نیلم(بی بی سی/ ضیاء سرور) بھارتی فوج کی کشمیری خواتین کی عصمت دری کے خلاف گورنمنٹ گرلز ہوئی سکول آٹھمقام کی طالبات نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے کی صدارت ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محترمہ زاہدہ اشرف کر رہی تھیں۔ اس موقع پر نائب تحصیلدار ہیڈکواٹرز خواجہ فاروق احمد اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر خواجہ منشاء انجم بھی موجود تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نسواں محترمہ زاہدہ اشرف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 23 فروری 1991 کی شب ضلع کپواڑے کے علاقے کنان اورپوشپورہ کی خواتین کیلئے قیامت سے کم نہیں تھی جب انڈین سفاک آرمی نے تحریک آزادی کشمیر کے مجاہدین کے خلاف نام نہاد آپریشن کے نام پر منصوبہ بندی کے ساتھ سینکڑوں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ آج بھی ان میں سے کئی خواتین انصاف کیلئے ترس رہی ہیں ۔ مگر بھارت کشمیر پر غیر قانونی قبضے اور آئینی دہشتگردی سمیت کشمیریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی انسانی /خواتین حقوق کے اداروں سے متاثرہ خواتین کو بالخصوص اور مظلوم کشمیری خواتین جو آئے روز ہندوستانی فوج کی سفاکیت کا نشانہ بنتی ہیں کو انصاف دلانے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ بھارت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیر ی خواتین کے جذبہ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ کشمیری خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تحریک آزادی کشمیر کے حصول تک بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گی۔ احتجاجی ریلی سے نائب تحصیلدار ہیڈکواٹرز خواجہ فاروق احمد اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر خواجہ منشاء انجم نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کیلئے کشمیری خواتین کا کردار نمایاں رہا ہے۔ 23 فروری 1991 کی اس ہولناک شب کو ہندوستانی افواج نے نہ صرف کشمیری خواتین کی عصمت دری کی بلکہ مردوں کو شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔ بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا۔ کشمیری اپنی آزادی اور جائز حق حق خودارادیت کیلئے آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ احتجاجی ریلی کے دوران طالبات نے 23 فروری 1991 بھارتی فوج کی منصوبہ بندی کے ساتھ کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی مذمت کی اور بھارت مخالف نعرے بازی کی۔
0