
ناول: طَپِش
از قلم: ماہم حیا صفدر
قسط: 02
یہ کسی شام کا منظر تھا جو دھواں دھواں تھی۔ آسمان کی طرف لپکتے شعلے اس منظر کو بھیانک بنا رہے تھے۔ وہ ایک مقفل عمارت تھی جہاں کتنے ہی چہروں سے بے بسی کا رنگ قطرہ قطرہ ٹپک رہا تھا۔
آگ۔۔۔!
شعلے۔۔۔!
آہیں۔۔۔!
آنسو۔۔۔!
چیخیں۔۔۔!
اضطراب۔۔۔!
بے بسی۔۔۔!
آگ کبھی اپنی فطرت سے بغاوت نہیں کرتی۔ سو اس نے سب کچھ جلا دیا تھا۔ اب وہاں زندگی کی راکھ تھی جس میں کسی سانس کی دبی چنگاری ڈھونڈنا بے سود تھا۔
منظر بدل چکا تھا۔
دھواں۔۔۔!
راکھ۔۔۔!
خاموشی۔۔۔!
بے بسی۔۔۔!
ایک بے بسی ہی تھی تو جو ان مناظر میں مشترک تھی۔
*****
اس نے آنکھ کھلتے ہی داٸیں باٸیں گردن گھما کے دیکھا۔ وہ کمرے میں اکیلی تھی۔ ویرا اور اس کا مشترکہ کمرہ نفاست اور سادگی کا آٸنہ دار تھا۔ اسے ویرا کی اس درجہ نفاست پسندی دیکھ کر اُبکاٸی آٸی۔ وہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ ویرا صفاٸی ستھراٸی کے معاملے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔ لیکن ویرا ابھی نہیں جانتی تھی کہ بےترتیبی پھیلانے میں میلانا یگور کا کوٸی ثانی نہ تھا۔
آج اسے پہلے دن یونیورسٹی جانا تھا۔ ایک نٸی زندگی، ایک نیا سفر اس کا منتظر تھا۔ اپنی ازلی کاہلی کو تکیے تلے رکھتے وہ اٹھ کھڑی ہوٸی کہ اسے ابھی تازہ دم ہونا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ نیلی جینز شرٹ پہنے، سیاہ بالوں کو پشت پر پھیلاٸے اپنا بیگ لیے کچن میں آن وارد ہوٸی۔ ویرا نہایت سلیقے سے ٹوسٹ پلیٹ میں سجا رہی تھی۔
”او خدا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے اتنی اچھی ہوسٹ سے نوازا جو میرے لیے ناشتے میں ٹوسٹ بنا رہی ہے۔“ میلانا نے صدقِ دل سے خدا کی اس عنایت پر شکر ادا کیا تھا۔
”تم شاید بھول رہی ہو کہ آج ناشتہ تمہیں بنانا تھا۔ لیکن تم شاہی اصطبل کے تمام جانور فروخت کر کے سوٸی رہی۔“ ویرا نے بُرا مناتے ہوٸے اُسے جھاڑا۔
”کیا تمہارے یہاں مہمان سے کام نہ کروانے کا کوٸی رواج نہیں؟“ میلانا نے منہ بسور کے کہا۔
”تم مہمان نہیں کراٸے دار ہو!“ ویرا نے اسے یاد دلایا۔
”ہاں ٹھیک ہے۔ اب کیا تم مجھے ناشتہ دو گی یا میں یونہی یونیورسٹی جاٶں؟“ اس نے ڈھٹاٸی سے ایک طرف چھوٹی سی میز کے سامنے پڑی دو کرسیوں میں سے ایک کرسی سنبھالی۔
”ہرگز نہیں۔ یہ میں نے اپنے لیے بنایا ہے۔“ ویرا نے چولہا بند کرتے ہوٸے جواب دیا۔
”خدا کرے کہ جب تم یہ ٹوسٹ کھاٶ تو تمہارے پیٹ میں۔۔۔۔“
”میں مذاق کر رہی تھی۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دو! یہ لو جلدی سے ناشتہ کرو! تمہیں دیر ہو رہی ہے۔“ اس سے قبل کہ اس کی بددعا مکمل ہوتی ویرا نے جھٹ دہل کے پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔
”ویرا! تم سچ میں بہت اچھی ہو۔ خدا تمہیں میری خدمت کرنے کی توفیق دے۔“ نم آنکھوں سے اسے دعا دیتی میلانا نے ٹوسٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھا تو ویرا نے اپنا سر پیٹ لیا۔
اس مختصر سے ساتھ میں اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ عجیب بلکہ بہت عجیب تھی۔
”جانے یہ ساتھ کب تک چلنے والا ہے اور اس میں کیا کیا ہونے والا ہے۔“ ویرا نے سوچ کے ایک گہری سانس بھری اور کافی مگوں میں نکالنے لگی کہ اسے بھی ناشتہ کرنا تھا۔
*****
ایک خوب صورت اجلا دن Minsk Innovation University کے در و دیوار پہ سایہ فگن تھا۔ یونیورسٹی میں مختلف علاقوں اور ملکوں سے آنے والے طلبا زیرِ تعلیم تھے۔ اس وقت بھی طلبا و طالبات کی کثیر تعداد یونیورسٹی کے احاطے میں ہونے والی ہلچل کی ضامن تھی۔ سٹوڈنٹس چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چلتے پھرتے اپنی اپنی کلاسز کی طرف رواں تھے۔
وہ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے سامنے کھڑا تذبذب کا شکار تھا۔ کلاسز شروع ہوٸے ہفتہ بھر ہو چلا تھا مگر وہ آج آیا تھا۔ اسے Humanities ڈیپارٹمنٹ جانا تھا کہ اس نے ماسٹرز ان ہیومنیٹیز میں داخلہ لیا تھا۔ یہ بھیڑ اسے گھبراہٹ کا شکار کر رہی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس میں اعتماد کی کمی تھی۔ بس اسے بھیڑ والی جگہوں میں اکثر گھٹن محسوس ہوتی تھی۔
”معاف کرنا! کیا تم مجھے ڈیپارٹمنٹ آف ہیومنیٹیز کا بتا سکتے ہو کہ کس طرف ہے؟“ اس نے اپنے پاس سے گُزرتے ہوٸے ایک لڑکے کو روک کے پوچھا جو کافی عجلت میں تھا۔
”ہاں! میں اسی طرف جا رہا ہوں۔“ سامنے والے نے بس پلٹ کر ایک نظر اسے دیکھا اور اسی رفتار سے آگے بڑھ گیا۔
”کیا تم فاٸنل ایٸر کے سٹوڈنٹ ہو؟“ وہ دوڑ کے اس کا ہم قدم ہوا۔
”نہیں!“ اس نے یک لفظی جواب دیا۔
اس نے ایک نظر اُس لڑکے کو دیکھا جو شکل سے معصوم اور حلیے سے کافی امیر لگ رہا تھا۔ اس کے کپڑے، جوتے، بیگ غرضیکہ ہر چیز اس کی امارت کی چغلی کھا رہی تھی ماسواٸے اس کی داٸیں کلاٸی پہ بندھی گھڑی کے جو کافی پرانی تھی۔
”او درست! پھر تو ہم کلاس فیلوز ہیں۔ میرا نام واسل موروز ہے۔“ اس نے بات براٸے بات اسے اپنا تعارف دیا اور ہاتھ ملانے کی غرض سے ہاتھ بڑھایا۔
”میں ارون بونڈر ہوں۔ تم سے مل کر اچھا لگا۔ امید ہے ہم اچھے کلاس فیلوز ثابت ہوں گے۔ یا پھر ہم اچھے دوست بن جاٸیں۔“ وہ اس کا ہاتھ تھامتے مسکرایا تو واسل اس کی بات سے محفوظ ہو کے ہنسا۔
”ہاں بالکل! جیسے تم نے مجھے آج کلاس کا راستہ دکھایا ہے، ہو سکتا ہے اس کے بدلے میں کبھی میں تمہیں زندگی میں کوٸی اچھا راستہ دکھاٶں۔“ واسل کے لہجے میں سچاٸی تھی۔ ان کا مطلوبہ ڈیپارٹمنٹ آ چکا تھا۔
ارون نے مسکرا کے اس کا شانہ چُھوا۔
”کیا یہ ڈیپارٹمنٹ آف ہیومنیٹیز ہے؟“ واسل کی پشت پر کوٸی جانی پہچانی سی آواز ابھری تھی۔
”آٶچ!“ ارون نے اپنی باٸیں آنکھ پہ ہاتھ رکھا جو میلانا کے بیگ کا نشانہ بن چکی تھی۔ ایک جھٹکے سے بھاگتی، بیگ کو سنبھالنے کے چکر میں وہ اسے ارون کی آنکھ پہ مار چکی تھی
واسل نے ایک نظر دیوار پہ لگی ڈیپارٹمنٹ کے نام کی تختی پہ ڈالی۔ اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتی وہ اپنی عجلت پر پشیمان ہوٸی۔
”میں معافی چاہتی ہوں۔“ اس نے واسل سے کہا۔
”حالاں کہ معافی تمہیں مجھ سے مانگنی چاہیے۔“ ارون نے اپنی آنکھ کو مسلتے ہوٸے تڑپ کے کہا۔
”اوہ میں تم سے بھی معافی چاہتی ہوں۔ دراصل میں نے تمہیں دیکھا نہیں۔ میرا نام۔۔۔“
”میلانا یگور ہے جو خود سے تو بےخبر ہو سکتی ہے مگر اپنے اطراف سے نہیں۔ اور یہ اپنے اطراف سے کس قدر باخبر ہوتی ہیں اس کا مظاہرہ یہ ابھی تمہاری آنکھ پھوڑ کے کر چکی ہیں۔“ واسل نے اس کی بات کاٹتے ہوٸے اس کا تعارف دیا۔
میلانا نے چونک کے اسے دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ شاید وہ شرارت کی چمک تھی کہ وہ اس کے الفاظ دہراتا ہوا اس کا مذاق اُڑا رہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ وہ اس سے پہلے مل چکی ہے۔
”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ اُسے واسل کا انداز برا لگا تھا۔
”کیا تم دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہو؟“ ارون نے انہیں الجھتے دیکھ کر حیرت سے پوچھا جو اب اس کی آنکھ کی فکر کرنے کی بجاٸے پرسنل ہو رہے تھے۔
”جی نہیں!“ میلانا نے سختی سے کہا۔
”جی ہاں! ہم کل شام دریاٸے نیامیہ کے کنارے ملے تھے۔“ وہ شاید اسے زچ کرنا چاہ رہا تھا۔
”جہاں یہ موصوف یہ دعویٰ کر کے لوگوں کہ آنکھوں میں جھانکتے پھر رہے تھے کہ یہ آنکھیں پڑھ سکتے ہیں۔“ وہ اس منظر کو یاد کر کے طنزیہ ہنسی۔
”کیا واقعی؟ کیا تم آنکھیں پڑھ سکتے ہو؟“ ارون نے پُرتجسس ہو کے واسل سے پوچھا تو وہ بدمزہ ہوٸی۔
”ہٹو! میرا راستہ چھوڑو! میں یہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آٸی ہوں۔ میرے پاس تم جیسے فالتو لوگوں سے فالتو بحث کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پتا نہیں صبح ہی صبح کہاں سے تم لوگ میرا راستہ کاٹنے آ گٸے۔“ ایک ادا سے اپنے ریشم ایسے بالوں کو جھٹک کے ارون کو ایک طرف دھکیلتی وہ آگے بڑھ گٸی۔
”کیا واقعی؟“ ارون نے تعجب سے واسل کو دیکھا جس کا منہ حیرت سے کھلا تھا۔
دو پل وہ دونوں ایک دوسرے کو خاموشی اور سنجیدگی سے دیکھتے رہے۔ پھر ایک ساتھ ابلتے ان کے قہقہوں نے کاریڈور میں جاتی میلانا یگور کا پیچھا کیا تھا۔
”خدا کرے کہ ان کے دانتوں میں ایسے کیڑے لگیں جو دنیا میں بننے والے کسی بھی ٹوتھ پیسٹ سے ختم نہ ہو سکیں۔“ وہ خفگی سے پیر پٹخ کے بڑبڑاٸی تھی۔
*****
سُرخ پتھر اور شیشے کے منفرد امتزاج کی آٸینہ دار BK Pharma میں معمول کی ہلچل تھی۔ اپنے مالک کی اٹھی ہوٸی گردن کی طرح یہ عمارت بھی بلند و بالا اور کشادہ تھی۔ اپنی کارکردگی کی بدولت یہ فارما کمپنی منسک کی ہی نہیں بلکہ بیلاروس کی سب سے بڑی فارما کمپنیز میں سرِ فہرست تھی۔ اس کمپنی کا خواب مسٹر ایڈروڈ اور ان کے بزنس پارٹنز مسٹر رامن کوٹ نے اب سے گیارہ سال قبل دیکھا تھا۔ اس میں کوٸی دو راٸے نہیں کہ ان کے اس خواب کو شرمندہٕ تعبیر رُسلان نے کیا تھا۔ یہ اُس کی محنت ہی تھی کہ گزشتہ پانچ سالوں سے BK Pharma کا مقابلہ کرنے کی سکت کسی بھی دوسری فارما کمپنی میں نہ تھی۔
مسٹر ایڈروڈ اور مسٹر رامن کی شراکت داری چوبیس سال پرانی تھی۔ BK Pharma میں وہ دونوں پچاس پچاس فیصد کے شراکت دار تھے۔ اسی طرح KB Textiles میں بھی دونوں شراکت دار تھے۔ فارما کمپنی کا سی ای او متفقہ راٸے سے رُسلان کو بنایا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کمپنی میں باقیوں کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کمپنی کو شہرت کی ان بلندیوں پر لے گیا جس کا تصور مسٹر ایڈورڈ اور مسٹر رامن نے کبھی خواب میں بھی نہیں کیا تھا۔
وہ دونوں بزنس میں برابر کے شراکت دار تھے مگر پھر بھی دولت و شہرت میں کوٹ فیملی بونڈرز کی ہم پلہ نہ تھی۔ شاید کوٹ فیملی میں کوٸی رُسلان نہ تھا کہ دولت کی دیوی جس کی داسی تھی۔
بی کے فارما عمارت کی شیشے کی پیشانی پہ جَڑی میٹل سے بنی تختی سورج کی کرنوں کو منعکس کر رہی تھی۔
شیشے کی دیوار کے اِس پار سے دیکھا جا سکتا تھا کہ دوسرے فلور پہ بنے اپنے دفتر میں سربراہی کرسی پہ بیٹھا رُسلان سامنے بیٹھے شخص اور اس کی باتوں کو بُری طرح نظر انداز کر رہا تھا۔
سامنے والا غصے سے لال پیلا ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بلا کی سختی تھی۔ بولتے بولتے اُس نے شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کے اپنے دونوں ہاتھ میز پر دے مارے۔
رُسلان نے ایک نظرِ ناپسندیدگی اس کے بگڑے ہوٸے نقوش پر ڈالی اور دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
سامنے والے نے اُسے داٸیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھا کر خبردار کیا تھا۔ رُسلان نے ناک پر سے مکھی اُڑاتے ہوٸے دوبارہ دروازے کی جانب اشارہ کیا۔
وہ مشتعل شخص بکتا جھکتا اس کے دفتر سے نکل چکا تھا۔ اب اس کشادہ کمرے میں وہ اکیلا تھا جو ابھی بھی کافی پُرسکون اور مطمٸن نظر آ رہا تھا۔ اس نے سلیقے سے بنے ہوٸے اپنے بالوں کو ایک ادا سے چھُوا تھا۔ شاید یہ اُس کی عادت تھی۔
وہ زیرِ لب کچھ بڑبڑایا تھا جو دو شیشے اور دو سرخ پتھر کی دیواروں میں کندہ ہو گیا تھا۔
ان دیواروں کو اُس کا پُرسکون چہرہ حفظ ہو چکا تھا۔ اُس کی انہی عادتوں اور خوبیوں نے اُسے کم عمری میں ہی اس قدر کامیاب بزنس مین بنایا تھا۔ کسی نے اُسے کبھی کسی پر غصہ ہوتے نہیں دیکھا۔ وہ مخالف سے بھی مسکرا کر بات کرتا تھا۔ وہ کم مگر ستھری اور بادلیل گفتگو کرنے کا عادی تھا۔
آنکھیں بند کیے اُس نے مسکرا کے ایک اور سرگوشی اس کشادہ کمرے کی فضا کے سپرد کر دی تھی۔
*****
”صاحب مجھے میری بچی تلاش کر دیں! آپ نے کل بھی میری درخواست پر غور نہیں کیا۔“ وہ پچپن سالہ محنت کش پولیس اسٹیشن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا گڑگڑا رہا تھا۔
”پاگل بُڈھے! خاموش ہو جاٶ! خدا کے لیے خاموش ہو جاٶ! یہ تمہارا گھر نہیں مارک کا تھانہ ہے۔“ دروازے پر کھڑے ایک اہلکار نے اسے ڈپٹ کر پیچھے دھکیلا تو وہ سڑک کنارے کھڑی جیپ سے آن ٹکرایا۔
وہ کل سے یہاں کے تین چکر لگا چکا تھا مگر اس کی شنواٸی نہیں ہونے پا رہی تھی۔ ابھی بھی اسے اندر داخل ہونے سے منع کر دیا گیا تھا۔ وہ صبح آٹھ بجے آیا تھا اور اب بارہ بجنے کو تھے۔
”صاحب خدا کے لیے میری بیٹی کو ڈھونڈ دیں!“
اس نے جونیٸیر لیفٹینینٹ مارک کو جیپ کی طرف آتے دیکھا تو لپک کر اس کے سامنے آ گیا۔ مارک نے ناپسندیدگی سے اسے دیکھ کے ایک گہری سانس خارج کی۔
”کیا تمہاری بیٹی ابھی تک گھر واپس نہیں آٸی؟“ اس نے جان چھڑانے کے لیے پوچھا۔
”نہیں صاحب! میری بیٹی ہر روز کالج سے دو بجے تک واپس آ جاتی ہے۔ کل شام چار بجے تک وہ گھر نہیں لوٹی تو میں یہاں درخواست کرنے آیا کہ میری بچی کو ڈھونڈ دیجیے۔“ بوڑھا وہی کہانی سنا رہا تھا جو مارک پہلے بھی سن چکا تھا۔
”ہو سکتا ہے وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ ہو۔“ مارک نے کلاٸی پہ بندھی گھڑی کو دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ بوڑھا آسانی سے اس کی جان نہیں چھوڑے گا۔
”نہیں صاحب! ہم نے اُس کے کالج میں سب سے پتا کر لیا ہے۔ وہ کالج بند ہونے کے بعد معمول کے مطابق ٹرام اسٹیشن کے لیے روانہ ہوٸی تھی مگر وہاں تک نہیں پہنچی۔ ہم نے اس کے سب دوستوں سے بھی پوچھ لیا ہے مگر کسی کو اُس کے بارے میں علم نہیں ہے۔“ وہ اب باقاعدہ رونے لگا تھا۔
”تم پریشان مت ہو! میں تمہاری شکایت درج کر لیتا ہوں۔ اب تم گھر جاٶ!“ مارک نے اسے تسلی دیتے ہوٸے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا تو وہ اُسے دعاٸیں دیتا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔
وہ جو کسی کام سے اس طرف آیا تھا، سڑک پر ایک ضعیف ساٸل کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ دیکھ کر دل گرفتہ ہوا۔ اپنی باٸیک کو آہستگی سے آگے بڑھاتا وہ اس بوڑھے شخص کے پیچھے ہو لیا۔
”کیا میں آپ کی کوٸی مدد کر سکتا ہوں؟“ سر جھکا کے شکستگی کا بوجھ اٹھاٸے چلتے بوڑھے کے پاس باٸیک کو روکتے ہوٸے اس نے نرمی سے کہا تو وہ چونک کے رکا۔
”میں سیم ہوں! ساٸمن! میں یہاں نزدیکی بیکری میں کسی ذاتی کام سے آیا تھا۔ ابھی واپس جا رہا تھا کہ آپ کی تکرار سن کر ٹھہر گیا۔ آپ اپنی بیٹی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔“ سادہ سے معقول حلیے والے اس نوجوان نے باٸیک سے اترتے ہوٸے جلدی سے کہا۔
”ہاں! میری بیٹی کل سے لاپتا ہے۔ میں کل سے یہاں کے چکر لگا رہا ہوں مگر یہ لوگ میرے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ نہ جانے میری بیٹی کس حال میں ہو گی؟“ بیٹی کے ذکر پہ اس کی بوڑھی آنکھیں کھارے پانیوں سے بھر گٸیں۔
”آپ پریشان مت ہوں! آپ مجھے سب تفصیل سے بتاٸیں!“ سیم نے انہیں پرسکون کرنا چاہا۔
”کیا تم میری بیٹی کو ڈھونڈ دو گے؟“ بوڑھے کی آنکھوں میں آس کے دیپ جَگے تھے۔
”نہیں۔۔۔! لیکن میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اسے ڈھونڈ سکتا ہے۔“ سیم نے یقین سے کہا تو بوڑھے نے امید کی ڈور کا ایک سرا مضبوطی سے اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔
”آپ کا گھر کہاں ہے؟ میں آپ کو وہاں لے جاتا ہوں۔ وہاں آپ مجھے تفصیل سے سب بتاٸیے گا۔“ سیم نے اردگرد دیکھتے ہوٸے پوچھا تو وہ اپنے گھر کا پتا بتانے لگا۔
*****
یہ رات تھی۔ ایک ایسی مصنوعی اُجلی رات جو اُس کے اندر پھیلی تاریکی کو دوچند کر رہی تھی۔
سیاہ جینز شرٹ میں ملبوس وہ بھاگ رہا تھا۔ جس قدر تیزی سے اس کے قدم اٹھ رہے تھے گمان ہوتا تھا کہ وہ خود سے بھاگ رہا ہے۔ اس کے بکھرے بال مزید بکھرتے جا رہے تھے۔ سڑک پر وقفے وقفے سے گزرتی گاڑیوں اور لوگوں کا شور اس کے سینے کی دیواروں سے ٹکراتی چیخوں کو نگلنے سے قاصر تھا۔
اوندھے پڑے آسمان پہ چمکتے ستاروں نے دیکھا تھا کہ اس کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹے تھے اور وہ سڑک کنارے بھاگتا جا رہا تھا۔
کچھ بوجھ اس قدر بھاری ہوتے ہیں کہ انہیں اٹھا لیں تو شانے جھک جاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ انکشاف اس قدر بھاری ہوتے ہیں کہ اٹھا لیے جاٸیں تو دل رُکنے لگتا ہے۔ اس پہ آگہی کے دوزخ کا جو در وا ہوا تھا اس کی روح تک جھلس گٸی تھی۔
وہ شاید اپنی شناخت کے لیے بھاگ رہا تھا۔
وہ شاید آگہی کے دوزخ سے فرار کے لیے بھاگ رہا تھا۔
انسان واقعی ناشکرا ہے۔ جب قدرت اسے بے خبر رکھتی ہے تو دل میں کنڈلی مار کے بیٹھا تجسس کا ناگ پل پل اُسے ڈستا رہتا ہے۔ وہ ہر حجاب الٹ دینا چاہتا ہے۔ وہ ہر راز کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑنے کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن جب قدرت اسی انسان کی بصارت پہ پڑے غفلت کے پردے چاک کر دے تو وہ حقیقت کا منکر ہو جاتا ہے۔ اس پھوٹی ہنڈیا سے اگر من چاہا مسالا نہ ملے تو قدم راہِ فرار کی دھول چکھنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔
اُس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔
وہ قدرت سے شکوہ کناں تھا۔
شیطان کی آنت ایسی لمبی Independence Avenue سٹریٹ میں بھاگتے بھاگتے وہ تھک چکا تھا۔ گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے وہ جھُکتا چلا جا رہا تھا جب اس کی جیب میں رکھا موباٸل فون کسی نٸی نویلی دلہن کے ہونٹوں کی طرح تھرایا اور وہ چونک گیا۔
اُس نے سیدھے ہوتے ہوٸے ایک گہری سانس خارج کی اور موباٸل جیب سے نکالا۔ سکرین پر ایک خالی پیغام کھل گیا۔ اس کے ابرو سُکڑ گٸے۔
اس نے اردگرد دیکھا اور اپنی منزل کا تعین کرنے لگا۔
یقیناً وہ اس پیغام کا مطلب اور مقصد جانتا تھا۔
*****
منسک کی دیگر گلیوں کی نسبت یہ تنگ گلی اس وقت سنسنان تھی۔ وہ ایک دیوار سے گھٹنا موڑ کے پیر ٹکاٸے نسبتاً تاریک حصے میں کھڑا تھا۔ گلی کی نکڑ پہ لگے لیمپ پول سے نکلتی پیلی روشنی میں ایک ساٸے نے جنم لیا جو اُس کی جانب بڑھا۔
”کیا بات ہے؟ تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟“ وہ اس کے سر پہ پہنچ چکا تھا۔
”دراصل ایسا ہے کہ آج دن میں۔۔۔“ وہ سیدھا ہوتے ہوٸے دھیمی آواز میں بتانے لگا۔
”اپنی آج کی ڈاٸری سنانے کی بجاٸے سیدھا مدعے پہ آٶ!“ اُس نے بیزاری سے ٹوکا تو سیم نے ایک گہری سانس خارج کی۔
وہ اُسے اچھی طرح جانتا تھا۔ ہاں! وہ ایسا ہی تھا۔
”یہ رُسزا ہے۔“ سیم نے کوٹ کی اندرونی جیب میں سے ایک تصویر نکال کر اُسے تھماٸی۔
”تُو؟“ ایک سولہ سترہ سالہ خوب صورت نقوش والی لڑکی کی مسکراتی تصویر دیکھ کر اُس نے داٸیں ابرو اچکایا۔
سیم نے تحمل سے سانس اندر کھینچی کہ اُس کے ساتھ بات کرنا کبھی آسان نہ رہا تھا۔
”یہ لڑکی کل سے غاٸب ہے۔ اس کے بوڑھے باپ کا کہنا ہے کہ وہ حسبِ معمول کالج گٸی تھی مگر واپس نہیں لوٹی۔“ سیم نے بتایا تو وہ جیسے بُرا مان گیا۔
”یہ پولیس کا کام ہے سیم! اُسے چاہیے کہ۔۔۔“
”وہاں اُس کی درخواست پر غور نہیں کیا گیا۔ میں بوڑھے سے وعدہ کر چکا ہوں کہ ہم اُس کی بیٹی کو ڈھونڈیں گے۔“ اس نے زور دیا۔
”میں فی الوقت کسی کی کوٸی مدد نہیں کر سکتا۔ مجھے اس سب سے معاف رکھو!“ اس نے بے دلی سے تصویر اسے تھما دی۔
”لیکن۔۔۔“
”مہربانی کرو اور یہاں سے جاٶ! ہم یہ سب چھوڑ چکے ہیں۔“ وہ بیزار ہوا تھا۔
”تم شاید بھول رہے ہو کہ یہ تمہی تھے جو سب کی مدد کرنے کا درس دیتے تھے۔“ سیم نے اسے یاد دلایا۔
”ہاں مگر اب میں خود مدد لینے کی نہج پہ پہنچ چکا ہوں۔“ اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جس نے سیم کو چونکا دیا۔
”کیا تم ٹھیک ہو؟“ اُسے تشویش ہوٸی تھی۔
”نہیں! مجھے کچھ دن اکیلا چھوڑ دو!“ وہ کہہ کے پلٹ گیا۔
ایک بات تو طے تھی کہ وہ اس سے کچھ بھی نہیں چھپاتا تھا۔ سیم نے اُسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا جو بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر بے بسی سے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو دیکھا اور مخالف سمت چل دیا۔
*****
وہ دونوں اسے ڈیپارٹمنٹ سے ملحقہ لان میں نظر آٸے تھے۔ ارون سنگی بینچ پہ قدرے پریشان بیٹھا تھا جب کہ واسل اُس سے کچھ کہہ رہا تھا۔ کلاس میں جانے کا ارادہ ترک کر کے وہ ان دونوں کی طرف چلی آٸی۔ کل ہونے والی تعارفی گفتگو کے بعد انہوں نے دوستانہ ماحول میں بات چیت کی تھی۔ قوی امکان تھا کہ جلد وہ تینوں بہت اچھے اور مثالی دوست بن جاٸیں گے۔
”ہیلو!“ اس نے جوش سے قریب پہنچ کر ان دونوں کو متوجہ کیا۔
”اِسے کیا ہوا ہے؟“ ارون کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔
”ارون کی رِسٹ واچ کل یونیورسٹی میں کھو گٸی تھی۔ یہ اُسی کو لے کر افسردہ ہے۔“ واسل نے اسے آگاہ کیا۔
”اووو! یہ بہت افسوس ناک خبر ہے۔ ہو سکتا ہے تمہاری گھڑی یونیورسٹی میں نہیں بلکہ کہیں اور کھوٸی ہو۔“ میلانا اپنے بیگ کی زپ بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو اس کے داٸیں شانے پہ جھول رہا تھا۔
”نہیں کل تم لوگوں سے الوداعی مصافحہ کرنے سے قبل گھڑی میری کلاٸی پر ہی تھی۔ لیکن جیسے ہی میں پارکنگ تک گیا وہ وہاں موجود نہیں تھی۔“ ارون نے دکھ سے کہا۔
“اب جانے بھی ارون! وہ اتنی مہنگی بھی نہیں تھی کہ تم اُس کے کھو جانے پر سوگ مناٶ۔“ واسل پچھلے بیس منٹ سے اُس کی دلجوٸی کرتا اکتا سا گیا تھا۔ اُسے وہ پرانی سی گھڑی پہننے کے قابل بھی نہیں لگی تھی کُجا اُس کے کھونے پر افسوس کیا جاٸے۔
”وہ مہنگی نہ سہی لیکن میرے لیے بہت قیمتی تھی۔ وہ میری پسندیدہ عورت نے مجھے تحفہ کی تھی۔“ اس نے قیمتی لفظ پہ زور دیا۔
”میں معافی چاہتا ہوں!“ واسل کو اس گھڑی سے اُس کی جذباتی وابستگی کا اندازہ نہیں تھا۔
”تحفے میں ملی چیزوں کا کیا ہے ارون؟ وہ اتنی قیمتی نہیں ہوتیں۔ چیزیں تو استعمال ہو جاتی ہیں، ختم ہو جاتی ہیں اور۔۔۔اور کھو بھی تو جاتی ہیں۔ کوشش کرو کہ تحفہ دینے والے لوگ نہ کھو جاٸیں۔“ واسل نے سنجیدگی سے کہا۔
”کیا وہ گھڑی تمہاری محبوبہ نے دی تھی؟“ میلانا نے شرارت سے کہا۔
”ضروری نہیں کہ پسندیدہ عورت محبوبہ ہی ہو۔ وہ میری بہن کا تحفہ تھا۔“ اسے میلانا کا مذاق برا لگا تھا اس لیے بیگ اٹھا کے چل دیا۔
”اور ہاں واسل! جب تحفہ دینے والے کہیں کھو جاٸیں اور ہم انہیں کوشش کے باوجود بھی ڈھونڈ نہ پاٸیں تو ان کے دِیے تحاٸف کو دیکھ کر ہی ہم اچھے وقتوں کو یاد کرتے ہیں۔“ وہ پلٹ کر واسل تک آیا تھا۔
انہیں اس کی آنکھوں میں کرب نظر آیا تھا جسے وہ نچلا لب کچلتے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اپنی بات کہہ کے وہ رکا نہیں۔
وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر خجل سے کھڑے تھے۔
”کیا تم اب یہیں کھڑی رہو گی؟“ واسل نے گہری سانس بھر کے ساکت کھڑی میلانا کو مخاطب کیا۔
”ہاں۔۔۔میں وہ بس۔۔۔میرے بیگ کی زپ بند نہیں ہو رہی۔“ اس نے باٸیں ٹانگ کو معلق کر کے گھٹنا موڑا اور شانے سے اتار کے بیگ وہاں رکھا۔ اب اس نے پوری قوت سے زپ کو کھینچا تھا۔
لیکن یہ کیا؟ ایک جھٹکے میں زپ اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کا بیگ بمعہ ساز و سامان زمین بوس ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ جھک کر اپنی چیزیں سمیٹتی واسل کی نظریں اس کی قدم بوسی کرتی ایک پرانی سی گھڑی پہ پڑ چکی تھیں۔
اس نے جھک کر وہ گھڑی اٹھاٸی جو ارون کی تھی۔ گرے آنکھوں میں دنیا جہان کی حیرت تھی۔ گھڑی کو سٹریپ سے پکڑے وہ سیدھا کھڑا ہوا۔ میلانا نے مارے شرمندگی کے آنکھیں زور سے میچیں۔
”یہ۔۔۔یہ تمہارے پاس کیا کر رہی ہے؟“ وہ بے یقین تھا۔
میلانا نے ایک ہاتھ سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپا۔
وہ زمین پر دوزانو ہوا۔ وہاں بہت سی ایسی چیزیں بکھری تھیں جنہیں دیکھ کر اسے حیرت ہوٸی۔
وہاں ایک پین تھا جو واسل کا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے بیگ کی تلاشی لی۔ اس کا پین اس کے بیگ میں نہیں تھا۔
ماچس، کانٹا، ہیٸر بینڈ، چیونگ گم، پیپر ویٹ، بال پواٸنٹس، ایک نوٹ بک جس پر ان کی کلاس کے کسی لڑکے کا نام لکھا تھا اور ایسی ہی بے شمار چھوٹی چھوٹی بے ضرر چیزیں جو یقیناً کلاس کے دیگر سٹوڈنٹس کی ملکیت تھیں۔
”یہ نوٹ بک کس کی ہے؟“ وہ نوٹ بک پہ لکھا نام پڑھنے سے قاصر تھا سو درشتی سے پوچھا۔
”شاید اس موٹے ازبک لڑکے کی جو میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔“ اس کی آواز احساسِ شرمندگی کے بوجھ تلے دبی ہوٸی تھی۔
”میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس قدر شرمناک کام کر سکتی ہو۔ تم نے ارون کی واچ چراٸی؟ تم نے میرا پین چرایا؟ تم نے؟ تم نے کس کس کا کیا کیا چرایا ہے؟ اوو خدا!“ واسل نے نفی میں سر ہلاتے ہوٸے بے یقینی سے کہا۔
”نہیں۔۔۔۔نہیں! میں وضاحت کر سکتی ہوں۔“ اس نے جلدی سے کہا۔
”کیا چوری کی بھی کوٸی وضاحت ہوتی ہے؟ میں دیکھ چکا ہوں کہ تم کتنی بڑی چورنی ہو۔“ دریاٸے نیامیہ کے کنارے ڈھلتی شب کا فسوں ٹوٹ چکا تھا۔
گرے آنکھوں میں بلا کا تنفر اور بے یقینی تھی۔
”میں چورنی نہیں ہوں!“ میلانا کا دل مٹھی میں آ گیا۔ اس کا لہجہ زخمی تھا۔ اس کی آواز رندھ گٸی تھی۔
”میں تمہاری کسی بات کا یقین نہیں کر سکتا۔ میں یہ سب چیزیں کلاس میں لوٹانے جا رہا ہوں۔“ وہ جلدی جلدی چیزیں سمیٹنے لگا۔
ہیٸر بینڈ، کانٹا، ماچس اور اس کی ذاتی نوٹ بک کو چھوڑ کے جن چیزوں کی میلانا نے نشاندہی کی اس نے اٹھا لیں۔
”میں چورنی نہیں ہوں واسل!“ اس کی پشت پہ اس کی کانپتی آواز ابھری تو وہ پلٹا۔
”تم۔۔۔۔میلانا یگور! تم جہنم میں جاٶ!“ وہ گرجا تو میلانا یگور کا دل سہم گیا۔ وہ کہہ کے رکا نہیں۔
”وہ کلاس میں جا کے سب کو میرے بارے میں بتا دے گا۔“ اس نے خود کلامی کی۔
شرمندگی، بے بسی اور خوف کی ایک لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ گٸی۔
اسی دم منسک کی فضاٶں نے میلانا یگور کی پہلی بھرپور ہچکی سنی۔ موسم گواہ ہو گیا کہ ان فضاٶں میں گھلنے والے میلانا یگور کے پہلے قہقہے اور پہلی ہچکی کی وجہ ایک ہی شخص تھا۔
واسل موروز!
(جاری ہے