0

ناول: طپش مصنفہ: ماہم حیا صفدر قسط نمبر: 07


ناول: طپش
مصنفہ: ماہم حیا صفدر
قسط نمبر: 07

وہ صبح کا منظر ہرگز نہیں تھا جو دھواں دھواں تھی۔ شاید وہ کسی شام کا منظر تھا جو راکھ راکھ تھی۔ ایک ایسی شام جو صبح کی مانند جوان، بھرپور اور اجلی سی تھی۔ وہ شام ہی تھی جو اس عمارت کے بام و در پہ حزن و ملال کے رنگ اچھال گٸی تھی۔ ہاں! شاید وہ شام ہی تھی کہ ایسی اداسی اور ویرانی صبح کا خاصہ تو نہیں ہوتی۔ وہ صبح تھی یا شام، منظر وہی تھا۔ نیند کے بوجھ تلے دبی آنکھیں درست وقت کا تعین کرنے سے قاصر تھیں۔ نفی میں ہلتے بوجھل سر پر خون سوار تھا۔
خون۔۔۔!
سرخ سیال۔۔۔!
نوخیز جسموں سے بہتا ہوا گاڑھا ماٸع۔۔۔!
سیاہ خون۔۔۔!
جلا ہوا خون۔۔۔!
بدبودار خون۔۔۔!
آگ میں جھلستے ہوٸے اجسام۔۔۔!
ان گنت چیخیں۔۔۔!
آہیں۔۔۔!
منظر بدل چکا تھا۔ جانے وہ کیسی آگ تھی جس نے اپنا کام نبٹانے میں زیادہ وقت نہیں لیا تھا۔ اب وہاں خاموشی تھی۔
خاموشی۔۔۔!
بے بسی۔۔۔!
دھونکنی کی طرح چلتی سانسوں میں خون کی بدبو گھُل رہی تھی۔ جلتے ہوٸے کچے گوشت کی بدبو نظامِ انہضام کی حرکات کا رخ موڑ رہی تھی۔
عالمِ خواب میں جکڑا جسم بے بسی سے تڑپ رہا تھا۔ بھنچتی مٹھیوں نے پلنگ کی چادر کو مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔
*****
وہ گہری نیند میں تھی جب تکیے تلے رکھا اس کا موباٸل فون کپکپایا۔ اس نے سستی سے ہاتھ بڑھا کے موباٸل اٹھایا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ سکرین پر جگمگاتے نام کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گٸیں۔
”ہیلو!“
”ہاٸے!“ دوسری جانب سے بے تابی سے کہا گیا۔
”تم نے اس وقت کال کی۔ سب ٹھیک تو ہے نا؟“ اس نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں! وہ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا تم سے بات کر لوں۔ کیا میں نے تمہیں ڈسٹرب کر دیا ہے؟“ احتیاطاً پوچھا گیا تھا۔
”نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ دراصل میں جلدی سو جاتی ہوں۔“ میلانا نے اٹھ کر پلنگ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
”اوہ! میں معذرت چاہتا ہوں، مجھے اندازہ نہیں تھا۔ تم آرام کرو!“ ٹیرس پر ٹہلتے ہوٸے رسلان کا لہجہ بجھا۔
”اب تو میں بیدار ہو چکی ہوں۔ تم بات کر سکتے ہو۔“ میلانا نے نرمی سے کہا۔
”شکریہ!“ فلک سے کتنے ہی تارے ٹوٹ کر اس کی نیلی آنکھوں میں بھر گٸے تھے۔
آج بہت کوشش کے باوجود بھی اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ ایک گھنٹہ تو اس نے اس شش و پنج میں گزار دیا تھا کہ اسے کال کرنی چاہیے یا نہیں۔ اس سے ملاقات کے بعد اس کی طپش میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ نہ جانے کیوں وہ اسے سب سے جدا لگتی تھی۔ اس کی شخصیت میں کوٸی ایسا طلسم تھا جس نے اسے سحر زدہ کر دیا تھا۔
دیوار پر لگے کلاک کی سوٸیاں ان کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہی تھیں۔ پر فسوں رات نے ان گنت لا یعنی جملے، مہمل کلمات، ڈھکے چھپے اعترافات، بے سر و پا باتیں، مدھر سرگوشیاں اور مدہم قہقہے اپنے دامن میں سمو لیے تھے۔ وقت دبے پاٶں گزر رہا تھا مگر وقت کے گزرنے کا احساس دونوں میں سے کسی کو نہیں تھا۔
ویرا کی اچانک آنکھ کھلی تھی۔ پیاس کے احساس نے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا تو وہ ساٸیڈ ٹیبل پر پڑی خالی بوتل اٹھا کر باہر نکلی۔ نیند کے زیرِ اثر وہ عجلت میں کچن سے پانی لے کر لوٹی ہی تھی جب میلانا کے کمرے سے آتی آوازوں نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا۔
”شاید یہ پھر نیند میں بولنے لگی ہے۔“ اس نے سوچ کے سر جھٹکا کہ وہ اکثر نیند میں خود کلامی کرنے لگتی تھی۔
اس سے قبل کہ وہ اسے نظر انداز کر کے اپنے کمرے میں داخل ہوتی، اس کے قہقہے نے اسے متجسس کیا۔ سو اس نے دروازے کو ہلکی سی دستک دے کر دھکیلا تو وہ وا ہو گیا۔ میلانا کو دروازہ مقفل کرنے کی عادت نہیں تھی۔
”تم ابھی تک جاگ۔۔۔“
”ٹھیک ہے رسلان! وقت کافی بیت گیا ہے۔ پھر بات ہو گی۔“ میلانا نے جلدی سے لبوں پر انگلی رکھ کے ویرا کو خاموش کروا کے کہا۔
”تمہارے ساتھ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔“ اس نے سچ کہا تھا۔
”باٸے!“ وہ مسکرا دی۔
رسلان نے مسکراتے ہوٸے کال کاٹ دی۔ ایک بھرپور گہری سانس اندر اتارتے ہوٸے وہ سرشار اور مطمٸن لگ رہا تھا۔ ایک نظر ستاروں بھرے آسمان پہ ڈال کر وہ اندر گم ہو گیا۔
لان کے نیم تاریک حصے میں کھڑے مسٹر ایڈورڈ نے غصے سے زمین پر تھوکا تھا۔ وہ جو کچھ دیر پہلے یہاں ٹہلتے ہوٸے سگریٹ پینے آٸے تھے اسے یوں کال پر مسکرا مسکرا کے باتیں کرتے دیکھ کر ٹھٹھک گٸے۔ انہیں بے ساختہ مسٹر رامن کی بات یاد آٸی تو حلق تک کڑواہٹ بھر گٸی۔
*****
”تم اس وقت بد روحوں کی طرح اِدھر اُدھر کیوں منڈلاتی پھر رہی ہو؟“ میلانا نے موباٸل فون تکیے تلے رکھتے ہوٸے ویرا کو مخاطب کیا جو تسلی سے اسے گھور رہی تھی۔
”مجھے اس کمرے سے کسی بدروح کے قہقہوں کی آواز آٸی تو میں دیکھنے چلی آٸی کہ سب ٹھیک تو ہے۔“ ویرا نے سینے پہ بازو لپیٹتے ہوٸے کہا۔
”پھر تم پر کیا انکشاف ہوا؟“ میلانا نے دلچسپی سے پوچھا۔
”یہی کہ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔“ وہ مشکوک تھی۔
”اور یہ تم کس بنیاد پر کہہ رہی ہو؟“ اس نے ابرو اچکاٸے۔
”کیا تم مجھے بتاٶ گی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے؟“ ویرا نے اس کا سوال نظر انداز کیا۔
”کیا چل رہا ہے؟“ وہ ہنوز یونہی بیٹھی تھی۔
”میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہاری اور باس کی قربت بڑھتی جا رہی ہے۔ کیا تم اسے پسند کرتی ہو؟“ ویرا مدعے کی بات پہ آٸی۔
”وہ مجھے پسند کرتا ہے۔“ میلانا نے اک ادا سے بال جھٹکے۔
”کیا؟ اس نے خود تم سے ایسا کہا؟“ ویرا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
اس عرصے میں وہ اپنے باس کے معیار، اس کے اطوار اور تعلقات کی نوعیت کو کافی حد تک جان چکی تھی۔ میلانا جس بیک گراٶنڈ سے تعلق رکھتی تھی، اس بیک گراٶنڈ کے لوگ تو اُن کے یہاں ملازم تھے۔
”ہر اظہار لفظوں سے کہاں ہوتا ہے میری جان!“ اس نے شرارت سے ایک آنکھ دباٸی۔
”یہ نا قابلِ یقین ہے۔“ ویرا اس کے سامنے پلنگ پر بیٹھ گٸی۔
”کیوں؟ کیا مجھ میں کوٸی کمی ہے؟“ وہ برا منا گٸی تھی۔
”نہیں! لیکن اس کا اسٹیٹس، اس کی فیملی۔۔۔“
”ارون بھی تو اسی فیملی سے ہے۔“ میلانا نے شرارت سے اس کی بات کاٹی تو کچھ رنگ ویرا کے چہرے پہ بکھر گٸے۔
”میلانا! ارون اور باس کے مزاج میں بہت فرق ہے۔ جتنا میں جان پاٸی ہوں وہ بہت کاملیت پسند انسان ہے۔“ وہ ابھی بھی الجھن کا شکار تھی۔
”اسی لیے میرا انتخاب کرنے میں اسے کوٸی دقت نہیں ہو گی۔“ وہاں وہی شانِ بے نیازی تھی۔
”اور تم؟ تم کس کا انتخاب کرو گی؟ اگر تمہارے سامنے دو آپشنز ہوں تو تم کسے منتخب کرو گی؟“ ویرا کو اچانک دو پر ملال گرے آنکھیں یاد آ گٸی تھیں۔
”جو ان میں سے زیادہ امیر ہو گا۔“ اس نے بے فکری سے کہا۔
”ہااا! کیا مطلب؟ کیا تم اپنے شریکِ حیات کا انتخاب دولت کے پیمانے پر کرو گی؟“ اسے یقین نہیں آیا تھا۔
”ظاہر ہے۔ میں تو کہتی ہوں غریب مرد اور کم صورت عورت کو جینے کا کوٸی حق نہیں ہے۔“ اس نے مزے سے کہا۔
”تو یوں کہو نا کہ تم ایک خود غرض اور دولت پرست لڑکی ہو۔ اس وقت تم مجھے کوٸی گولڈ ڈگر قسم کی عورت لگ رہی ہو۔“ ویرا کو اس کے خیالات جان کر افسوس ہی تو ہوا تھا۔
”میرا فلسفہ الگ ہے پیاری ویرا! ایک راز کی بتاٶں؟ میرا تو یہی ارادہ ہے کہ جلد کسی دولت مند شخص سے شادی کر لوں۔“ اس نے ویرا کی طرف جھکتے ہوٸے راز داری سے بتایا۔
”تم اپنے ارادوں سمیت جہنم میں جاٶ! میں تو سونے جا رہی ہوں۔ تمہارے یہ لولے لنگڑے فلسفے تمہیں ہی مبارک ہوں۔“ ویرا نے ہاتھ جوڑ کر معذرت چاہی۔
”تم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو اپنے دوستوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتے۔“ میلانا نے ہانک لگاٸی تو وہ دروازے کے پاس تھم کے پلٹی۔
”تم پہلے کامیابی کا مطلب سمجھ لو اور اس کو پانے کے جاٸز ذراٸع سے آگاہ ہو لو!“ ویرا سنجیدہ تھی۔
”میں مذاق کر رہی تھی۔“ اس نے نرمی سے کہا۔
”خدا کرے ایسا ہی ہو۔“ ویرا نے اس کے چہرے سے کچھ کھوجنے کی کوشش کی۔
”اوہ ویرا! تم کتنا بولتی ہو اور فضول بولتی ہو۔ جاٶ، سو جاٶ اور مجھے بھی آرام کرنے دو!“ اس نے مصنوعی بیزاری سے کہا۔
”میں جا رہی ہوں کیوں کہ مجھے تمہارے مزید فضول خیالات جاننے کا کوٸی شوق نہیں۔“ وہ سادگی سے کہہ کے پلٹ گٸی۔
”ہااا! میرے خیالات فضول ہیں؟ خدا کرے کہ کل تمہارا سارا کام غلط ہو جاٸے اور بھرے آفس میں تمہیں ڈانٹا جاٸے۔“ ویرا کو ڈانٹ پڑنے کے منظر کا تصور کرتے ہوٸے وہ مزے لیتی سو گٸی۔
*****
اپنے خالی لیکچر میں وہ اپنے مخصوص مقام پر آن بیٹھے تھے۔ آج اتفاقاً داٶد بھی ان کے ساتھ چلا آیا تھا۔ محمد داٶد کا اپنا ایک الگ ہی انداز تھا۔ اپنی موج میں بہنے والا، اپنی دھن میں رہنے والا داٶد کسی کا خاص دوست نہیں تھا مگر سب کا دوست تھا۔ اپنے ازلی انداز میں چست گارمنٹس پہنے، چاندی سونے سے لدا ہوا وہ ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ میلانا کی نظر بار بار اس کے درگاہ نما وجود پہ چڑھے ہوٸے طلاٸی چڑھاٶں پہ پھسل پھسل جا رہی تھی اور وہ دل ہی دل میں ان کی قیمت کا اندازہ لگا رہی تھی۔
”ویسے آدمی تم برے نہیں ہو داٶد! تمہارے جیسا ایک امیر کبیر دوست سب کے پاس ہونا چاہیے۔“ دل ہی دل میں وہ اس سے مخاطب تھی۔
”داٶد! کیا تمہیں کسی نے کبھی بتایا ہے کہ تم اس یونیورسٹی کے انتہاٸی جاذب، خوب صورت اور سٹاٸلش لڑکے ہو؟“ لگاوٹ بھرے انداز میں وہ براہِ راست اس سے مخاطب ہوٸی تو واسل اور ارون کو جو حیرت ہوٸی سو ہوٸی داٶد نے بھی اپنے گلاسز اتار لیے۔
”ہیں؟ کیا تم آج بھوکے پیٹ یونیورسٹی آٸی ہو جو کچھ بھی بول رہی ہو؟“ ارون کو شبہ ہوا۔
”کوٸی بات نہیں ارون! غلطی اور غلط بیانی انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔“ واسل نے اس کا صدمہ کم کرنے کی کوشش کی۔
”خوب صورتی ہمیشہ ظاہری نہیں ہوتی۔ کیا تم لوگوں نے کبھی داٶد کا دل دیکھا ہے؟ یہ کسی نیلے پانیوں والے سمندر سے نکلے سُچے موتی جیسا نایاب ہے۔ اور ظاہراً بھی داٶد کی ڈریسنگ، اسسیسریز، چال ڈھال اور انداز کا مقابلہ اس یونی میں کیا پورے منسک میں کوٸی نہیں کر سکتا۔“ میلانا نے اس کی کلاٸی پہ سجی ایک ڈاٸمنڈ بریسلیٹ کو جذب سے دیکھتے ہوٸے کہا۔ بھلا اس نے یہ بریسلیٹ کیوں پہنی ہے، وہ اسی سوچ میں ہلکان ہو رہی ہے۔
”اوہ میلانا! تم کتنی اچھی ہو! یقیناً یہ تمہاری اچھاٸی ہی ہے جو تمہیں کسی بھی خوب صورت شخص کی تعریف کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔“ داٶد نے سرخ ہوتے گالوں کو اپنے ہاتھوں سے تھپتھایا۔
”کیا کوٸی مجھے بتاٸے گا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟“ ارون نے ابرو سکیڑتے ہوٸے دہاٸی دی۔
”میرے خیال میں اب تمہیں سیدھے کام کی بات پر آ جانا چاہیے۔“ واسل نے میلانا کو مخاطب کیا۔
”آخر تم دونوں کو اتنی جلن کیوں ہو رہی ہے؟“ میلانا نے انہیں یکے بعد دیگرے گھورتے ہوٸے پوچھا۔
”پیاری میلانا! دنیا میں ایک جذبہ ”حسد“ کے نام سے کافی مشہور ہے۔“ داٶد نے اک ادا سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
”کیا؟ کیا کہا تم نے؟“ واسل اور ارون حیران ہی تو رہ گٸے تھے۔
”کچھ نہیں لڑکو! بجاٸے دکھی ہونے کے تم دونوں بھی میرے جیسی وضع قطع اپنا کر لڑکیوں کو امپریس کرنا سیکھو!“ میلانا نے اسے چنے کے جھاڑ پہ چڑھا دیا تھا اور وہ چڑھ بھی گیا تھا۔
”میرے بھاٸی! یہ سب ہم تو سات جنم میں بھی افورڈ نہیں کر سکتے۔“ واسل نے اس کی چینز وغیرہ کی طرف اشارہ کیا۔
”اوہو! تم لوگ کس بحث میں پڑ گٸے ہو؟ میری بات تو ادھوری رہ گٸی۔“ میلانا نے ماتھا پیٹ لیا۔
”ہاں میلانا! تم کہو، میں سن رہا ہوں۔“ داٶد نے شوق سے کہا تو واسل اور ارون نے مایوسی سے اک دوسرے کو دیکھا۔
”میں کیا کہہ رہی تھی کہ اگلے ہفتے میری سال گرہ ہے۔ تو کیوں نا ہم سب ایک زبردست سی پارٹی کریں۔“ میلانا نے چہک کر بتایا۔
”کیوں نہیں؟ تم اپنی برتھ ڈے پارٹی میں بلاٶ گی تو ہم ضرور آٸیں گی۔“ ارون نے رضا مندی ظاہر کی۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔میں تم لوگوں کو کیوں بلاٶں گی؟ پارٹی تو تم لوگ دو گے نا احمق! اور مجھے سب اچھے انداز میں سرپراٸز دو گے۔“ اس نے ارون کی عقل پہ ماتم کیا تو مارے حیرت کے وہ ہکا بکا رہ گیا۔
”یہ بھلا کیسا سراپراٸز ہو گا جس کے لیے تم خود کہہ رہی ہو؟“ بات تو واسل کو بھی ہضم نہیں ہوٸی تھی۔
”ابھی تو کافی وقت ہے۔ میں تب تک بھول جاٶں گی کہ میرا جنم دن کب ہے۔“ اس نے تو مسٸلہ ہی حل کر دیا تھا۔
”اور داٶد! تم بھی ضرور آٶ گے۔ آٶ گے نا؟“ اس کا لہجہ شیرے میں ڈوب ڈوب نکلا تھا۔
”ہاں ضرور! میں تو ضرور آٶں گا۔ آخر تم اتنی اچھی ہو میلانا! تمہارا جنم دن نہایت شان و شوکت سے منایا جانا چاہیے۔“ وہ تعریف کے معاملے میں بھی ”شاہ خرچ“ واقع ہوا تھا۔
”اور ہاں! براہِ مہربانی تم لوگ تحاٸف ذرا اچھے لانا! داٶد کو تو کوٸی مسٸلہ نہیں ہو گا۔“ اس نے ان دونوں کو نصیحت کی۔
واسل اور ارون نے یوں سکون سے سانس لی گویا بلی تھیلے سے باہر آ گٸی ہو۔
”ارے تم فکر مت کرو میلانا! سب سے شان دار تحفہ میری جانب سے ہی ہو گا۔“ داٶد نے اپنی شرٹ کے کالر سے نادیدہ مٹی جھاڑی۔
”تم نے یہ بریسلیٹ کہاں سے لی؟ کیا میں اسے ایک بار پہن کے دیکھ لوں؟“ میلانا نے جھٹ اس کی کلاٸی پکڑ کے پوچھا۔
”اوہ! صرف ایک بار کیوں؟ یہ تمہیں پسند ہے تو تم رکھ لو!“ داٶد نے سادگی سے بریسلیٹ اسے تھما دی۔
”او خدا! کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟ تم بہت اچھے ہو داٶد! خدا کرے کہ تم ہمیشہ ایسے ہی مہربان اور سخی رہو!“ اپنی کلاٸی کو سجاتے ہوٸے اس کی خوشی دیدنی تھی۔
یہ خالص ہیرے کی ہے۔ تمہیں پتا ہے کہ۔۔۔“ داٶد اسے مزید خواص بتا رہا تھا مگر اسے کوٸی غرض نہ تھی۔
حیرت زدہ ارون نے اک نظر واسل کو دیکھا جو خود بھی داٶد کی سخاوت پر حیران اور میلانا کی ترجیحات کو جان کر مایوس سا ہو گیا تھا۔ ہیرے، جواہرات وغیرہ تو وہ شاید مر کے بھی اسے نہ دے پاتا۔
*****
وہ اہتمام سے تیار ہو کے اپنے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ اولیانا سے مڈ بھیڑ ہو گٸی۔ اولیانا نے حیرت سے منہ کھولے اسے چوٹی سے جوتا بند ایڑی تک دیکھا۔ اتنا دل لگا کر تو وہ خاص مواقع پر ہی تیار ہوتا تھا۔ پستٸی رنگ کی شرٹ، سیاہ پینٹس، سیاہ جیکٹ اور Caprice کے سیاہ چمکتے جوتے پہنے، کلاٸی پر Vympel کی بیش قیمت گھڑی باندھے، جیل سے بال جماٸے، NOA کی خوشبو میں بسا، ہلکی ہلکی شیو میں وہ کافی نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ سیاہ گلاسز کو انگلیوں میں گھماتا وہ کافی عجلت میں تھا۔
”یا خدا! یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں؟ یہ اہتمام کس لیے ہے؟ کیا تم کہیں جا رہے ہو؟“ اولیانا نے کمر پر دونوں ہاتھ ٹکاتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔ہاں! وہ دراصل میں ویرا سے ملنے جا رہا ہوں۔“ کان کی لو کھجاتے ہوٸے اس نے سرسری لہجے میں بتایا۔
”ویرا؟ وہی لڑکی جو تمہاری دوست ہے؟“ اس نے ”دوست“ پر زور دیتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں نا!“ اسے جلدی تھی۔
”تو گویا تم اپنی ڈیٹ پہ جا رہے ہو۔“ اولیانا نے سمجھتے ہوٸے سر ہلایا۔
”نن۔۔۔نہیں! ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم تو بس یونہی۔۔۔فلم دیکھنے جا رہے ہیں۔“ اس نے جلدی سے وضاحت کی۔
”اچھی بات ہے فلمیں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ اس سے ہمارے جنرل نالج میں اضافہ ہوتا ہے۔“ اولیانا نے سنجیدگی سے کہا۔
”ہے نا! میرا بھی یہی ماننا ہے۔“ وہ چہکا۔
”زیادہ اوور سمارٹ مت بنو! اور تم تو مجھے اس سے ملوانے والے تھے۔ تمہارا وہ مطلوبہ ویک اینڈ کب آٸے گا؟“ وہ خفا ہوٸی۔
”اوہ اولیانا! تمہیں پتا ہے نا کہ میں دن رات پڑھاٸی میں مصروف رہتا ہوں۔ بس اسی لیے مجھے یاد نہیں رہتا۔ میرا وعدہ ہے کہ میں تمہیں جلد سب سے ملواٶں گا لیکن براہِ مہربانی مجھے ابھی تو جانے دو! ویرا میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ ابھی مجھے ٹرام بھی لینا ہو گی۔“ آخر میں وہ منت پر اتر آیا تھا۔
”ہیں؟ تم ٹرام سے جاٶ گے؟“ اولیانا کو حیرت ہوٸی۔
”ہاں نا! یہاں سے فاصلہ کم ہے۔“ ارون نے وضاحت دی۔
”لیکن تمہیں اپنی گاڑی پہ جانا چاہیے تاکہ تم اسے امپریس کر سکو۔“ اس نے مشورہ دیا۔
”نہیں اولیانا! میں ہمارے درمیان مادی چیزوں کو نہیں لانا چاہتا۔ تمہیں پتا ہے بعض اوقات ہم کسی کو امپریس کرنے کے چکر میں اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ وہ بابا کی کمپنی میں کام کرتی ہے اور میری حیثیت جانتی ہے۔ اس لیے میں اسے بار بار اپنی حیثیت جتانا ضروری نہیں سمجھتا۔“ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
”یقیناً تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔“ اولیانا نے تاٸید کی۔
”ویسے اس میں میرا بھی فاٸدہ ہے۔“ ارون نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے رازداری سے کہا۔
”کیسا فاٸدہ؟“ اولیانا نے ابرو اچکاٸے۔
”گاڑی پر سفر جلدی کٹ جاٸے گا۔ ٹرام اسٹیشن سے اس کے فلیٹ تک، اس کے فلیٹ سے ٹرام اسٹیشن تک، ٹرام اسٹیشن سے سینما تک، سینما سے ٹرام اسٹیشن تک اور ٹرام اسٹیشن سے اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑنے تک ساتھ چلنے کا وقت مل جاٸے گا۔“ داٸیں ہاتھ کی انگلیوں پر حساب کتاب کرتے ہوٸے اس نے جوش سے بتایا۔
”واہ، واہ! تم بالکل صحیح جا رہے ہو۔ اب جاٶ، کہیں دیر نہ ہو جاٸے۔“ اولیانا نے اس کی ذہانت کی داد تو دی ہی جانے کا راستہ بھی دے دیا۔
“ویسے میں کیسا لگ رہا ہوں؟“ ایک قدم آگے بڑھ کر وہ پلٹا۔
”تمہیں نہیں لگتا کہ یہ سوال تمہیں مجھ سے نہیں ویرا سے جا کر پوچھنا چاہیے؟“ اولیانا نے شرارت سے مسکراتے ہوٸے کہا۔
”ہو سکتا ہے مجھے اس سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔“ اک ادا سے آنکھوں پر گلاسز ٹکاتے ہوٸے اس نے کہا۔
”تم اور تمہاری خوش فہمیاں!“ اولیانا نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
”خوش فہمیاں ہی ہیں، غلط فہمیاں تو نہیں نا!“ فخریہ لہجے میں کہتا وہ سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اتر گیا تو اولیانا مسکرا کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸی۔
*****
کسی سو سالہ بڑھیا کے چہرے پر اتنی جھُریاں نہیں ہوتیں جتنی شکنیں اس وقت وہ ویرا کے پلنگ کی چادر میں ڈال چکی تھی۔ جب بھی اپنے کمرے میں گندگی پھیلا کے وہ بور ہو جاتی اور وہاں مزید بے ترتیبی پھیلانے کی گنجاٸش نہ رہتی تو وہ اس کے کمرے میں آ کر اس کا خون جلانے کا فریضہ سرانجام دیتی تھی۔
”او خدا! مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ میری کلاٸیاں اتنی خوب صورت ہیں کہ ہیروں کی قیمت میں اضافہ کر دیں۔“ داٶد کی بخشی گٸی بریسلیٹ کو باری باری اپنی کلاٸیوں پہ باندھتی کھولتی، اپنی تعریفیں کرتی وہ ویرا کا دماغ چاٹ رہی تھی۔
جب سے ویرا دفتر سے لوٹی تھی وہ اس کا یہی بچپنا دیکھ رہی تھی۔ اسے نظر انداز کرتی وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے میک اپ کو فنشنگ ٹچ دے کر خود کو تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ پیچ سکرٹ، بلاٶز پہنے ہم رنگ جوتوں اور سٹون کے نفیس سے ایٸر رنگز اور نیکلیس میں وہ کافی خوب صورت لگ رہی تھی۔ ہلکا ہلکا میک اپ اس کی قدرتی خوب صورتی کو دوآتشہ کر رہا تھا۔
”میں کیسی لگ رہی ہوں؟“ جب وہ خود سے کوٸی فیصلہ نہ کر پاٸی تو پلٹ کر میلانا سے پوچھا۔
”کیا مطلب کیسی لگ رہی ہو؟ جیسی پہلے لگتی ہو ویسی ہی لگ رہی ہو۔“ میلانا نے اک نظر دیکھ کر اپنی توجہ اپنی کلاٸی پر مرکوز کی۔
”کیا سچ میں میں ویسی ہی لگ رہی ہوں؟“ اسے مایوسی ہوٸی تھی۔
”تمہیں نہیں لگتا کہ تم نے لپ اسٹک بہت کم لگاٸی ہے۔“ میلانا نے اب کی بار غور سے اسے دیکھتے ہوٸے کہا۔
”کیا واقعی؟“ ویرا نے پلٹ کر شیشے میں اپنے ہونٹوں کو دیکھا۔
لپ اسٹک کیا تھی یوں لگ رہا تھا جیسے کسی کا تازہ اور گاڑھا خون اس کے ہونٹوں پر لگ گیا ہو۔ اس نے ضبط کرتے ہوٸے اک گہری سانس بھری اور ٹشو پیپر باکس سے ایک ٹشو پیپر نکالا۔ اب میلانا صاف لفظوں میں بھی تو اسے کہہ سکتی تھی کہ وہ بہت ڈارک لپ اسٹک لگا چکی ہے۔ مگر نہیں، اس سے سیدھی بات کی توقع ہی فضول تھی۔ اپنے ہونٹوں کو ٹشو پیپر سے تھپتھپاتے ہوٸے وہ دوبارہ پلٹی۔
”ہاں اب تم اتنی اچھی ضرور لگ رہی ہو کہ ارون تین چار گھٹنے تمہیں بنا گھبراٸے جھیل سکتا ہے۔“ میلانا نے اطمینان سے سر ہلاتے ہوٸے کہا۔
”میلانا کسی دن انسانوں کی زبان میں سیدھی بات کر کے دیکھو! با خدا تمہیں بہت اچھا لگے گا۔“ ویرا نے ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا پیچ رنگ کا کلچ اٹھاتے ہوٸے اسے مشورہ دیا۔
”وہ کیا ہے نا میری پیاری ویرا! میں تو ویسے بات کر لوں لیکن سامنے والے کو سمجھ نہ آٸے تو کیا فاٸدہ؟ ابھی دیکھو، تمہیں میری کس زبان میں کہی ہوٸی بات کی سمجھ آٸی۔“ میلانا نے بے چارگی سے کندھے اچکاتے ہوٸے کہا۔
”اے سنو! تم چاہو تو کچھ دیر کے لیے میری یہ بریسلیٹ پہن کر جا سکتی ہو۔“ کچھ سوچتے ہوٸے اس نے ویرا کو آفر کی جو پلنگ پر اس کے پاس آ بیٹھی تھی۔
”تمہاری بریسلیٹ؟ کتنی غلط بات ہے میلانا! پہلے تم اس کی انگوٹھیاں لے آٸی اور اب یہ بریسلیٹ مانگ لاٸی ہو۔“ ویرا نے افسوس سے کہا۔
”تم شاید بھول رہی ہو ویرا کہ وہ انگوٹھیاں میں نے لی نہیں تھیں، چراٸی تھیں اور اسے واپس کر دی تھیں۔ تمہیں پتا ہے داٶد میری سال گرہ پر بھی مجھے بہت اچھے تحاٸف دے گا۔“ اس نے چہکتے ہوٸے اسے اطلاع دی۔
”اک بات کہوں میلانا؟ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تم بہت زیادہ مٹیریالسٹک ہو جاتی ہو یا پھر تم ہو ہی ایسی۔ تم بہت جلد ایسے لوگوں سے متاثر ہو جاتی ہو جن کے پاس مادی وساٸل افراط میں ہوں۔“ ویرا سنجیدہ تھی۔
”ایک سیکنڈ! اس میں غلط کیا ہے؟ دولت پرست ہونے میں کیا براٸی ہے آخر؟ تم مانو یا نہ مانو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت دولت ہے۔“ اس کا لہجہ ٹھوس تھا۔
”دولت سے سکون یا خوشی تو نہیں خریدی جا سکتی۔“ ویرا نے دلیل پیش کی۔
”کیا تم نے کبھی خوشی کو دیکھا ہے؟ تم نے سکون کو کہیں دیکھا ہے؟ کیا تم نے کبھی کسی سے ملتے ہوٸے یہ دیکھا ہے کہ وہ خوش یا پرسکون ہے یا نہیں؟ نہیں ویرا! لوگ کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ آپ خوش ہیں یا غمگین، آپ پرسکون ہیں یا بے چین۔ لوگ دیکھتے ہیں تو بس یہ کہ آپ کہاں رہتے ہیں، کیسے رہتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کیا کھاتے ہیں اور کیا پیتے ہیں۔ یہ چیزیں ایگزسٹ کرتی ہیں۔ لوگ فزیکل چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ تصوراتی چیزوں یا محسوسات کو پرکھنے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ دولت ان فزیکل چیزوں کو خریدنے کے لیے ہمیشہ درکار رہتی ہے۔ اسی لیے تلخ سہی مگر دنیا کی سب سے بڑی حقیقت دولت ہی ہے۔“ وہ جو بولنا شروع ہوٸی تو بولتی ہی چلی گٸی۔
”شاید میں تمہیں میرا نکتہٕ نظر نہیں سمجھا سکتی۔“ ویرا نے گہری سانس بھر کے اپنی لاچاری کا اعتراف کیا۔
”لیکن میرا یقین کرو، میں تمہیں اپنا نکتہٕ نظر ابھی سمجھا سکتی ہوں۔“ میلانا نے مسکرا کے کہا۔
”بالکل نہیں! تم پہلے ہی میرے اچھے خاصے موڈ کا ستیاناس کر چکی ہو۔ میں اب مزید تمہارا فلسفہ برداشت کرنے سے قاصر ہوں۔“ ویرا نے جلدی سے ہاتھ جوڑتے ہوٸے رحم کی درخواست کی تو اس کا منہ بن گیا۔
”خدا کرے کہ تمہارے پاپ کارنز میں سے تلی ہوٸی نمکین چپھلی نکل آٸے اور تمہاری ڈیٹ اور پیٹ دونوں خراب ہو جاٸیں۔“ اپنی نا قدری اس سے کہاں برداشت ہوتی تھی سو اپنے ازلی رنگ میں بددعا داغ دی۔
”مجھے یقین ہے کہ وہ نمکین چھپکلی تمہاری زبان سے زیادہ زہریلی نہیں ہو گی۔“ ویرا اسے گھورتے ہوٸے ڈور بیل کی آواز سن کر اٹھ کھڑی ہوٸی۔
”میں تمہیں ناگن لگتی ہوں؟“ میلانا نے صدمے سے اپنا سینہ پیٹ لیا۔
”تمہارے مقابلے میں ناگن ایک معصوم جانور ہے میلانا!“ ویرا نے کچھ سوچتے ہوٸے کہا اور دوڑ کے باہر نکل گٸی۔
میلانا کا پھینکا ہوا کشن دروازے سے ٹکرا کے وہیں زمین بوس ہو گیا۔
”خدا کرے کہ واپسی پر تمہارے جوتے ٹوٹ جاٸیں اور تمہیں ننگے پاٶں منسک کی سڑکوں پر بھٹکنا پڑے۔“ وہ چلاٸی تھی۔
*****
رات کی کالی چادر کا رنگ ابھی قدرے پھیکا تھا۔ خلافِ معمول وہ اس وقت تہ خانے میں موجود تھے۔ دھیمی سرخ روشنی میں تر بتر دیواریں عجیب لگ رہی تھیں۔ کچھ دن سے وہ بہت بیزار، سست اور چڑچڑا ہو رہا تھا۔ اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا تھا مگر یہ کام اسے کسی بھی حال میں کرنا ہی تھا۔
منسک کے شراب خانوں اور جوا خانوں میں لوگ ایبن کے نام سے واقف تھے کہ وہ غیر قانونی منشیات اور دیگر سرگرمیوں کے خلاف تھا۔ انہیں یہ کام کرتے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اس دوران انہوں نے یہی کام کیا تھا کہ وہ زہریلی شراب اور دیگر منشیات کو منشیات فروشوں سے لوٹ کر یا چرا کر ضاٸع کر دیتے تھے۔ جہاں کتنے ہی لوگوں کی زندگیاں بچتیں وہیں اس کام سے کمانے والوں کو نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ وہ اکثر غیر قانونی جوے، بارز اور دیگر کاموں کا بھی پردہ فاش کرتے رہتے تھے۔ یہ تکنیکی امور زہوک ہی سنبھالتا تھا جو ایک آٸی ٹی کمپنی میں کام کرتا تھا اور ان معاملات میں ماہر تھا۔ اس کام سے سواٸے خوشی اور سکون کے انہیں کوٸی ذاتی فاٸدہ نہیں ملتا تھا۔ ان کا مقصد صرف اچھے لوگوں کی مدد کرنا اور برے لوگوں کے راز فاش کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا تھا۔
یہ نیا معاملہ جو ان تک پہنچا تھا اس میں بھی ان کی دلچسپی بس اسی وجہ سے تھی کہ وہ ان لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جنہیں نامعلوم مقصد کے لیے اغوا کیا جا رہا تھا۔ وہ ان لاوارث لڑکیوں کو انصاف دلانا چاہتے تھے جن کا کسی کو اتا پتا نہیں تھا۔
”کیا تمہیں مارک کے متعلق کوٸی غیر معمولی بات پتا چلی؟“ ایبن نے زہوک کو مخاطب کیا۔
”نہیں ایبن! مارک کے کال ریکارڈز اور بنک ریکارڈز وغیرہ میں مجھے ایسی کوٸی بے ترتیبی نہیں ملی جس سے گمان ہو کہ وہ جراٸم میں کسی با اثر شخص کے ساتھ ملوث ہے۔“ زہوک نے کندھے اچکاٸے۔
”کچھ تو۔۔۔کچھ تو ایسا فاٸدہ ہو گا جو پیسوں سے ہٹ کر اسے ملا ہو۔ یا پھر ہو سکتا ہے لین دین کیش میں ہوتا ہو۔“ ایبن نے ذہن پہ زور دیا۔
”اس بارے میں ہمیں مزید اسے چیک کرنا پڑے گا۔“ زہوک نے جواب دیا۔
”لیکن تم مارک کے ہی پیچھے کیوں پڑ گٸے ہو؟“ سیم واقعی سمجھنے سے قاصر تھا۔
”ہمیں کہیں سے تو شروع کرنا ہے نا! ان کیسز سے مارک کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے اسی لیے میں پہلے اسے چیک کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے سرکل میں کون سے بااثر افراد ہیں۔ کیا ان دنوں اس کی ملاقات کسی ایسے شخص سے نہیں ہوٸی جو ہمارے شک کے داٸرے میں آ سکے؟“ ایبن نے تفصیل سے کہا۔
”میں نے اس کے معمولات پہ کڑی نظر رکھی مگر ایسی کوٸی ملاقات میرے علم میں نہیں آٸی۔“ سیم نے نفی میں سر ہلایا۔
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟“ ایبن نے مایوسی سے سر جھٹکا۔
”ہاں، یاد آیا! پرسوں رات مارک کی ملاقات ایک بار میں ایک مشہور بزنس مین مسٹر رامن کے بیٹے سے ہوٸی تھی۔“ سیم نے کچھ سوچتے ہوٸے بتایا۔
”مسٹر رامن؟ کیا وہی مسٹر رامن جو مسٹر ایڈورڈ کے بزنس پارٹنر ہیں؟ ان کا فارما اور ٹیکسٹاٸل کا مشترکہ بزنس ہے۔“ ایبن بری طرح چونکا تھا۔
”کیا تم انہیں جانتے ہو؟“ سیم کو اس کا چونکنا غیر معمولی لگا۔
”نہیں! میرا براہِ راست تو ان سے کوٸی تعلق نہیں مگر ان کے بارے میں یہی جانتا ہوں۔ وہ دونوں کس سلسلے میں ملے تھے؟ کیا تم نے ان کی گفتگو سنی؟“ ایبن سب جان لینا چاہتا تھا۔
”نہیں میں ان کی گفتگو تو نہیں سن پایا، البتہ اتنا ضرور دیکھا کہ مارک وہاں پہلے سے موجود تھا جب مسٹر رامن کا بیٹا وہاں آیا اور ڈرنک آرڈر کرنے کے دوران ہی کچھ بات چیت کی۔“ سیم نے ذہن پہ زور دیتے ہوٸے بتایا۔
”کیا ان کے درمیان کسی چیز کا تبادلہ ہوا؟“ ایبن نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
”نہیں۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ کچھ پل میں ہی وہ مخالف اطراف میں چل دیے اور اپنے اپنے مشاغل میں لگ گٸے۔“ سیم نے کہا تو اس نے ایک گہری سانس اپنے اندر اتاری۔
”ہو سکتا ہے کہ وہ دونوں وہاں اتفاقاً ملے ہوں اور بس ایسے ہی بات کی ہو۔“ زہوک کے نزدیک یہ کوٸی بڑی بات نہیں تھی۔
”ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مارک اور رامن کے بیٹے پر مزید نظر رکھو! شاید اب ہم جلد ہی اس گتھی کو سلجھا لیں۔“ وہ سنجیدگی سے کچھ سوچ رہا تھا۔
*****
رات اپنے مخصوص فسوں کا لبادہ اوڑھے ہوٸے تھی جب وہ دونوں سینما سے باہر نکلے۔ خلافِ توقع خنک ہوا نے ان کا استقبال کیا۔ ٹرام اسٹیشن دس منٹ کی مسافت پہ تھا مگر وہ جان بوجھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا گویا وقت کے پیروں میں زنجیر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”سو تمہیں فلم کیسی لگی؟“ ارون نے بات کا آغاز کیا۔
”اچھا تجربہ تھا۔“ ویرا کے گال خنکی کے احساس سے سرخ ہو رہے تھے۔
”اچھا تجربہ کیا تھا؟ وہ تجربہ جو فلم کے نام پر کیا گیا یا پھر وہ جو ہم نے ایک ساتھ فلم دیکھنے کا کیا؟“ وہ بات سے بات نکالنے جا رہا تھا۔
”اوہ ارون، تم بالکل احمق ہو! ایک تو تم مجھے مار دھاڑ سے بھری ہوٸی فلم دکھانے لاٸے اس پر ہر تھپڑ، مکے اور گولی پر چیخ چیخ کر لپٹتے ہوٸے تم نے میرے کان لہولہان کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔“ ویرا نے برا سا منہ بناتے ہوٸے اپنا تجربہ بتایا۔
یہ سچ تھا کہ وہ اس کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے لیے اسے فلم دکھانے لایا تھا۔ مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا چند ایک رومانوی مناظر کو چھوڑ کر فلم ایکشن سے بھرپور ہے۔
”وہ کیا ہے نا کہ مجھے واٸلینس پسند نہیں ہے۔ بس اسی لیے میں وہ خونی مناظر برداشت نہیں کر سکا۔“ معصومیت سے بتاتا ہوا وہ کوٸی چھوٹا بچہ لگ رہا تھا۔
”تو تمہیں پہلے فلم کے بارے میں سب جان لینا چاہیے تھا۔“ ویرا کا دل چاہا سر پیٹ ڈالے (ارون کا)۔
”میں بھول گیا تھا۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں اگلی بار ایسا نہیں ہو گا۔“ اس کے لہجے میں سچاٸی تھی۔
“تم یہ بھی بھول جاٶ کہ میں دوبارہ تمہارے ساتھ فلم دیکھنے کی حماقت کروں گی۔“ جھوٹ تو اس کے لہجے میں بھی نہ تھا۔
”ویسے اس کہانی کا انجام کیسا مایوس کن اور افسوس ناک تھا۔ یہ کیسی کہانی تھی ویرا جس میں ہیرو اور ہیروٸن مل ہی نہیں پاٸے۔“ دو قدم خموشی سے چلنے کے بعد وہ پھر سے گویا ہوا۔
”ہر کہانی میں مرکزی کرداروں کا ملنا ضروری تو نہیں ہوتا۔“ ویرا نے سادگی سے کہا۔
”مگر ہیروٸن کا مر جانا مجھے بالکل پسند نہیں آیا۔ تم نے ہیرو کو دیکھا کہ اس کے لیے جینا محال ہو چلا تھا۔“ وہ واقعی کہانی کار سے خفا تھا۔
”موت تو حقیقت ہے۔ اور اکثر کہانیوں میں کسی سے وابستگی کا احساس ہی اس کے کھو جانے پر ہوتا ہے۔ تم نے ہیروٸن کی موت کو اور ہیرو کی حالت کو تو نوٹس کیا لیکن کیا تم نے دیکھا کہ ایک کردار نے دوسرے کی موت کے بعد بھی اسے فراموش نہیں کیا۔ یہی وہ بات ہے جو ایسی کہانیوں کو امر کر دیتی ہے۔“ اس نے تفصیلی جواب دیا تو وہ اداسی سے مسکرا دیا۔
”ہوا کی خنکی اور نمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ ویرا پر ہلکی سی کپکپی طاری ہوٸی۔
”ہاں بالکل!“ ارون نے اپنی جیکٹ کو ساٸیڈز سے تھاما۔
”او خدا! اب کیا یہ مجھے اپنی جیکٹ دینے والا ہے؟“ سوچ کر ویرا کے لب مسکرا اٹھے اور وہ وہیں ٹھہر گٸی۔
لیکن یہ کیا؟
اس نے جلدی سے اپنی جیکٹ کی زپ بند کی کہ واقعی ہوا میں خنکی بڑھ رہی تھی۔
”کیا ہوا؟ تم رک کیوں گٸی؟“ ارون نے اک قدم آگے چل کر جب اسے ہم قدم نہ پایا تو پلٹ کر پوچھا۔ وہ حیرت اور غصے سے اس کی پشت کو گھور رہی تھی۔
”کچھ نہیں!“ شعلے برساتی نظروں سے اسے دیکھتی وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ داٸیں ٹانگ پر زیادہ دباٶ ڈالنے کے باعث جوتا تڑخ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑاتی ہوٸی زمین بوس ہوتی ارون نے لپک کے اسے تھاما۔
میلانا کی دعا لگے نہ لگے بددعا گولی کی طرح لگتی تھی، یہ اس نے سوچا تھا۔
ٹرام اسٹیشن چند ہی قدم کے فاصلے پر عین سامنے تھا۔ ارون نے اسے شانے سے تھام کے کھڑا کیا تو اس نے اپنی سانسیں بحال کیں۔
”اوہ! تمہارا جوتا ٹوٹ گیا ہے۔ بس تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ اگر تم چاہو تو میں۔۔۔“ اس نے کچھ کہتے کہتے زبان دانتوں تلے دباٸی۔
”میں ایسے ہی اس کے بارے میں اتنا غلط سوچ رہی تھی۔ یہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔ یقیناً اب یہ مجھے اپنے جوتے دینا چاہتا ہے مگر اس بات سے ڈر رہا ہے کہ میں قبول کروں گی یا نہیں۔“ ویرا نے اسے دیکھتے ہوٸے محبت سے سوچا اور مسکرا دی۔
”تو تم کیا؟“ اس نے نرمی سے پوچھا۔
”وہ میں کہہ رہا تھا کہ۔۔۔میں تمہیں۔۔۔ایسا نہیں ہے کہ ضروری ہے، اگر تم چاہو تو۔۔۔مطلب میں تمہیں وہاں تک اٹھا کے۔۔۔“ اس کی شعلے برساتی آنکھوں کی تاب نہ لاتے ہوٸے ارون نے جلدی سے صفاٸی دینے کی کوشش کی اور بات ادھوری چھوڑ دی۔
”ارون! تم۔۔۔تم نا یہاں سے سیدھے جہنم میں جاٶ!“ میلانا کی صحبت کا اثر تھا یا کچھ اور کہ انتہاٸی ضبط کے باوجود بھی وہ غصے سے بولی۔
ویرا نے جلدی سے دونوں جوتے اتار کے اپنے ہاتھ میں لیے اور غصے سے آگے بڑھ گٸی۔
”ویرا! میں معذرت چاہتا ہوں کہ تمہیں میری اٹھا کر لے جانے والی بات بری لگی۔ قسم سے میں تو بس تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا۔“ معصومیت سے کہتا وہ اس کے پیچھے لپکا جب کہ ویرا گہری گہری سانسیس اندر اتارتی خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
*****
وہ ایک نفیس سا بلیک سٹون پینڈینٹ نیکلیس تھا جو چاندی کی چین میں جڑا ہوا تھا۔ اس نے اس سیاہ چمکتے ہوٸے حصے کو محبت سے چھو کے دیکھا۔ وہ زیادہ بیش قیمت نہیں مگر ایک خوب صورت، سادہ اور نفیس تحفہ ضرور تھا جو واسل نے خاص اس کے لیے پسند کیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے خیال کہ اسے تو ہیرے جواہرات پسند ہیں۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے دانستہ اس پہلو سے نظریں چرا لیں اور رقم ادا کر کے وہ تحفہ خرید لیا۔
پتا نہیں کیوں لیکن وہ یہ جنگ لڑنا چاہتا تھا۔ اس نے لڑے بنا ہی ہار مان لینے کا فیصلہ منسوخ کر دیا تھا۔ دکان سے باہر نکلتے ہوٸے اس نے نفیس سی ڈبیا کو کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا۔ دریاٸے نیامیہ کی ایک پرفسوں شام کا مخصوص طلسم اس کے چو گرد پھیل گیا تھا۔ وہ لڑکی اتنی خاص تھی نہیں جتنی اس کے لیے ہو گٸی تھی۔ وہ اپنے جذبوں کی سچاٸی پرکھنا چاہتا تھا۔
وہ اپنی قسمت آزمانا چاہتا تھا۔
وہ اسے پانا چاہتا تھا۔
اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ جیت ہو یا نہ ہو محبت کی لڑاٸی شاندار اور ہار باوقار ضرور ہو گی۔
*****
وہ سب اس وقت ویرا کے فلیٹ پر جمع تھے۔ یہ میلانا کے لیے سرپراٸز ہرگز نہیں تھا پھر بھی اس نے ان کی آمد پر بھرپور حیرت کا مظاہرہ کیا تھا۔ ارون، ویرا، واسل اور داٶد مختلف کاموں میں لگے ہوٸے تھے جب کہ میلانا نے خود کو ویرا کے کمرے میں یہ کہہ کر بند کر لیا تھا کہ اسے سب کچھ ”سرپراٸز“ چاہیے۔
”میں سونے جا رہی ہوں۔ یقین جانو میں تم سب کے ارادوں سے بے خبر ہوں۔ تم لوگ اچھا سا کیک سجاٶ اور میرے کمرے کی آراٸش کر کے مقررہ وقت پر مجھے جنم دن کا گیت گاتے ہوٸے جگا دینا!“ آخر تک وہ انہیں ہدایات دیتی گٸی تھی۔
یہ الگ بات ہے کہ سونے کا کہہ کر وہ خوب صورت لباس اور دیگر ساز و سامان ساتھ ہی لے گٸی تھی کہ اسے تیار بھی تو ہونا تھا۔
ویرا نے ایک خوب صورت چوکور کیک بیک کرنے کا سوچا تھا۔ داٶد غبارے پھلانے میں مصروف تھا جب کہ واسل اور ارون ویرا کے ساتھ مل کر میلانا کے ”اصطبل“ کی صفاٸی کرنے میں مصروف تھے۔
”مجھے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہے کہ میلانا پر تمہاری نفیس صحبت کا ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔“ واسل نے جھک کر پلنگ کے نیچے سے چپس کے خالی پیکٹس نکالتے ہوٸے ویرا کو مخاطب کیا۔
”میں تو بس یہ دعا کرتا ہوں کہ ویرا پر میلانا کی صحبت کا اثر نہ ہونے لگے۔“ ارون نے اپنی دکھتی ہوٸی کمر کو تھام کر کہا۔
وہ ایک سٹول پر چڑھا چھت سے جالے صاف کر رہا تھا۔
داٶد نے غبارے پھلا پھلا کے ڈھیر لگا لیا تھا۔ وہ آزاد منش اور صاف دل انسان تھا۔ یہ سب اس کے اچھے دوست نہ تھے مگر پھر بھی ان کے ساتھ اس کی دعا سلام ٹھیک ٹھاک تھی۔ وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے والا تھا۔ یہ اس کا خلوص ہی تھا جو وہ میلانا کے ایک بار کہنے پر اس کے لیے قیمتی تحفہ لے کر آ گیا تھا۔
ویرا نے ان کی مدد سے کمرے کو آٸینے کی طرف چمکا لیا تھا۔ ایک بار اس نے دل ہی دل میں اس دن پر ملامت کی جب وہ میلانا کو اپنے ساتھ اپنے جنت نظیر فلیٹ میں لے آٸی تھی۔ اب تو وہ ایسا کمبل بن چکی تھی جس سے وہ لاکھ جان چھڑانا چاہتی نتیجہ صفر نکلنا تھا۔
کمرے میں تازہ پھولوں کی مہک اور غباروں نے سال گرہ والا ماحول بنا دیا تھا۔ اب انہیں کیک کی سجاوٹ کرنا تھی سو ویرا اور واسل کچن میں آ گٸے جب کہ ارون اپنی دکھتی کمر کو آرام پہنچانے کے لیے پلنگ پر لیٹ گیا۔ یوں بھی وہ کہاں ایسے کام کرتا تھا سو جلد ہی تھک گیا تھا۔ داٶد نے غباروں میں ہوا بھر دی تھی یہ بہت زیادہ تھا۔
*****
”لڑکے کہاں ہیں؟“ مسٹر ایڈورڈ نے بیٹوں کی نشستوں کو خالی دیکھا تو استفسار کیا۔
”ارون کی کسی دوست کی سال گرہ ہے۔ وہ وہاں مصروف ہے۔“ مسز دامینیکا نے بیف کا ٹکڑا اپنی پلیٹ میں رکھتے ہوٸے جواب دیا۔
اس وقت کھانے کی میز پر ان کے ہمراہ اولیانا موجود تھی۔
”ایک تو اس لڑکے کو بھی گٸے گزرے لوگوں سے دوستیاں کرنے کا شوق ہو چلا ہے۔“ انہوں نے ناپسندیدگی سے کہتے ہوٸے کھانا شروع کیا۔
”اور رسلان کہاں ہے؟“ وہ پھر گویا ہوٸے۔
”رسلان کو بھی شاید اس پارٹی میں جانا تھا۔“ مسز دامینیکا نے لاپرواٸی سے بتایا تو ان کے جبڑے بھنچ گٸے۔
”دامینیکا! اپنے بیٹوں پر نظر رکھو! ان کے معمولات اور حرکات مجھے مشکوک کر رہی ہیں۔“ انہوں نے غصے سے کانٹا پلیٹ میں پھینکا۔
اولیانا کا دل خشک پتے کی طرح لرزا۔
”کیا ہو گیا ہے ایڈورڈ؟ تم یہ سب کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔“ وہ حیران تھیں۔
”ہنہہہ! تم تو ہمیشہ دیر سے ہی سمجھتی ہو۔“ اولیانا کو کٹیلی نظروں سے دیکھتے ہوٸے انہوں نے طنز کیا۔
”بہرحال جو میں نے کہا ہے وہ کرو! نہ جانے یہ لڑکے کیسے کیسے غریب مسکین لوگوں سے دوستیاں کرتے پھرتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس گھر میں وہ تاریخ دہراٸی جاٸے جو مجھے پھر سے ظالم بننے پر مجبور کر دے۔“ ان کا لہجہ بہت کچھ جتاتا ہوا تھا۔
اولیانا نے بے دلی سے کھانے کی پلیٹ اپنے قریب کھسکا لی۔
مسز دامینیکا نے لاپرواٸی سے کندھے اچکاٸے اور رغبت سے کھانا کھانے لگیں کہ انہیں اس سب کی عادت ہو چکی تھی۔
*****
وہ سب تیاریاں مکمل کر چکے تھے۔ ویرا نے ابھی میز پر کیک سجایا ہی تھا کہ کسی خوشبو کے جھونکے کی مانند اس کی آمد ہوٸی۔ وہ ہمیشہ کی طرح اہتمام سے تیار ہوا، نکھرا نکھرا اور چھا جانے والا لگ رہا تھا۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی کسی منظر کے بقیہ اجزا و کردار پسِ منظر میں چلے جاتے تھے۔ اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
اس نے اپنا لایا ہوا کیک میز پر رکھا ہی تھا کہ میلانا خود ہی آ گٸی۔ وہ کافی وقت لگا کے بہت اہتمام سے تیار ہوٸی تھی۔ چار آنکھیں بیک وقت اس پر اٹھی تھیں اور پلٹنا بھول گٸی تھیں۔
واسل موروز کی گرے آنکھیں۔۔۔!
رسلان بونڈر کی نیلی آنکھیں۔۔۔!
نیلا چست پارٹی گاٶن، ہم رنگ جوتے اور سٹون جیولری پہنے، بالوں کو ایک سٹاٸلش جوڑے میں قید کیے، اس کی شخصیت کافی پرکشش لگ رہی تھی۔ ہلکے ہلکے میک اپ نے اس کی قدرتی خوب صورتی میں اضافہ کر دیا تھا۔
اسے یوں اچانک وہاں دیکھ کر اس کی سبز آنکھوں میں کتنے ہی جگنو اتر آٸے تھے۔ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ بھی آٸے گا۔ یا پھر اسے مکمل یقین تھا کہ وہ آٸے گا جو اسے دیکھ کر اردگرد سے مکمل بے نیاز وہیں ”فریز“ ہو گیا تھا۔
ان چار پُرشوق آنکھوں میں سے دو کے ساتھ اس کی سبز آنکھوں نے دانستہ ملاپ کیا۔
نیلا کانچ سبز کانچ سے ٹکرایا تھا۔
میلانا یگور کی آنکھیں رسلان بونڈر کی آنکھوں سے ٹکراٸی تھیں۔
خوش گواریت اور حیرت کے رنگ رسلان کے گالوں پر بکھرے ہوٸے تھے۔ اسے دنیا میں سب سے پیارا رنگ اپنی آنکھوں کا لگتا تھا۔ یہی اس کا پسندیدہ رنگ تھا اور وہ اس کے پسندیدہ رنگ میں رنگی اس کے لیے ”پسند“ سے بڑھ کر ہونے لگی تھی۔
”اوہ! یہ کیسا خوب صورت سرپراٸز ہے۔“ میلانا آگے بڑھ کے پرتکلف انداز میں اس سے ملی۔
”یہ پھول تمہارے لیے!“ اس نے ایک خوب صورت گلدستہ اسے تھمایا۔
”او خدا! تمہیں کس نے بتایا کہ یہ مکسڈ ٹیولپ میرے پسندیدہ پھول ہیں؟“ میلانا نے پھولوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارتے ہوٸے پوچھا۔
ویرا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ جھوٹ بول رہی تھی۔ اسے وہ پنک گلاب پسند تھے جو واسل لایا تھا۔ ویرا نے افسوس سے واسل کی بجھتی آنکھوں کو دیکھا۔
”کیا واقعی؟ مجھے تمہاری پسند کا علم تو نہیں تھا اس لیے میں اپنی پسند کے پھول لے آیا۔“ رسلان نے وضاحت پیش کی۔
”اوہو! آپ دونوں کی پسند کتنی ملتی ہے بھاٸی!“ ارون نے شرارت سے کہا۔
اس نے پہلی بار اپنے بھاٸی کو کسی لڑکی کے لیے اس قدر دلچسپی دکھاتے دیکھا تھا۔ وہ اپنے بھاٸی کے لیے دل سے خوش تھا۔ میلانا لاپروا اور تھوڑی سی گندگی پسند ضرور تھی مگر اچھی لڑکی تھی۔
”ہٸے میلانا! کیا تم اب یونہی کھڑی باتیں کرتی رہو گی یا کیک بھی کاٹو گی؟“ داٶد بیزار ہو رہا تھا۔
اس کے لیے یہ پارٹی بہت بورنگ ہو رہی تھی۔
”یہ؟“ رسلان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ اسے اس وقت اس کا بولنا قطعاً اچھا نہیں لگا تھا۔
”اوہ! یہ ہمارا کلاس فیلو داٶد ہے۔ اور باقی سب کو تو تم جانتے ہی ہو۔“ میلانا نے اسے متعارف کرایا۔
”یہ کیک میں تمہارے لیے لایا ہوں۔“ رسلان نے نہایت خوب صورت کیک میز پر پہلے سے پڑے کیک کے ساتھ سجا دیا۔
”واااہ! یہ بہت خوب صورت ہے۔“ میلانا نے کیک کی سجاوٹ دیکھتے ہوٸے تعریف کی۔
”اب میں کیک کاٹنے لگی ہوں۔ تم سب مل کر اچھا سا گیت گانا!“ جوش اور خوشی سے انہیں حکم دیتے وہ چھری تھام کر کھڑی ہو گٸی۔
اس نے رسلان کے لاٸے گٸے کیک پر چھری رکھی تو ویرا اور واسل کی مسکراہٹ پھیکی پڑی۔
ہنستے مسکراتے ماحول میں کیک کاٹا گیا اور اس نے رسلان کے بعد سب کو باری باری کیک کھلایا۔ ویرا کا بنایا گیا کیک ان چھوا پڑا تھا۔
”میں یہ فریج میں رکھ کے آتی ہوں۔“ ویرا نے بمشکل اپنے لہجے پہ قابو پاتے ہوٸے کہا۔ سواٸے واسل اور ویرا کے سب کیک کھاتے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
”ہٸے ویرا! رکو نا! مجھے یہ کاٹنے تو دو!“ میلانا نے جلدی سے چھری اٹھاٸی۔
”کوٸی بات نہیں میلانا! یہ ویسے بھی زیادہ اچھا نہیں بنا۔“ ویرا نے نرمی سے اسے منع کیا۔
”اگر ایسا ہے تو پھر یہ کیک اس موٹے کو دے دو! مجھے نہیں لگتا کہ اس کا ٹیسٹ اتنا اچھا ہے کہ یہ اچھے اور برے کیک میں تمیز کر سکے۔“ رسلان نے طنزاً داٶد کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے کہا تو سب دھک سے رہ گٸے۔
داٶد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا واسل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
”اوہ کیا ہوا؟ تم سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں تو بس مذاق کر رہا تھا۔“ رسلان کو اپنی بات کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو فوراً سرنڈر کرنے والے انداز میں ہاتھ اٹھا کر اپنی صفاٸی پیش کی۔
”یہ تمہارے لیے ہے میلانا!“ داٶد نے بے دلی سے گفٹ بیگ اسے تھمایا۔
”شکریہ داٶد!“ اس نے سر خم کر کے شکریہ ادا کیا۔
”کھول کر دیکھو تو سہی آخر یہ ریسلر کیا لایا ہے۔“ رسلان کو بلاوجہ اس سے الجھن ہو رہی تھی۔
”ہاں، ہاں میلانا! تم ابھی سب کے تحاٸف دیکھو! دیکھتے ہیں کہ سب سے اچھا تحفہ کون لایا ہے۔“ ارون کو اپنے بھاٸی کا لہجہ واقعتاً مذاق والا ہی لگ رہا تھا۔
واسل اور ویرا نے ایک دوسرے کو افسوس سے دیکھا۔
”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے! پہلے سب اپنا اپنا تحفہ یہاں لاٸیں!“ میلانا نے ہاتھ اٹھا کر فیصلہ کن انداز میں کہا۔
واسل نے ایک گلدستہ اسے تھمایا تو میلانا نے ایک خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے پسندیدہ پھول تھے۔
ارون، ویرا اور رسلان نے گفٹ بیگز اس کے سامنے میز پر رکھ دیے۔
”کیا تم میرے لیے کوٸی تحفہ نہیں لاٸے؟“ میلانا نے براہِ راست اسے مخاطب کیا تو واسل نے بے ساختہ کوٹ میں پڑی ڈبیا کو تھپتھپایا۔ اس وقت وہ اسے بہت کم قیمت لگی تھی۔
”نہیں۔۔۔دراصل مجھے تمہاری پسند کا علم نہیں تھا تو کچھ خاص نہیں لا سکا۔“ اس نے جبراً مسکراتے ہوٸے جواب دیا۔
”یوں کہو نا کہ تمہیں میرے لیے، یعنی اپنی دوست کے لیے تحفہ خریدنے کا وقت ہی نہیں ملا۔“ میلانا نے منہ پھلایا۔
”نہیں ایسی بات نہیں ہے وہ۔۔۔“
”اوہ میلانا! چھوڑو نا! ہو سکتا ہے کہ کوٸی اور مسٸلہ ہو۔ تمہارے شایانِ شان گفٹ افورڈ کرنا آسان تھوڑی ہے۔“ رسلان نے جلدی سے کہا تو وہ مسکرا دی۔
واسل نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں جب کہ ویرا نے افسوس سے میلانا کو دیکھا جس نے واسل کے لیے ایسی بات کو مسکراتے ہوٸے سن لیا تھا۔
اب کی بار ارون کو بھی اپنے بھاٸی کا لہجہ کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔ یہ اس کا بھاٸی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس نے تو کبھی ایسی چھوٹی بات نہیں کی تھی۔
”ہو سکتا ہے وہ میلانا کو لے کر زیادہ کانشیس ہو رہا ہو اسی لیے اس سے جڑے دیگر لوگوں کو ابھی برداشت نہیں کر پا رہا۔“ ارون نے دل ہی دل میں سوچ کر خود کو تسلی دی۔
میلانا نے جلدی جلدی گفٹس کھولنا شروع کیے۔ ویرا نے اسے ایک خوب صورت کلچ گفٹ کیا تھا۔
ارون نے اسے اس نوٹ کے ساتھ ایک قیمتی گھڑی گفٹ کی تھی;
”خدا کے لیے اب دوسروں کی گھڑیاں چرانا اور توڑنا چھوڑ دینا!“
اس کے نوٹ پر سب ہنس دیے۔
رسلان نے اسے Zorka برینڈ کے خوب صورت گولڈ ایٸر رنگز اور ایک نیکلیس گفٹ کیا تھا۔
داٶد نے اسے بہت قیمتی اور اچھے برینڈز کی چار مختلف پرفیومز گفٹ کی تھیں۔
”واٶ! داٶد یہ بہت خوب صورت ہیں۔“ ایک شیشی کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے خوشی کا اظہار کیا تو وہ مسکرا دیا۔
”ہٸےے میلانا! تم لوکل پرفیومز پر اس قدر خوش ہو رہی ہو؟ او خدا اس پرفیوم کی خوشبو تو کسی پرانے سیوریج سسٹم سے اٹھنے والی مہک جیسی ہے۔“ رسلان نے شیشی اس کے ہاتھ سے لے کر کھولتے ہوٸے ناک کے قریب کی۔
رسلان نے اکتا کر متلی کے سے انداز میں شیشی پیچھے ہٹاٸی۔ اس سے قبل کہ کوٸی کچھ سمجھتا شیشی زمین پر گر کے ٹکڑوں میں بٹ گٸی۔
”بھاٸی!“ ارون صدمے سے بولا۔
سرخی داٶد کے کانوں تک پھیل گٸی تھی۔ اس نے شکایتی نظروں سے میلانا کو دیکھا جو زمین کے اس حصے کو دیکھ رہی تھی جو مشکبار ہو گیا تھا۔
”میں معذرت چاہتا ہوں۔ یہ سب غلطی سے ہوا ہے۔“ رسلان نے جلدی سے کہا۔
”اے مسٹر! تم جو کوٸی بھی ہو، تمہیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ تم دوسروں کے دیے ہوٸے تحاٸف پر اپنی راٸے دو؟“ واسل پھٹ ہی تو پڑا تھا۔
”میں نے کہا نا کہ یہ غلطی سے ہوا ہے۔“ رسلان نے گہری سانس بھرتے ہوٸے کہا۔
”جان بوجھ کر کسی کی بار بار تذلیل کرنا تمہارے نزدیک غلطی ہو گی، میرے نزدیک نہیں۔“ گرے آنکھیں شعلوں کی زد میں تھیں۔
“واسل پر سکون ہو جاٶ! اس نے کہا نا یہ غلطی سے ہوا ہے۔ داٶد کا تحفہ بہت اچھا ہے۔ ایک شیشی ٹوٹ گٸی تو کیا ہوا؟ ابھی تین باقی ہیں نا!“ میلانا نے نرمی سے صلح کن انداز میں کہا۔
واسل بنا جواب دیے کچھ پل اسے دیکھتا رہا۔ کڑی نظروں سے اسے دیکھتے ہوٸے وہ آگے بڑھا اور میز کی مخالف سمت عین اس کے سامنے، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہو گیا۔
اس سے پہلے کہ کوٸی اس کا ارادہ سمجھتا اس نے یکے بعد دیگرے باقی تینوں بوتلیں اٹھا کر فرش پر زور سے پٹخیں۔ کمرے میں خوشبوٶں کا طوفان امڈ آیا تھا۔ میلانا نے حیرت سے کھلے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔ ارون اور ویرا کا بھی یہی حال تھا۔ داٶد کی آنکھوں میں نمی اتر آٸی تھی۔ واسل کا جنون دیکھ کر تو رسلان بھی شاکڈ رہ گیا تھا۔
”تم نے۔۔۔واسل! یہ تم نے کیا ہے؟ یہ تم نے کیا کیا ہے؟“ میلانا نے صدمے سے اپنے سر کو تھاما۔
”غلطی! میں نے بھی غلطی کی ہے۔“ وہ سلگتے ہوٸے لہجے میں بولا۔
جانے وہ کس بات پر اس قدر برہم ہو رہا تھا۔ جانے وہ داٶد کے تحفے کی ناقدری پر بلبلا رہا تھا یا اپنےاس تحفے کے لیے جو اس نے دیا ہی نہیں تھا۔
”تم پاگل ہو گٸے ہو کیا؟“ ارون نے اسے ہوش میں لانا چاہا۔
”نہیں! میں اسے صرف یہ باور کروانا چاہتا ہوں کہ جب کسی کو مہمان بناٶ تو اس کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھنا سیکھو! کوٸی تمہاری موجودگی میں تمہارے مہمان کی تذلیل کرے گا اور تم دیکھتی رہو گی؟ یو نو واٹ میلانا! یہ تحفے واقعی تمہارے شایانِ شان نہیں ہیں۔ ہم واقعی تمہارے معیار کے تحفے افورڈ نہیں کر سکتے۔ تمہیں ہیرے جواہرات مبارک ہوں!“ کانچ کے ٹکڑوں کو اپنے بھاری بوٹ سے روندتے ہوٸے اس کا لہجہ زخمی ہو گیا تھا۔
”میرا خیال ہے مجھے چلنا چاہیے۔“ داٶد نے منظر سے ہٹ جانا بہتر سمجھا تھا۔
وہ ان کا اتنا اچھا دوست نہیں تھا کہ ان سے الگ ہو جاتا تو اسے اتنا صدمہ پہنچتا۔ لیکن وہ سب بہت اچھے دوست تھے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے وہ یوں ایک دوسرے سے خفا ہوں۔
”مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔“ میلانا نے دونوں ہاتھوں میں سر تھامتے ہوٸے خود کو صوفے پر گرا لیا۔
داٶد بنا کچھ کہے باہر نکل گیا تو ارون کو ہوش آیا۔
”داٶد! رکو، میں تمہیں ہاسٹل تک چھوڑ دیتا ہوں۔“ ارون تیزی سے اس کے پیچھے لپکا۔
رسلان نے خود کو ڈھیلے ڈھالے انداز میں میلانا کے برابر صوفے پر گرا لیا۔
”میں معافی چاہتا ہوں۔ میرا ایسا کوٸی ارادہ نہیں تھا۔ نہ جانے یہ سب مجھ سے کیسے اور کیوں ہو گیا۔“ نفی میں سر ہلاتے ہوٸے اس نے آہستگی سے کہا۔ اس کے لہجے میں سچاٸی تھی۔
میلانا نے اک نظر افسوس سے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ندامت واضح تھی۔
میلانا نے اک نظر دکھ سے واسل کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر دکھ، ملال، شکوہ، افسوس، کیا نہیں تھا۔
”میں یہ فریج میں رکھتی ہوں۔“ ویرا کیک اٹھا کر باہر نکل گٸی۔
واسل نے ایک شکایتی و ملامتی نظر میلانا پہ ڈالی اور باہر نکل گیا۔
”واسل!“ اس سے قبل کہ وہ فلیٹ سے باہر نکل جاتا ویرا نے اسے آواز دی تو رک گیا۔
ویرا کیک فریج میں رکھ کر اس کی طرف بڑھی۔
”تم نے میلانا سے جھوٹ کیوں بولا؟“ وہ اس کے سامنے آ رکی۔
”کیسا جھوٹ؟“ واسل کو اچھنبا ہوا۔
”یہی کہ تم اس کے لیے کوٸی تحفہ نہیں لاٸے۔“ ویرا نے اس کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا۔
”میں واقعی نہیں لا سکا۔“ اس نے ایک گہری سانس اپنے اندر اتاری۔
”اب تم مجھ سے بھی جھوٹ بولو گے؟ کمرے کی صفاٸی کرنے کے لیے جب تم نے کوٹ اتار کر مجھے رکھنے کے لیے دیا تھا تب میں نے دیکھا تھا۔“ ویرا نے نرمی سے بتایا۔
”اس بات کو چھوڑ دو ویرا! میں اپنے تحفے کی قیمت جانتا تھا اسی لیے وہاں پیش نہیں کیا۔ تم سوچو کہ میں داٶد کے تحفے کی تذلیل برداشت نہیں کر سکا، اگر میرے ساتھ ایسے ہوتا تو۔۔۔“ اس نے لب بھینچ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”تم دل برا مت کرو!“ ویرا نے افسوس سے کہا۔
”تم بھی! میں چلتا ہوں۔“ واسل جبراً مسکرایا تو اک آنسو اس کی داٸیں آنکھ سے ٹوٹ گرا کہ میلانا نے ایک شخص کی خاطر ان سب کو نظر انداز کیا تھا۔ وہ جو اس کی بچگانہ خوشی میں شریک ہوٸے تھے اس نے ان سب کو دکھی کر دیا تھا۔
منسک کی وہ سیاہ رات گواہ ہو گٸی تھی کہ میلانا کے ہاتھوں ان سب کے دکھی ہونے کی وجہ ایک ہی شخص بنا تھا۔
اور وہ تھا رسلان بونڈر۔۔۔!
*****
وہ شرمندہ شرمندہ سی یونیورسٹی گٸی تھی۔ ویرا کو اس نے رات گٸے منا لیا تھا جب وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی۔ میلانا اس کا بیک کیا ہوا کیک اٹھا لاٸی اور نہایت معصومیت سے اس سے گیت گانے کا تقاضا کیا۔ ویرا بھی اس سے زیادہ دیر کہاں خفا رہ سکتی تھی۔ سو کچھ دیر خفگی دکھانے کے بعد اس نے اسے معاف کر دیا۔ اس کے نزدیک غلطی کا اعتراف کر لینا اور معافی مانگ کر دوبارہ وہی غلطی نہ کرنے کا ارادہ کر لینا کافی تھا۔ اس نے میلانا کو اس شرط پر معاف کیا تھا کہ وہ اپنے سب دوستوں اور خصوصاً داٶد سے معافی مانگے گی۔
اب وہ باری باری ان سے معافی مانگنے کی مہم پر لگی ہوٸی تھی۔ داٶد نے بنا کچھ جتاٸے اسے پرسکون کر دیا تھا۔ ہاں مگر وہ پہلے کی طرح زیادہ دیر بات کرنے یا ان کے ساتھ بیٹھنے سے کترا رہا تھا۔
ارون نے گزشتہ شب ہی اس سے اپنے بھاٸی کے رویے کی معافی مانگی تھی۔ اسے واقعی رسلان سے ایسی امید نہیں تھی۔ داٶد کو ڈراپ کر کے وہ گھر چلا گیا تھا۔ رسلان کب آیا، اسے علم نہیں تھا۔ صبح ناشتے کی میز پر ان کی سرسری سی ملاقات ہوٸی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے سے کچھ نہیں کہا تھا۔
اس نے واسل کو ڈھونڈا تھا مگر وہ غیر حاضر تھا۔
”واسل کہاں ہے؟ وہ آج یونی کیوں نہیں آیا؟“ اس نے ارون سے پوچھا۔
وہ دونوں شرمندہ شرمندہ سے اپنی مخصوص جگہ پہ آٸے تھے۔
”میں نے اس سے کال کر کے پوچھا تھا۔ وہ اپنے فلیٹ پر کچھ مصروف ہے۔ شاید اسے پلمبرنگ کا کچھ کام کروانا ہے۔“ ارون نے آہستگی سے اسے وہ بتایا جو واسل نے اسے بتایا تھا۔
میلانا نے اثبات میں سر ہلایا۔ درحقیقت وہ دونوں جانتے تھے کہ یہ اس کی غیر حاضری کی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔
”کل رات جو ہوا میں اس کے لیے تم سے معافی چاہتا ہوں۔ میں ابھی تک شاک میں ہوں کہ بھاٸی کو کیا ہوا تھا۔ وہ بالکل بھی ایسے انسان نہیں ہیں۔“ ارون نے کچھ پل توقف کے بعد کہا۔
وہ معافی بھی مانگ رہا تھا اور اپنے بھاٸی کی صفاٸی بھی دے رہا تھا۔
”کوٸی بات نہیں ارون! میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ کیسا انسان ہے۔ جو بھی ہوا اس میں اس کی کوٸی غلطی نہیں تھی۔ تمہیں معافی مانگنے کی کوٸی ضرورت نہیں۔“ میلانا نے خلا میں کسی غیر مرٸی نکتے کو گھورتے ہوٸے کہا۔
”شکریہ!“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ایک بات کہوں؟“ انہیں وقفے وقفے سے سوچ سوچ کر بولنا پڑ رہا تھا۔
دوستی میں وہ مقام سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جہاں سوچ سوچ کر بولنا پڑے۔ اگر فطری بے تکلفی عنقا ہو جاٸے تو دوستی میں وہ لطف کہاں رہتا ہے۔
”ہاں کہو!“ میلانا متوجہ ہوٸی۔
”واسل۔۔۔واسل کا ردِ عمل بہت شدید تھا۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ اس نے اس طرح ری ایکٹ کیوں کیا؟“ وہ واقعی الجھا ہوا تھا۔
”کیا تم دونوں ایک دوسرے کو۔۔۔میرا مطلب ہے کہ کوٸی ایک بھی۔۔۔میں شاید کہہ نہیں پا رہا۔ یعنی کوٸی پسندیدگی یا محبت کا معاملہ۔۔۔“ اس نے اضافہ کیا۔
”تم کوٸی سستا نشہ تو نہیں کرنے لگے؟ یہ کیا اوٹ پٹانگ بولے جا رہے ہو؟ ہمارے درمیان ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم اچھے دوست ہیں اور ایک دوست دوسرے دوست کے کسی بھی غلط رویے سے ہمیشہ دکھی ہو جاتا ہے۔ وہ داٶد کے لیے زیادہ ٹچی ہو رہا تھا کیوں کہ وہ ہمارا مہمان تھا اور میں نے اسے خود بلایا تھا۔“ میلانا سنجیدہ تھی۔
ارون نے ایک گہری سانس خارج کی۔ میلانا کے جواب نے اسے مطمٸن کر دیا تھا۔ کل شب سے اسے بار بار یہ خیال آیا تھا اور اس نے سوچا تھا کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو وہ اپنے بھاٸی کو اسی مقام پر روک کر سب کو اذیت سے بچا لے گا۔ لیکن میلانا کی وضاحت نے اسے پُرسکون کر دیا تھا۔
****
ہارن بیم کا بوڑھا درخت اپنی تھکی تھکی سانسیں اس چھوٹے سے پژمردہ آنگن میں خارج کر رہا تھا۔ شام کی مخصوص اداسی دھیرے دھیرے فضا میں گھُلتی جا رہی تھی۔ بوڑھا ابھی کھیت سے واپس آیا تھا۔ نتالیہ کچن میں رات کے کھانے کا اہتمام کر رہی تھی مگر اس کی نظریں مختصر سے راہداری نما لاٶنج میں ٹھہرے اس منظر پہ بھٹک بھٹک جا رہی تھیں۔ کچھ بھی اٹھانے اور رکھنے کے بہانے وہ پلٹ پلٹ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ آج صبح آیا تھا اور نتالیہ کو اسے دیکھنے سے فرصت نہیں مل رہی تھی۔
اس بار اسے وہ خلافِ معمول پژمردہ اور چپ چپ لگا تھا۔ نتالیہ نے مریضہ کو گھنٹہ بھر قبل اس بوسیدہ صوفے پر بٹھایا تھا۔ وہ تب سے اس کے قدموں میں بیٹھا، دونوں ہاتھ اس کی گود میں رکھ کر ان پر اپنا چہرہ ٹکاٸے، آنکھیں موندے جانے کس سفر کی تھکان اتار رہا تھا۔
عورت کی آنکھیں خلا میں اور داٸیں ہاتھ کی انگلیاں اس کے خوب صورت بالوں میں تھیں۔
”تم کچھ دن یہاں رک کیوں نہیں جاتے؟“ بوڑھا لاٹھی ٹیکتا وہاں آیا تو اس نے آنکھیں کھولیں۔
”آپ جانتے ہیں کہ میرے لیے ابھی یہ ممکن نہیں ہے۔“ وہ یونہی ماں کے قدموں میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
”تمہاری ماں تمہارے آنے سے بہل جاتی ہے۔“ بوڑھے نے کرسی سنبھالی۔
”اسے جانے دیں!“ خلافِ توقع وہ خلا میں گھورتی ہوٸی بولی تو نتالیہ بھی چونک گٸی۔
”تم جاٶ! تمہیں وہاں جانا چاہیے۔ تم اگر یہاں رہو گے تو اس سے بدلہ کون لے گا؟ جاٶ اور اس درندے کو ختم کر دو!“ وہ ہذیانیٰ انداز میں چلانے لگی تو اس نے جلدی سے اٹھ کر اسے شانوں سے تھاما اور اس کے برابر صوفے پر بیٹھ گیا۔
نتالیہ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھ کر کندھے اچکاٸے اور کھانے کی طرف متوجہ ہوٸی۔ اس کے نزدیک مریضہ کو اکثر دورے پڑتے تھے اور وہ یونہی لا یعنی باتیں کرنے لگتی تھی۔
”وعدہ کرو کہ تم اسے برباد کر دو گے! وعدہ کرو!“ اس نے اسے گریبان سے پکڑ کے جھنجھوڑا۔
”میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس شخص کو کہیں کا نہیں چھوڑوں گا۔“ ٹھوس لہجے میں کہتے ہوٸے اس نے نرمی سے اپنا گریبان چھڑوایا۔
بوڑھے نے تاسف سے سر جھٹکا۔
نتالیہ کے کان کھڑے ہوٸے۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس کے سامنے اس نے کوٸی ایسی بات کی تھی۔
”مجھے ابھی واپس جانا ہے۔ میں تیار ہو لوں۔“ اس نے ایک گہری سانس اپنے اندر اتاری۔
مریضہ پر سکون ہو کر پھر سے خلا میں گھورنے لگی تھی۔ اس کے چہرے پر ایسے پتھریلے تاثرات تھے جو ناقابلِ فہم تھے۔
”اے لڑکی سنو! مجھے ایک کپ کافی بنا کے دو!“ نتالیہ کو حکم دے کر وہ کمرے میں گم ہو گیا۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ کافی بنا کر کمرے میں داخل ہوٸی مگر وہ وہاں نہیں تھا۔ اس کی نظر باتھ روم کے بند دروازے پر پڑی تو مگ پلنگ کے ساتھ پڑے سٹول پر رکھ دیا۔
وہ پلٹی ہی تھی کہ پلنگ پر بکھرے اس کے کپڑوں کے درمیان اسے وہ چیز نظر آٸی۔ حیرت سے وہ آگے بڑھی اور غور سے دیکھنے لگی۔ بھلا وہ ایسی چیز کیوں رکھنے لگا؟
”کیا وہ واقعی کسی کو۔۔۔“ اس سے آگے سوچنا بہت خطرناک تھا۔
کسی خیال کے تحت اس نے ہاتھ بڑھایا۔
اس سے قبل کے وہ اسے اٹھاتی ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کے وہ اس کی جانب لپکا۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ تم میری چیزیں چرانا چاہتی ہو؟“ اس نے سختی سے اس کی کلاٸی جکڑی۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔میں تو کافی دینے آٸی تھی۔“ اس کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔
وہ شاور لے کے نکلا ہی تھا کہ اسے یہاں دیکھ کر لپکا۔
مارے گھبراہٹ کے نتالیہ کا دل ڈوب رہا تھا۔ اس کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ کلاٸی کے اس حصے میں خون کی ترسیل تقریباً منقطع ہو گٸی تھی۔ شدتِ درد کے سبب اس کی آنکھوں میں آنسو آ گٸے۔
اس نے ایک نظر سٹول پر پڑے کافی کے مگ کو دیکھا اور ایک نظر اس کی پر نم آنکھوں کو۔
”میں نے تمہیں ہزار مرتبہ کہا کہ مجھ سے اور میری چیزوں سے دور رہا کرو!“ انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوٸے اس نے اگلے ہی پل نتالیہ کو اپنی گرفت سے آزاد کیا۔
نتالیہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا اور اپنی سرخ کلاٸی کو دوسرے ہاتھ میں لے کر سر کو داٸیں باٸیں نفی میں ہلایا۔ دو موتی ٹوٹ کر اس کے رخساروں پر پھسل گٸے۔
”میں معذرت چاہتا ہوں! میرا تمہیں تکلیف پہنچانے کا کوٸی ارادہ نہیں تھا۔“ اسے افسوس ہوا۔
نتالیہ نے ایک سلگتی ہوٸی نظر اس پہ ڈالی جسے اس کی جسمانی تکلیف تو نظر آ گٸی تھی مگر وہ تکلیف نظر نہیں آتی تھی جو اس کے لہجے سے اسے پہنچتی تھی۔
”میں سچ میں معافی چاہتا ہوں۔ تم۔۔۔خدا کے لیے تم مجھ سے اور میری چیزوں سے دور رہا کرو!“ اس کے لہجے میں عجیب سی بیزاری تھی جس نے نتالیہ کو لب کچلنے پر مجبور کر دیا تھا۔
وہ اس سے اس قدر بیزار نظر آ رہا تھا کہ خود سے دور بھگانے کے لیے خدا کو درمیان میں لے آیا تھا۔ آنکھوں کو اپنے داٸیں ہاتھ کی پشت سے رگڑتی وہ جلدی سے باہر نکل گٸی۔
اس نے ایک گہری سانس اپنے اندر اتاری۔ کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس نے کچھ سوچتے ہوٸے اُس چمکتی سیاہ چیز کو اٹھا لیا۔
*****
(جاری ہے)

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں