کے ذہین اگر تبدیل ہو رہے ہیں تو معزرت کے ساتھ کچھ خواتین کو بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔
یہ مسائل اور غلط فہمیاں شاہد دونوں طرف ہوں مگر برابری والی بات سمجھ سے باہر ہے ایک مہذب اسلامی معاشرے میں زندگیان اسلامی اصولوں اور خدائی حدود کے تحت ہیں

ادارہ کرن ۔ وہ teen age بچیاں جو کل عورت کے مختلف عہدوں پر فائز ہوں گیں ان کے لیے کیا کہنا چاہیں گے۔

میرا جواب

میرے خیال سے ٹین ایج ایک ایسی عمر ہے جس میں وقت بہت زیادہ ہوتی ہے آئیڈیز کی بھرمار ہوتی ہے اور انرجی لیول بہت ہائی ہوتا ہے ۔
میں یہ کہنا چاہوں گا کہ زیادہ لوگوں پہ یقین مت کیجیے گا خواہشات کو مقدس مت بنایے گا کہ کل کو وہ زندگی کی بھیانک مجبوریاں بن جائیں مان رکھنا سکھیے گا ۔
صبر درگزر رشتوں کا لحاظ اور زندگی میں ہر بات کا اعتدال رکھیں ایسا کرنے سے وہ ایک فرمانبردار بیٹی پیار کرنے والی بہن اور باوفا بیوی اور شفیق ماں بن سکتی ہے ۔

وقاص عمر

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں