0

آزاد کشمیر کی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ


آزاد کشمیر کی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ۔
کشمیر ھاوس اسلام آباد جسے حکومت آزاد کشمیر کا دوسرا گھر کہا جاتا ہے جس کا بجٹ کروڑوں روپے میں ھے،مگر بدقسمتی سے صاف پینے کے پانی کے لیے فلٹریش پلانٹ کے پیسے نہیں تھے جو کہ ایک این جی او کی مدد سے کشمیر ھاوس میں لگانا پڑا یہ حکومتی نمائندوں کے ڈوب مرنے اور وہاں پر قیام کرنے والی آزاد کشمیر کی بیوروکریسی کے لیے بھی لمحہ فکریہ ھے ، ایسے ادارے کا سہارا لے کر فلٹریش پلانٹ لگایا گیا جس کے پیسوں سے کسی ایسی جگہ پر یہ پلانٹ لگایا جا سکتا تھا جہاں اس کی اصل ضرورت تھی ۔میری اس تحریر کے بعد کشمیر ھاوس جانے والے اس فلٹریش پلانٹ کو دیکھ کر ضرور آزاد کشمیر کی حکومت اور بیوروکریسی پر ماتم کریں گے ۔ اور اپنے ضمیر سے پوچھیں گے کہ کیا اس ہاؤس میں ایک ایسے ادارے کی رقم سے پلانٹ لگوانا درست عمل ھے جن کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت ھے نہ کہ حکومت کو انکی ۔میرا ضمیر تو کہتا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس فلٹریش پلانٹ پر خرچ ھونے والی رقم اس ادارے کے اکاؤنٹ میں جمع کرواے تاکہ ان پیسوں سے کسی غریب بستی میں فلٹریشن پلانٹ نصب کیا جا سکے۔
ضیاء سرور قریشی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں