
کبھی کبھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ
رات کیلئے ہم جاگ رہے ہیں یا یہ رات ہمیں جگا رہی ہے
رات !رات کیا ہے
رات سونے کا نام ہے!!
جی نہیں
رات رونے کا نام ہے!
رات تڑپنے کا نام ہے۔
تڑپنا ! تڑپنا سمجھتے ہو دیر تک جاگ کر
کسی کا انتظار کرنا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جا چکا ہے ا
انتظار ! انتظار بہت جان لیوا ہے
اس میں آدمی کو پل بھر بھی سکون نہیں ملتا؛
سکون! دیدارِ یار کا دوسرا نام ہے
دیدارِ یار میں خدا تعالیٰ نے ایسا سکوں رکھا ہے۔
دیدارِ یار ہے جیسے!! برسوں سے بھوکے کو دنیا کا سب سے لذیذ کھانا کھانے کو مِل جائے ۔۔۔
دیدارِ یار ہے جیسے!!کسی بھٹکے ہوئے راہگیر کو اس کی منزل مل جائے ۔۔
منزل! منزل قسمت والوں کو ملتی ہے۔
اور قسمت تقدیر کا فیصلہ ہے ۔
کسی کی قسمت میں یار کی باہوں میں سونا ہے
اور کسی کی قسمت میں رونا ہے !!!!
کبھی کبھی میں اپنی قسمت کو ایسے دیکھتا ہوں
جیسے کوئی شخص اپنے دشمن کو دیکھے !
پھر سوچتا ہوں !کہ اپنی قسمت کا
قصوروار تو میں خود ہوں !!
وہ نادانیوں میں کئے غلط فیصلوں
سے خود ہی خود کو خراب کیا !!
پھر سوچنے لگتا ہوں کیسے
خود کو پہلے جیسا سکون دوں!
کیسے خود کو تسلی دوں کہ
یار !بس وہ جا چکا ہے بھول جاؤ اسے
ابھی انہیں سوچوں میں ہوتا ہوں ،
کہ صبح ہو جاتی اور درست فیصلہ ہی نہیں کر پاتا !
خدا کرے کہ کوئی کسی شخص سے
محبت !میں اس مقام پر نا آئے کہ
اس کو بھول جانے کی دعا کرے
اور رات دیر تک جاگ کر اس کا انتظار کرے!!!
کہ انتظار بہت جان لیوا ہے
انتظار بہت جان لیوا ہے
ناصر زملؔ