0

ناول: طَپِش قسط نمبر: 01 تحریر: ماہم حیا صفدر


ناول: طَپِش
قسط نمبر: 01
تحریر: ماہم حیا صفدر

بیلاروس کے اس چھوٹے سے گاٶں میں اماوس کی رات چھاٸی ہوٸی تھی۔ اس نوجوان نے داٸیں ہاتھ میں ایک ٹارچ پکڑ رکھی تھی جس سے نکلتی ایک سفید دھندلی لکیر اس کا راستہ واضح کر رہی تھی۔ لکڑی کے بنے چھوٹے چھوٹے گھروں پہ ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ اس کے لیے شاید یہ نٸی بات نہیں تھی۔
چلتے چلتے وہ داٸیں قطار میں بنے ایک خستہ حال چھوٹے سے گھر کے سامنے رکا اور احتیاط سے لکڑی کے پھاٹک کو دھکیلا۔ دیمک زدہ پھاٹک ایک مریل سی ہچکی بھر کے اس کے سامنے سے ہٹ گیا۔ داخلی راستے کے ساتھ اُگے سال خوردہ ہارن بیم کے درخت نے اس کے استقبال کے لیے اپنے بوڑھے بدن سے دو چار پتے جھاڑ دیے۔ ان پتوں کو اپنے بھاری بوٹوں تلے روندتا وہ اندر بڑھا۔
لکڑی سے بنے اس چھوٹے سے گھر کے دو ہی کمرے تھے۔ ایک کمرے کا دروازہ ابھی تک کھُلا تھا جہاں زرد روشنی نے پُراسرار سا فسوں بکھیر رکھا تھا۔ وہ جانتا یہ اہتمام اس کے انتظار میں کیا گیا ہے۔ اُس نے ٹارچ بند کر دی تھی۔
لبوں پہ پھیلتی ایک اُداس مسکراہٹ کو اپنے دانتوں سے کُچلتا وہ لکڑی کے فرش پہ سُر بکھیرتا اندر بڑھا تھا۔ بستر پر لیٹے شکستہ وجود میں ارتعاش ہوا۔ اُن دو تھکی ہوٸی زخمی آنکھوں میں اُس کے لیے شناساٸی کی رمق تک نہ تھی۔
اُس نے آگے بڑھ کے بستر سے نیچے لٹکتا نچڑا ہوا ہاتھ تھاما اور دو زانو ہو کے لبوں سے لگا لیا۔ اس عمل پر ان زخمی آنکھوں میں اتنی ہی حیرت امڈ آٸی جتنی ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔
”آ گٸے تم؟ اس بار تم نے آنے میں زیادہ دیر نہیں کر دی؟“ لاٹھی کے سہارے اپنے شکستہ وجود کو گھسیٹتا وہ بوڑھا اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا تو نوجوان نے ایک گہری سانس بھر کے اپنے ہاتھوں میں دبا وہ ہاتھ چھوڑ دیا۔
”ہاں بس کچھ اہم کام تھے جنہیں نبٹانے میں وقت لگا۔“ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
”ماں کیسی ہے؟“ جواب جاننے کے باوجود وہ یہ سوال ہمیشہ پوچھتا تھا۔
”ویسی ہی ہے۔“ بوڑھے نے تاسف سے کہا۔
”اگر تم تھک نہیں گٸے تو آٶ! مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے۔“ بوڑھا بیمار لگ رہا تھا۔
”کیا؟“ نوجوان کو اچھنبا ہوا۔
”وہی جو تم ہمیشہ سے جاننا چاہتے ہو مگر میں تمہیں ٹال دیتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں جلد مر جاٶں گا۔ میں یہ بوجھ اپنے ساتھ لے کر نہیں جانا چاہتا۔ آٶ کہ میں اسے تمہارے ساتھ بانٹ لوں! یہی ٹھیک وقت ہے۔ ہاں بالکل! یہی ٹھیک وقت ہے۔“ بوڑھے نے ہانپتے ہوٸے اپنی بات مکمل کی۔
اس نے اپنی لاٹھی لکڑی کے فرش پر پٹخ کے باہر کی جانب قدم بڑھایا تو نوجوان چونک کے اُس کے پیچھے ہو لیا۔
*****
سورج نے اپنا پہلا بوسہ ہلکے نیلے رنگ میں ڈوبے ”بونڈرز پیلس“ کی اُٹھی ہوٸی مغرور پیشانی پر ثبت کر دیا تھا۔ باوردی ملازمین بھاگتے دوڑتے اپنے معمول کے کام نبٹا رہے تھے۔ ڈاٸیننگ ہال میں سجی بیش قیمت کرسیاں اپنے وارثین کی منتظر تھیں۔
کچن میں مسز دامینیکا ملازماٶں کو ناشتے سے متعلق ہدایات دے رہی تھیں۔ کُک اس عالیشان قصر کے مکینوں کی پسند کے مطابق جلدی جلدی لوازمات تیار کر رہا تھا جس کی مدد کے لیے دو ملازماٸیں موجود تھیں۔
کچھ ہی دیر میں مسٹر ایڈورڈ بونڈر نے ڈاٸیننگ ہال میں آ کے سربراہی کرسی سنبھال لی۔
اس قصر میں صبح طلوعِ آفتاب کے ساتھ فوراً ہو جاتی تھی۔ قصر میں ناشتے سے لے کر ڈنر تک اور سونے سے لے کر جاگنے تک باقاعدہ اصول تھے جن کی خلاف ورزی ناممکن تھی۔
ملازماٶں نے برق رفتاری سے ناشتے کی میز سجا دی۔ مسٹر ایڈورڈ کے چھوٹے بیٹے نے آداب کر کے کرسی سنبھالی ہی تھی کہ وہ آ گیا۔
وہ جو کسی بھی منظر میں ہوتا تھا تو باقی سب نظر انداز ہو جاتے تھے۔
وہ آتا تھا تو بڑے بڑے ایک پل میں پسِ منظر میں چلے جاتے تھے۔
وہ خاموش نگاہوں سے دیکھتا تھا تو بولتی زبانیں اپنی اہمیت کھو دیتی تھیں۔
وہ ہنستا تھا تو دل فریب سازوں کو اپنی کم ماٸیگی اور بے وقعتی کا احساس شدت سے ہوتا تھا۔
وہ چلتا تھا تو طاٸرانہ انداز میں گھومتی نظریں تب تک اس پہ ٹھہری رہتیں جب تک وہ اوجھل نہ ہو جاتا۔
مسٹر ایڈورڈ کی آنکھیں اسے دیکھ کر محبت سے چمکی تھیں۔ مسز دامینیکا نے دل ہی دل میں اس کی بلاٸیں لیں۔
گرے رنگ کا Canali Botique سے بنا خوب صورت تھری پیس پہنے، کلاٸی پہ Luch کی گھڑی باندھے، Hogal کے چمکتے ہوٸے گرے جوتے پہنے، Dior Addict کی خوشبو میں بسا وہ اس قصر کا ہی نہیں منسک کا شہزادہ تھا۔
وہ رُسلان بونڈر تھا!
وہ رُسلان بونڈر جس کی نیلی آنکھوں میں ذہانت کا ایک جہاں آباد تھا۔
وہ رُسلان بونڈر جِسے سب کو تسخیر کرنا آتا تھا۔ وہ رُسلان بونڈر جو بولے بنا، لڑے بنا سب کو ہرانے کی طاقت رکھتا تھا۔
سلیقے سے بنے براٶن بالوں کو ایک ادا سے چھوتے ہوٸے اس نے باپ کے داٸیں جانب کرسی سنبھالی تھی کہ وہ ان کا دستِ راست ہی تو تھا۔
مسز دامینیکا نے شوہر کو ٹوسٹس سرو کیے اور انہوں نے ناشتے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ سب رغبت سے ناشتہ کرنے لگے۔
مسٹر ایڈورڈ کی باٸیں جانب بیٹھے ان کے چھوٹے بیٹے کی آنکھیں بار بار اپنی پشت پر موجود داخلی دروازے کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ گویا وہ کسی کی آمد کا منتظر تھا۔
“صبح بخیر!“ حزن و ملال میں ڈوبی اس نسوانی آواز کو سن کے مسٹر ایڈروڈ کا حلق کڑوا ہو گیا تھا۔
نہایت نخوت سے کانٹا پلیٹ میں پھینک کے انہوں نے نپکین سے لبوں کو صاف کیا۔
”بابا! ناشتہ مکمل کریں نا!“ رسلان نے فکرمندی سے انہیں دیکھا تھا۔
اُن دونوں کے درمیان چار سال قبل در آنے والی رنجش کی یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
”میرا ہو گیا۔ تم جلدی آفس آٶ! آج بہت اہم میٹنگ ہے۔“ انہوں نے رُسلان کا کندھا تھپکا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے باہر نکل گٸے۔
مسز دامینیکا اور رُسلان نے بیک وقت افسوس سے کرسی کھینچ کے ارون کے برابر بیٹھتی لڑکی کو دیکھا جو نظریں چرا گٸی۔
”تم یہ انڈہ کھاٶ! یہ بہت مزیدار ہے۔“ ارون نے نرمی سے پلیٹ اس کی جانب بڑھاٸی جسے اس نے مسکرا کے تھام لیا۔
”مام! میں چلتا ہوں۔ بابا میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔“ رُسلان کے پاس بھی رکنے کا کوٸی جواز نہیں بچا تھا سو ناشتے سے ہاتھ کھینچتا اٹھ کھڑا ہوا۔
”رُسلان! میری بات سنو!“ مسز دامینیکا کو اس سے کوٸی اہم کام تھا جو جلدی سے اس کے پیچھے ہو لی تھیں۔
سرخ بالوں اور بھوری آنکھوں والی لڑکی تلخی سے مسکراٸی تھی۔
”کیا میری غلطی اتنی بڑی تھی ارون؟ کیا میری خطا کی کوٸی معافی نہیں؟“ اس کی آواز رِندھی ہوٸی تھی۔ ارون نے اُسے دُکھ سے دیکھا۔
”ایسا نہیں ہے۔ یہ سب تمہارے اپنے ہیں۔ جلد وہ تمہیں معاف کر دیں گے۔“ اُس نے اسے ہمیشہ کی طرح تسلی دی تھی۔
”جانے دو ارون! کب تک تم یہی تسلیاں دے کر مجھے بہلاتے رہو گے؟“ اُس نے سر جھٹک کے ٹوسٹ کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھا۔
ارون نے تاسف سے کھانے کی میز کو دیکھا جو کتنے ہی ادھورے ناشتوں اور کھانوں کی گواہ تھی۔
*****
دھوپ منسک شہر کی آٸینہ نما شفاف سڑکوں پر پھسل پھسل جا رہی تھی۔ تا حدِ نگاہ رنگ برنگی گاڑیاں بھاگ دوڑ رہی تھیں۔ وہ صبح سے مختلف ہاسٹلز میں جا چکی تھی مگر اسے رہنے کے لیے جگہ نہیں ملی تھی۔ اپنے بھاری سرخ سوٹ کیس کو گھسیٹتے ہوٸے اس نے ہوسٹل 182 کی دو منزلہ نفیس عمارت کو تنقیدی نگاہ سے دیکھا۔ وہ پچھلے تین گھنٹوں میں پانچ ہاسٹلز دیکھ چکی تھی مگر اس کی جیب نے اسے وہاں سکونت کی اجازت نہیں دی تھی۔
جو بھی تھا اسے دو سال اس شہر میں قیام کرنا تھا جو اس کے نزدیک بہت ظالم تھا۔ منسک کی معطر فضاٶں میں اس کی سانسیں تعفن کا شکار ہو رہی تھیں۔
”آپ مجھے کسی بھی کمرے میں تھوڑی سی جگہ دے دیں۔ اگر کوٸی بیڈ فارغ نہیں ہے تو میں زمین پہ بستر لگا لوں گی۔“ وہ وارڈن کی منت کر رہی تھی جو اسے پچھلے بیس منٹ سے مختلف طریقوں سے بتا چکی تھی کہ جگہ خالی نہیں ہے۔ یونیورسٹیز میں نٸے داخلوں کے ساتھ ہی ہاسٹلز میں بھی بھیڑ بڑھ گٸی تھی۔
”دیکھیں محترمہ! میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ ہم مزید کسی سٹوڈنٹ کو جگہ نہیں دے سکتے۔“ وارڈن اب بیزار ہو رہی تھی۔
”آپ کچھ کریے نا! آپ تو وارڈن ہیں، آپ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ یہ دیکھیں! میں یہ بھاری بھرکم سوٹ کیس اور یہ بیگ لے کے کہاں کہاں گھومتی پھروں؟“ اس نے بیچارگی سے اپنا سوٹ کیس اور بیگ سامنے کیا جیسے یہ اس کا ذاتی نہیں بلکہ کاٸناتی مسٸلہ تھا۔
وہ جو اپنی ایک دوست سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے آٸی تھی، واپس جاتے ہوٸے اینٹرنس پہ کھڑی اس سبز آنکھوں والی لڑکی کی بحث پر دلچسپی سے پلٹی۔ وہ مسلسل منت سماجت کرتے ہوٸے عجیب و غریب دلیلیں پیش کر رہی تھی جنہیں خاطر میں نہ لاتے ہوٸے وارڈن نے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔
”خدا کرے تمہاری عمارت پہ کاکروچوں کی ایک بڑی فوج حملہ کر دے اور یہاں کی ساری لڑکیاں منسک کی گلیوں میں بدروحوں کی طرح بھٹکیں۔“ اپنا سوٹ کیس گھسیٹ کے باہر آتے ہوٸے اب وہ روسی زبان میں بددعاٶں پہ اتر آٸی تھی۔
وہ جو اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اس کے اس بدلتے ہوٸے روپ پر اس کا منہ حیرت سے کھلا۔
”یا خدا اس بوڑھی چُڑیل وارڈن کے رنگے ہوٸے گلابی بال کسی بیماری کا شکار ہو کے جھڑ جاٸیں۔۔۔“ اس سے پہلے کہ وہ مزید بددعاٸیں داغتی اس نے اسے آواز دی۔
”اے سنو!“ وہ رکی اور پلٹ کر اپنی طرف تیزی سی آتی اس دراز قامت لڑکی کو دیکھا۔
سیاہ جینز اور سرخ ہاٸی نیک پہنے، اپنے براٶن بالوں کو ٹیل پونی میں قید کیے، سیاہ جوگرز سے سڑک کو روندتی اس کی نسبت وہ خاصی معقول لگ رہی تھی۔
”کیا تمہیں رہنے کے لیے جگہ چاہیے؟“ اس نے نرمی سے پوچھا
”ہاں! میرا نام میلانا یگور ہے۔ میں ماسکو سے آٸی ہوں۔ لیکن میرا جنم منسک میں ہوا تھا۔ دراصل یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ میں نے حال ہی میں Minsk Innovation University میں داخلہ لیا ہے۔ کلاسز شروع ہوٸے ایک ہفتہ ہو گیا ہے مگر میں کچھ بیمار تھی اس لیے مجھے آنے میں تاخیر ہو گٸی۔ اور ہاں، بالکل اب مجھے رہنے کے لیے جگہ چاہیے۔“ اس نے ایک ہی سانس میں اپنے تٸیں سب کچھ بتا دیا تھا۔
سامنے والی کو اس کے تفصیلی بیان پہ حیرت نہیں ہوٸی تھی کہ اسے اندازہ ہو گیا تھا اسے بولنے یا دوسرے لفظوں میں فضول بولنے کی عادت تھی۔
”میرا نام ویرا ہے۔ تم اگر چاہو تو میرے ساتھ رہ سکتی ہو۔ یہاں سے دس منٹ کے فاصلے پر A7 عمارت میں میرا ذاتی فلیٹ ہے اور میں وہاں اکیلی رہتی ہوں۔“ اس نے دوستانہ انداز میں کہا تو وہ فرطِ جذبات سے اچھل کے اس کے گلے لگ گٸی۔
”او خدا! کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟“
”ہاں، ہاں!“ ویرا نے جلدی سے اسے خود سے الگ کیا جو محبت کے اس اظہار میں اس کے جوتے گندے کر چکی تھی۔
”اووو، میں معافی چاہتی ہوں مجھے پتا نہیں چلا!“ وہ جلدی سے پیچھے ہٹی تو ویرا نے ”کوٸی بات نہیں“ کہہ کے ایک ٹشو سے اپنے جوتے صاف کیے۔
”ہمیں کس طرف جانا ہے؟“ وہ شاید زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔
”اِس طرف!“ ویرا نے ایک ہاتھ سے داٸیں جانب ایک کشادہ گلی کی طرف اشارہ کیا تو وہ جلدی سے سوٹ کیس گھسیٹ کے تیار ہو گٸی۔
”سنو براٸے مہربانی میرا یہ بیگ تم اٹھا لاٶ! یہ بہت وزنی ہے اور میں اسے اٹھا اٹھا کے تھک چکی ہوں۔“ اس کی فرماٸش پہ ویرا کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔ ناچار بیگ اٹھاتے اس نے اس لڑکی کی پشت کو گھورا تھا جو گھِسی ہوٸی براٶن پینٹ، براٶن سویٹر اور گھِسے ہوٸے سفید جوگرز پہنے کہیں سے بھی مہذب نہیں لگ رہی تھی۔
*****
”او خدا! تمہارا فلیٹ کس قدر خوب صورت ہے۔“ دو کمروں کے اس چھوٹے سے صاف ستھرے فلیٹ کو دیکھ کر اس نے خوشی سے تعریف کی جسے ویرا نے مسکراتے ہوٸے سر خم کر کے وصول کیا۔
”تم یہاں میرے ساتھ رہو گی۔“ ویرا نے اس کا سامان کمرے کے ایک کونے میں رکھتے ہوٸے کہا۔
یہ ایک سادہ سا نفیس کمرہ تھا جس کے وسط میں ایک ڈبل بیڈ تھا۔ بیڈ کے داٸیں جانب دیوار کے ساتھ چھوٹی سی ڈریسنگ میز تھی جب کہ بیڈ کی پاٸنتی ایک تین سیٹر صوفہ تھا جس کے سامنے لکڑی کی ایک چھوٹی سی میز تھی۔ میز پر پڑے گلدان میں تازہ پھول موجود تھے۔ بیڈ کے باٸیں جانب ایک الماری تھی جو کپڑے جوتے رکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
”تمہارے ساتھ کیوں؟ کیا میں ساتھ والے کمرے میں نہیں رہوں گی؟“ میلانا کو فکر ہوٸی تھی۔
”نہیں تم اس کمرے کے قریب بھی نہیں پھٹکو گی۔“ ویرا نے انگلی اٹھا کر اسے سختی سے کہا۔
”کیا تم کچن میں جا رہی ہو؟ کیا تم مجھے کھانے کے لیے کچھ دے سکتی ہو؟ مجھے اس وقت شدید بھوک لگی ہے۔“ وہ باہر جانے لگی تو میلانا نے بیڈ پہ بیٹھتے ہوٸے پکارا۔
”ہاں کیوں نہیں! میں کھانے کا ہی انتظام کرنے جا رہی ہوں۔“ ویرا نے مسکرا کے اسے تسلی دی۔
”او گاڈ! تم کس قدر اچھی ہو! ایک تو تم نے مفت میں مجھے اپنے گھر میں جگہ دی اب کھانا بھی دو گی۔“ میلانا اٹھ کے اس تک آٸی اور اسے شانوں سے تھام کے رقت سے کہا۔
”مفت؟ تمہیں کس نے کہا کہ میں تمہیں یہاں مفت میں رکھوں گی؟ دراصل اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے میں کسی کرایہ دار سٹوڈنٹ کی تلاش میں تھی۔ قسمت سے تم مجھے مل گٸیں تو میں تمہیں ساتھ لے آٸی کیوں کہ تمہیں رہاٸش کی ضرورت تھی۔ یہاں رہنے کے لیے تمہیں ماہانہ 550 بیلاروسی روبل کرایہ ادا کرنا ہو گا۔ کھانے کی اشیا لانے کے لیے تمہیں نصف رقم ادا کرنا ہو گی۔ ایک دن تم کھانا بناٶ گی اور ایک دن میں بناٶں گی جب کہ برتن بھی تمہیں صاف کرنا ہوں گے۔ گھر کی صفاٸی میں خود کر لوں گی۔“ وہ جیسے جیسے بتا رہی تھی میلانا کی سبز آنکھیں دھندلاتی جا رہی تھیں۔ ویرا کے کندھوں پہ رکھے اس کے ہاتھ کب کے ڈھلک چکے تھے۔
”اب تم تازہ دم ہو جاٶ میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں۔“ ویرا نے نرمی سے اس کے گال کو چھوا اور باہر نکل گٸی۔
”خدا کرے تمہاری۔۔۔۔“
”مجھے بددعاٸیں دینے سے بہتر ہے کہ تم اپنا سامان ترتیب دے کے تازہ دم ہو لو!“ وہ جو دکھ سے بڑبڑاتے ہوٸے اسے کوٸی نادر قسم کی بددعا دینے والی تھی کچن سے آتی اس کی ہانک پہ بدمزہ ہوٸی۔
*****
منسک شہر جتنا خود صاف ستھرا تھا ویسی ہی اس کی یہ شام بھی صاف ستھری تھی۔ وہ ہاتھوں میں کیمرہ لیے پل پہ کھڑا مختلف زاویوں سے مسکراتا ہوا تصاویر اتار رہا تھا۔ یونہی اس نے کیمرہ گھمایا تو بے ساختہ ایک منظر کی تصویر اتار لی۔
اس دم توڑتی شام میں دریاٸے نیامیہ کے کنارے کھڑی وہ دن کے مقابلے میں ایک مختلف انسان لگ رہی تھی۔ آس پاس بہت سے لوگ خوش گپیاں کرتے، چہل قدمی کرتے قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اس کی سبز آنکھیں خلا میں کسی غیر مرٸی نقطے پہ جمی ہوٸی تھیں۔ اردگرد کا شور اس کا ارتکاز توڑنے میں ناکام تھا۔ خوشگوار ہوا اس کے سیاہ سلکی بالوں سے اٹھکھیلیاں کرنے میں مصروف تھی مگر سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی اس شفاف رنگت والی لڑکی کو اس سب سے کوٸی سروکار نہ تھا۔ نیلی جینز شرٹ اور سیاہ جوگرز میں سادہ سی کھڑی اس لڑکی میں عجب کشش تھی۔
وہ جو اس سے چند قدم کے فاصلے پہ تھا، چپکے سے زاویے بدلتے ہوٸے یکے بعد دیگرے اس کی کٸی تصاویر کیمرے کی آنکھ میں مقید کرنے لگا۔ اس کا دل اس لڑکی کو قریب سے دیکھنے کے لیے مچلا تھا۔ وہ جو اس منظر میں موجود ہوتے ہوٸے بھی اس کا حصہ نہیں تھی ناظرین کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
”بھرے پُرے مناظر کو بے دلی سے دیکھ کے اندر کا خلا کبھی نہیں بھرتا۔“ اس نے ایک دم چونک کے آواز کی سمت میں دیکھا جو اس کی پشت سے ابھری تھی۔
سیاہ جینز اور سفید سویٹر میں ملبوس ایک دراز قامت شخص اس کی بصارت کے پردے پہ ابھرا تھا۔
”بے خبری اچھی چیز ہے مگر ایسا بھی کیا کہ خدا کی قدرت کے عکاس مناظر بھی نظر انداز ہو جاٸیں۔“ وہ مسکراتا ہوا اس کے برابر کچھ فاصلے پہ آن کھڑا ہوا۔
میلانا یگور نے اسے مسکراتے ہوٸے دیکھا جس کے باٸیں گال میں ایک ہلکا سا گڑھا پڑ گیا تھا۔ گرے مسکراتی آنکھیں، ماتھے پہ گرتے بھورے بال، اس سے بالشت بھر دراز قامت، سرخ و سفید رنگت کا حامل وہ شخص اسے پہلی نظر میں خوبرو لگا تھا۔
”اور تمہیں کس نے کہا کہ میں بے خبر ہوں؟“ اسے منسک کے لوگوں کی بے تکلفی پہ تعجب ہو رہا تھا۔ ایک ویرا تھی جو اسے گھر لے گٸی (بعد میں اس نے میلانا کے ساتھ جو کیا وہ الگ بات ہے) ایک یہ شخص تھا جو زبردستی مسکراتا ہوا اس کی سوچوں میں مخل ہوا تھا۔
”جہاں سب لوگ اس منظر، اس موسم کا لطف لے رہے ہیں وہاں تم خلاٶں کو گھور رہی ہو۔ یہ لاتعلقی و بے خبری نہیں تو اور کیا ہے؟“ اس نے خون رنگ سورج کا عکس اپنے کیمرے سے امر کرتے ہوٸے کہا۔
میلانا نے اسے کوٸی جواب نہیں دیا۔
”ویسے میں لوگوں کے اندر کا حال ایک پل میں جان لیتا ہوں۔“ اس نے سلسلہٕ کلام وہیں سے جوڑا۔
”اوو! اب تم کہو گے کہ تم کوٸی جادوگر یا پامسٹ ہو۔“ میلانا نے اس کا مذاق اڑایا۔
”اونہوں! پامسٹ تو ہاتھ پڑھتے ہیں۔ میں ہاتھ نہیں پڑھتا۔“ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”اوہ! تو پھر تم کیا پڑھتے ہو؟“ اسے اس اجنبی کی باتیں دلچسپ لگی تھیں۔
”میں؟۔۔۔۔میں آنکھیں پڑھتا ہوں۔“ اجنبی نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوٸے کہا تو اس کے گلابی ہونٹوں کے کنارے تھرا اٹھے۔
اس پل منسک کی فضاٶں نے میلانا یگور کا پہلا بھرپور قہقہہ سنا تھا۔
وہ گردن داٸیں باٸیں جھٹکتی ہنستی جا رہی تھی اور کیمرے والے کا دل چاہا تھا کہ وہ اس لمحے کو زنجیر کر لے۔ منسک اس سے پہلے اسے اس قدر خوب صورت نہیں لگا تھا۔ نیامیہ دریا کا کنارہ اتنا پیارا کبھی نہ تھا۔
”ٹھیک ہے۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔تو مسٹر آٸی ریڈر میری آنکھیں پڑھ کے بتاٶ! مجھے اپنے اندر کا حال جاننا ہے۔“ وہ ابھی بھی اس کا مذاق اڑا رہی تھی۔
وہ دو قدم آگے بڑھا اور اس کے داٸیں شانے پہ اپنا ہاتھ مضبوطی سے جماتے ہوٸے اسے ساکت کیا۔ اب وہ اس کی سبز آنکھوں میں براہِ راست جھانکنے جا رہا تھا۔
اور یہ کیا؟
وہ فوراً ہی ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا تھا۔ یوں جیسے شکاری جس شکار کو اسیر کرنے آٸے خود اس کا اسیر ہونے کے خوف سے پیچھے ہٹ جاٸے۔
”کیا ہوا؟ میرے اندر کا حال تم پر نہیں کھلا کیا؟“ میلانا کو اس کے ردِ عمل پہ تعجب ہوا مگر لہجہ طنزیہ تھا۔
”نہیں۔۔۔۔کچھ نہیں! تم۔۔۔تم شاید بہت خالی ہو اندر سے۔ کچھ ہے جو تمہیں بے چین رکھتا ہے۔ اور۔۔۔اور تمہاری آنکھیں! حزن۔۔۔ملال۔۔۔گہراٸی۔۔۔اداسی۔۔۔کوٸی نوحہ۔۔۔کوٸی خوف ہے یہاں۔ تم وہ ہو نہیں ہو تم جیسی ہو۔“ اس نے بےترتیب انداز میں کہا تو میلانا نے خاموشی سے اسے دیکھا۔
وہ اسے دیکھے گٸی جو خود کو پرسکون کر رہا تھا۔
”ہاہاہا! یہ بہت اچھی کہانی تھی۔ آٸی ریڈر کا تو پتا نہیں مگر تم بہت اچھے کہانی کار بن سکتے ہو۔“ وہ ہنستے ہوٸے اس تک آٸی اور اس کے شانے سے نادیدہ گرد اڑاٸی۔
پُرفسوں شام اپنے اگلے پڑاٶ تک آ گٸی تھی۔ میلانا نے واپسی کے لیے قدم بڑھاٸے۔ جب کہ وہ پلٹ کر اسے رخصت ہوتے دیکھ بھی نہ پایا۔
”اور ہاں مسٹر!“ اس نے پلٹ کر پکارا تو وہ ایک جھٹکے سے پلٹا۔
گرے آنکھیں سبز آنکھوں سے ٹکراٸی تھیں۔
”واسل۔۔۔واسل موروز!“ اس نے جلدی سے اپنا نام بتایا۔
”جو بھی ہے۔ یہ جو تم نے بیک ٹو بیک میری سترہ تصاویر لی ہیں انہیں ضاٸع کر دینا۔“ اس نے سکون سے کہا تو گرے آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔
وہ جو اسے بے خبر سمجھ کے اس تک آیا تھا وہ اسے تصاویر کی تعداد بھی بتا رہی تھی۔
”وہ۔۔۔میں۔۔۔۔میں معذرت خواہ ہوں۔ میرا۔۔۔“ وہ شرمندہ ہوا تھا۔
”کوٸی بات نہیں۔ میلانا یگور اپنے آپ سے تو بے خبر ہو سکتی ہے مگر اپنے اطراف سے نہیں۔“ اس کی آنکھوں میں براہِ راست جھانکتے ہوٸے ٹھوس لہجے میں کہتی وہ پلٹ گٸی۔
واسل موروز کی آنکھیں اس کی پشت پر تھیں۔
سورج نے بھرپور مناظر دیکھتے ہوٸے شرارت سے دریاٸے نیامیہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوٸے ایک گہری ڈبکی لگاٸی۔
مصنوعی روشنیوں کی چمک تیز ہوٸی۔ مگر ان کی چمک دو گرے آنکھوں کی چمک کے سامنے ماند پڑ رہی تھی۔
کسی شریر بچے نے ایک بھاری پتھر دریا میں پھینکا تھا۔ سکون سے بہتے دریاٸے نیامیہ میں بالکل ویسا ہی شور اٹھا تھا جیسا کچھ دیر قبل میلانا یگور کی سبز آنکھوں میں اترتے ہوٸے واسل موروز کے پہلو میں اٹھا تھا۔
(جاری ہے)

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں