
کالم نگار : خُرم شہزاد(لاہور پاکستان)
الکہف اور ہماری زندگی
سورہ الکہف جب میں نے اس سورت کی تفسیر پڑھنا شروع کی تو مجھے حیرت ہوئی کہ ہم تو اس سورۃ کو ہم صرف غار والوں کا ( اصحابِ کہف ) واقعہ سمجھتے ہیں۔ مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف اس پر ہم غور نہیں کرتے۔ تو اس سورۃ کا مقصود یا لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں وہ میں آج آپ کو بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔ کہ اللّٰہ پاک اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں،
عزت، ذلت،
صحت، بیماری،
نفح، نقصان،
خوشی، غمی۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہوں گے۔ لہٰذا یا تو اچھے حالات ہوں گے یا بُرے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہوگی یا بیماری۔ تو اللّٰہ پاک دو حالات میں آزماتا ہے یا تو اچھے یا بُرے۔ اللّٰہ پاک آزماتا ہے کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شُکر کرتا ہے یا نہیں اور بُرے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔ تو اس طرح دو پیپر بنے ایک شُکر کا پیپر اور دوسرا صبر کا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شُکر کیا تو اس نے پیپر کر پاس کیا اور اگر نا شکری کی تو پیپر کو فیل کیا۔اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور اگر بے صبری کی تو فیل ہو گیا۔ یہ زندگی کے امتحانی کمرہ کی طرح ہے۔ جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں۔
ایک صبر کا
دوسرا شُکر کا
اللّٰہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شُکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا۔ تو یہ صبر کا پیپر تھا۔ جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ۔ یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اسلیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
حضرت آدم علیہ السلام واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں۔ جن میں ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے۔ اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے۔ دوسرا واقعہ دو باغ والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی۔ اس کا پیپر شُکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے لیکن اس نے شکر نہ کیا اور فیل ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ ہے اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا۔ اور سکندر ذولقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللّٰہ پاک اولاد آدم سے بھی صبر شکر کے پیپر لیتے ہیں۔
کچھ نکات
اللّٰہ پاک نے اس سورۃ کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور اختتام اپنی ربوبیت کے تذکرے پر کیا۔
انسان کے لیے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔ اسی لیے انسان ذکر کرتا ہے۔ تا کہ اللّٰہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے، جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔
اور رضا کیا ہے؟
اللّٰہ پاک کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللّٰہ پاک اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا۔ اور اگر بُرے حالات بھیجے تو صبر کرنا۔ قرآن پاک ہمارے لیے ایک مکمل مشعل راہ ہے۔ بس ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔